گزشتہ دنوں ہندوستان کی دو بھاجپائی ریاستوں میں ماب۔لنچنگ کی واردات ہوئی تھی۔ پہلا واقعہ شیوراج سنگھ چوہان کے مدھیہ پردیش میں شاجا پور سے ہے جہاں بھگوا دھاری بھیڑ نے نہایت درندگی سے 70 سالہ ضعیف بزرگ حاجی فردوس کو بےرحمی سے پیٹا دونوں پیر اور بازو توڑ دیے، اس بوڑھے کے سر پر دھاردار ہتھیار سے وار کیا گیا، وہ تقریباﹰ ۹ ۔ ۱۰ دنوں سے ہسپتال میں بھرتی تھے۔ اور بالآخر آج شہید ہوگئے

دوسرا واقعہ یوگی آدتیہ ناتھ کے راون راجیہ بریلی اترپردیش سے ہے وہاں، ریحان اور شاہ رخ کو سَنگھی بھیڑ نے چوری کے الزام میں پکڑ کے پیٹا، شاہ رخ کا علاج چل رہا ہے، لیکن ریحان زخموں کی تاب نہ لا کر بالآخر چل بسا _

حاجی فردوس کے کچھ قاتل گرفتار اور کچھ فرار ہے وہیں ریحان کے قاتلوں کے خلاف ابھی ایف آئی آر ہوئی ہے اور نندن سنگھ کو گرفتار کیا گیا ہے

لیکن مجھے یقین ہیکہ، حاجی فردوس اور ریحان کے قاتلوں کو انصاف نہیں ملےگا، سابقہ ماب لنچنگ کے مجرموں کی طرح انہیں بھی دیر سویر راحت دے دی جائے گی، اگر ماب۔لنچنگ کے کسی ایک مجرم کو پھانسی ہوئی ہوتی تو یہ سَنگھی دہشتگردی ٹھہر چکی ہوتی، یہ کھلی ہوئی دہشتگردی ہے، یہ جانور پن ہے، یہ برہمنوں کا پھیلایا ہوا اسلام۔مخالف زہر ہے جو اب ہندو نام والے بےروزگار جاہلوں کے منہ لگ چکاہے ان کی بھوک کہیں کہیں جاگتی رہتی ہے، جب تک حکومت نہیں چاہے گی اس سلسلے کو کوئی روک نہیں سکتا، جب تک ریاستی مشنری ماب۔لنچنگ کے خلاف عبرتناک ایکشن نہیں لے گی یہ اکثریتی جنون کی سنگھی دہشتگردی تھمنے والی نہیں، لیکن وہ لوگ روکنے تیار نہیں ہیں، کیونکہ وہ آنے والے ہندوراشٹر کے لیے نئے شودر اور نئے بھیڑیے تیار کررہےہیں، جن کی برپا کی ہوئی فسادی دنیا کے پسِ پردہ ان کا فاشسٹ استعمار کھڑا ہوگا، ماب۔لنچنگ ان کے ایجنڈے میں شامل ہے، لیکن سوال یہ ہیکہ کیا ہم اُن کے ایجنڈے کیلیے اپنی قوم کو ایسے مظالم کی بھینٹ چڑھانے تیار ہیں؟

اور ہم، ہم بالآخر اُس حال پر جا پہنچے ہے جس خطرے کا احساس ہم ماب۔لنچنگ کی ابتداء میں کرچکے تھے کہ اگر ابھی اس کیخلاف باعزت اقدامات نہیں کیے گئے تو ایک دن یہ ذلت آمیز مظالم سہنے اور برداشت کرنے کی عادت ہوجائے گی،

دیکھیے اپنے آس۔پاس حاجی فردوس اور ریحان کی ظالمانہ موت پر غیرت کا ہلکا پن نظر آجائے گا، اب آپ سے یہ کہا جائےگا کہ، ان واقعات پر زیادہ غیرت و حمیت کا مظاہرہ نا کرو، ناانصافی کے قانونی مراحل پر یقین رکھو ان شاءالله مظلوموں کی آنے والی نسلوں کو یہ عدالتیں ” انصاف ” دے دیں گی, وہ لیڈرشپ جو کانگریسی دور میں بھاجپا اور آر ایس ایس کے نام پر ان کے خلاف بڑے بڑے میدان بھرتی اور اجتماعات کی باڑھ لگاتی تھی وہ اب بھاجپا کی حکومت آنے کےبعد سے ملی مسائل اور ہندوتوا زدہ اداروں سے مسلمانوں پر شب خون مارے جانے کے خلاف میدانوں سے غائب ہوگئی ہے، وہ لوگ بھاجپائی دور میں اتنا بھی دباؤ قائم نہیں کرسکے کہ دیگر مظالم پر اقدامات تو درکنار آج تک اپنی قوم کو ماب۔لنچنگ سے بچانے کے لیے کوئی واضح بیانیہ نہیں دے سکے ہیں… بیچارے بوڑھے حاجی نے مرتے دم کیا سوچا ہوگا! خواہ کچھ بھی ہو لیکن بھیڑ کے ذریعے قتل کا ٹرینڈ عام کیسے کیاجاسکتا ہے؟ سوچیے ذرا اس طرح اگر کسی اور کمیونٹی کے ۲ لوگ ظالمانہ قتل کردیے جاتے بھیڑ کی طرف سے تو کیا اتنا سناٹا ہوتا؟ لیکن ہم لوگ ” امن پسند ” ہیں _

✍🏻: سمیع اللّٰہ خان

۲۰ فروری ۲۰۲۱

ksamikhann@gmail.com