• 425
    Shares

یہ 29 اگست سنہ 1969 کی بات ہے۔ سفید لباس میں ملبوس اور سن ہیٹ و سن گلاسز پہنے ایک 25 سالہ خاتون روم (اٹلی) کے ایئر پورٹ پر پرواز نمبر TWA 840 کی منتظر تھیں۔وہ اندر سے بہت گھبرائی ہوئی تھیں۔ ہالی وڈ اداکارہ آڈری ہیپ کی طرح نظر آنے والی یہ نوجوان خاتون ایئرپورٹ سکیورٹی کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ایک پستول اور دو دستی بم اپنے ساتھ لانے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔

وہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ وہ ایئرپورٹ کی انتظار گاہ یعنی ویٹنگ لاؤنج میں بیٹھے ہوئے ایک دوسرے شخص سلیم عیساوی کو نہیں پہچانتی ہیں۔ سلیم عیساوی درحقیقت فلسطین کی آزادی کے پاپولر فرنٹ کے کمانڈو یونٹ کا ایک اہم رکن تھے جبکہ اس نوجوان خاتون کا نام لیلیٰ خالد تھا۔لیلیٰ خالد بیروت سے پرواز کر کے روم تک تنہا پہنچی تھیں۔

لیلیٰ اور ان کے ساتھی عیساوی نے دانستہ طور پر فرسٹ کلاس کی نشستیں بُک کروائی تھیں تاکہ انھیں طیارے کے کاک پٹ تک پہنچنے میں آسانی ہو۔لیلیٰ خالد سنہ 1973 میں شائع ہونے والی اپنی سوانح عمری ’مائی پیپل شیل لیو‘ میں لکھتی ہیں کہ ’چونکہ میں اور عیساوی الگ الگ بیٹھے تھے اس لیے ویٹنگ لاؤنج میں موجود شکاگو میں رہنے والا ایک یونانی امریکی مسافر مجھ میں زیادہ ہی دلچسپی دکھا رہا تھا۔‘’اُس نے مجھے بتایا کہ وہ 15 سال امریکہ میں رہنے کے بعد اپنی والدہ سے ملنے کے لیے اپنے گھر یونان جا رہا تھا۔ ایک بار تو میرے دل میں یہ خیال آیا کہ میں اس سے کہوں کہ وہ یہ طیارہ چھوڑ کر کسی دوسرے طیارے سے سفر کر لے، لیکن پھر میں نے خود کو روک لیا۔‘طیارے کے اندر لیلیٰ خالد اور سلیم عیساوی کی سیٹیں آس پاس تھیں۔ ایئرہوسٹس نے لیلیٰ کو کافی اور عیساوی کو بیئر پیش کی۔ ایئرہوسٹس کے بہت اصرار کے باوجود لیلی خالد نے کچھ نہیں کھایا۔

 

لیلیٰ نے ایئرہوسٹس کو بتایا کہ انھیں ٹھنڈ محسوس ہو رہی ہے اور اُن کے پیٹ میں درد ہے لہذا انھیں ایک اضافی کمبل دے دیا جائے۔ جیسے ہی کمبل مل گیا لیلیٰ نے اپنا ہینڈ گرنیڈ اور پستول کمبل کے نیچے رکھ دیے تاکہ بوقت ضرورت ان تک آسانی سے پہنچا جا سکے۔’شوٹ دی وومن فرسٹ‘ کی مصنفہ ایلین میکڈونلڈ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لیلیٰ خالد نے بتایا تھا ’جیسے ہی طیارے کے عملے نے مسافروں کو کھانا پیش کرنا شروع کیا سلیم اُچھل کر کاک پٹ تک پہنچ گئے۔ اُن کے پیچھے میں بھی اپنی گود میں رکھے ہینڈ گرنیڈ کو لے کر دوڑی۔ اسی دوران ایئر ہوسٹس کے ہاتھ سے ٹرے نیچے گر گئی اور وہ زور سے چیخی۔ اور میری کمر میں پھنسی پستول میری پتلون کے اندر سے پھسل کر طیارے کے فرش پر جا گری۔ میں نے اور عیساوی نے چیخ کر کہا کہ فرسٹ کلاس میں موجود تمام مسافر اور عملے کے ارکان طیارے کی عقبی سائیڈ پر موجود اکانومی کلاس میں چلے جائیں۔‘

لیلیٰ نے طیارے کو اسرائیل لے جانے کا حکم دیا

اس ہائی جیکنگ میں لیلیٰ خالد کو پائلٹ اور فضائی ٹریفک کنٹرول روم سے بات کرنے کا کردار دیا گیا تھا۔ ابتدا میں لیلیٰ نے پائلٹ سے طیارے کو اسرائیل کے ’لود ایئرپورٹ‘ لے جانے کے لیے کہا جسے اب ’ڈیوڈ بین گورین ایئرپورٹ‘ کہتے ہیں۔جیسے ہی طیارہ اسرائیلی خطے میں داخل ہوا اِس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کے تین میراج طیارے پرواز کرنے لگے۔ جنگی طیاروں کو دیکھ کر مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اُن کا خیال تھا کہ اسرائیلی فضائیہ اُن کے طیارے کو مار گرائے گی۔لیلیٰ خالد نے ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا اور کہا کہ ’اب آپ ہمیں فلائٹ ٹی ڈبلیو اے 840 کے بجائے ’پی ایف ایل پی یعنی فری عرب پلیسٹائن‘ کے نام سے پکاریں گے۔ طیارے کے پائلٹ نے پہلے لیلیٰ کی ہدایت ماننے سے انکار کیا لیکن جب لیلیٰ نے اسے اپنا دستی بم دکھایا تو انھوں نے ہدایت پر عمل کرنا شروع کر دیا۔‘

لود ایئرپورٹ کی طرف جانے کا حکم صرف اسرائیلیوں کو چکمہ دینے کے لیے تھا۔جہاز لود ایئرپورٹ کے اُوپر سے گزرا۔ نیچے سینکڑوں اسرائیلی فوجی اور ٹینک ہائی جیکروں سے نمٹنے کے لیے تیار کھڑے تھے۔ تب لیلیٰ خالد نے پائلٹ کو طیارہ دمشق لے جانے کا حکم دیا۔راستے میں انھوں نے پائلٹ سے کہا کہ وہ اسے اُن کی (لیلیٰ کی) جائے پیدائش حیفہ کے اوپر سے لے جائے۔بعد میں لیلیٰ خالد نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ’جب میں نے فلسطین کو اُوپر سے دیکھا تو ایک منٹ کے لیے میں یہ بھول گئی کہ میں کسی مہم کا حصہ ہوں۔ میرے دل میں یہ ہوک اٹھی کہ میں اپنی دادی، اپنی پھوپھیوں اور وہاں موجود ہر فرد کو پکار کر کہوں کہ ہم واپس آ رہے ہیں۔ بعد میں پائلٹ نے بھی کہا کہ جب ہم حیفہ کے اوپر اڑ رہے تھے تو اس نے میرے چہرے کے رونگٹے کھڑے ہوتے دیکھا تھا۔‘

طیارے کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا:دمشق ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے بعد سلیم عیساوی نے طیارے کے کاک پٹ میں دھماکہ خیز مواد ڈال دیا اور اسے اڑا دیا۔ ان کے بقول فلسطینی عوام کی جانب دنیا کی توجہ راغب کرنے کا یہ سب سے مؤثر طریقہ تھا۔لیلی خالد کو اکثر تاریخ کی ’پہلی خاتون ہائی جیکر‘ کہا جاتا ہے لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس واقعے سے تین سال قبل سنہ 1966 میں کونڈورس آرگنائزیشن کی جانب سے طیارے کو ہائی جیک کر کے اسے فاک لینڈ لے جانے والی بھی ایک خاتون تھیں۔ایلین میک ڈونلڈ اپنی کتاب ’شوٹ دی ویمن فرسٹ‘ میں لکھتی ہیں ’پی ایف ایل پی کی قیادت اس ہائی جیکنگ کی تشہیر سے بہت خوش تھی۔ انھوں نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے دورے پر اپنی سٹار کامریڈ لیلیٰ خالد کو بھیجا۔ وہ جانتے تھے کہ اسرائیلی لیلی خالد کو اغوا کرنے اور اسے مارنے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود انھیں عرب ممالک کے دورے پر بھیجا گیا۔ لیکن ان کے آس پاس محافظوں کا ایک حفاظتی پہرا تھا۔ لیلیٰ خالد عرب دنیا کی ہیروئن بن چکی تھیں۔‘

چہرے کی پلاسٹک سرجری:اس کے بعد لیلیٰ خالد نے اپنی ناک، رخساروں، آنکھوں اور منھ کی چھ جگہ سے پلاسٹک سرجری کروائی تاکہ ان کی صورت شکل بدلی جا سکے اور وہ دوسری ہائی جیکنگ کے لیے تیار ہو سکیں۔ستمبر 1970 میں لیلیٰ خالد نے لبنان سے یورپ کا رُخ کیا۔ چار ستمبر کو جرمنی کے اسٹٹگارٹ میں انھوں نے پیٹرک ارگیلو سے ملاقات کی جو اگلی ہائی جیکنگ میں ان کے ہمراہ جانے والے تھے۔ یہ دونوں پہلے کبھی ایک دوسرے سے نہیں ملے تھے۔ چھ ستمبر کو دونوں اسٹٹگارٹ سے نیو یارک کا ٹکٹ لے کر ایک ساتھ ایمسٹرڈم گئے تھے۔پیٹرک امریکہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ایمسٹرڈیم میں یہ دونوں اسرائیلی ایئر لائنز کی پرواز ای ایل اے آئی 219 سے نیویارک جا رہے تھے۔ سارہ ارونگ اپنی کتاب ’لیلیٰ خالد آئیکون آف پیلسٹین لبریشن‘ میں لکھتی ہیں کہ ’جب یہ دونوں طیارے میں سوار ہوئے تو انھیں معلوم نہیں تھا کہ ان کے دو ساتھی جنھیں اس ہائی جیکنگ میں ان کی مدد کرنی تھی انھیں اسرائیلی ایئر لائن کے عملے نے نشستیں دینے سے انکار کر دیا تھا۔

 

’ہائی جیکنگ کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اس پرواز کے اغوا میں دو سے زیادہ افراد کی ضرورت ہو گی کیونکہ اس طیارے میں مسلح سکیورٹی گارڈز موجود ہوتے ہیں اور طیارے میں سوار ہونے والوں کی تین بار تلاشی لی جاتی ہے۔‘اس بار لیلیٰ خالد اور ان کے ساتھی اکانومی کلاس میں بیٹھے تھے۔ لیلیٰ خالد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آرگیولو کو پتہ تھا کہ اسے کیا کرنا ہے اور میں جانتی تھی کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ ہمارے پاس اپنے ہتھیار تھے۔ میرے پاس دو دستی بم تھے۔ پیٹرک کے پاس بھی ایک ہینڈ گرنیڈ تھا۔ میں نے بہت چھوٹی سکرٹ پہن رکھی تھی۔ میں نے سکرٹ کے اندر سارے نقشے چھپا رکھے تھے۔‘جب لیلی خالد کاک پٹ کی طرف بھاگیں تو پائلٹ نے پہلے ہی اس کا دروازہ اندر سے بند کر رکھا تھا۔ ڈیوڈ رانے اپنی کتاب ’ٹیرر ان بلیک ستمبر‘ میں لکھا کہ ’لیلیٰ خالد نے اپنی خصوصی طور پر تیار کردہ برا سے دونوں ہینڈ گرنیڈ نکالے ہی تھے کہ طیارے میں سوار گارڈز نے فائرنگ شروع کر دی۔ پیٹرک نے جوابی فائرنگ کی۔ اس دوران پیٹرک کو گولی بھی لگی۔ لیلیٰ پر دو گارڈز اور مسافروں نے حملہ کیا۔ لوگوں نے انھیں مارنا شروع کر دیا جس سے اُن کی بہت سی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔‘

مارشل نے فائرنگ شروع کردی

اسی دوران ہوشیار پائلٹ نے اچانک طیارے کو نیچے کی جانب موڑ دیا جس کی وجہ سے لیلیٰ خالد اپنا توازن کھو بیٹھیں اور نیچے گر پڑیں۔ مسافروں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا کیونکہ ان کی سیٹ بیلٹ بندھی ہوئی تھی۔ طیارہ نمایاں طور پر نیچے آ گیا جس سے یہ امکان بھی ختم ہو گیا کہ اگر دستی بم پھٹا تو بھی کیبن میں ڈپریشن نہیں ہو گا اور کم سے کم نقصان ہو گا۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے لیلیٰ خالد نے بتایا تھا کہ ’آدھے گھنٹے بعد ہم کھڑے ہو گئے اور میں نے اپنے دانتوں سے ہینڈ گرنیڈ کی پن نکالنے کی کوشش کی۔ جونہی ہم کھڑے ہوئے اور چیخے، سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ شروع کر دی۔ میں نے دیکھا کہ کوئی ہمیں کاک پٹ کی میجک آئی سے دیکھ رہا ہے۔‘

’میں نے ان کو متنبہ کیا کہ میں تین تک گنوں گی اگر تب تک کاک پٹ کا دروازہ نہیں کھولا تو میں جہاز اڑا دوں گی۔ لیکن میں طیارہ اڑانا نہیں چاہتی تھی۔ اس نے دروازہ نہیں کھولا۔ کچھ لمحوں کے بعد کسی نے میرے سر پر پیچھے سے وار کیا اور میں بے ہوش ہو گئی۔‘

لندن میں ہنگامی لینڈنگ

لیلیٰ خالد نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ ’میں نے دیکھا کہ خون سے لت پت ارگیولو کی کمر پر ایک گارڈ نے کھڑے ہو کر چار گولیاں داغیں۔

زخمی مارشل شلومو وائڈ کی حالت پر تشویش کی وجہ سے ای ایل اے آئی کے پائلٹ نے لندن میں ہنگامی لینڈنگ کی۔ کچھ ہی لمحوں میں ایک اور طیارہ لندن کے ہیتھرو ہوائی اڈے سے روانہ ہونے والا تھا۔

ڈیوڈ راب اپنی کتاب ’ٹیرر ان بلیک ستمبر‘ میں لکھتے ہیں کہ ’ارگیولو پر گولی چلانے والے مارشل بار لیواو کو طیارے کے ہیچ سے اتار کر ایک دوسرے طیارے میں سوار کرایا گیا تاکہ اسے برطانوی دائرہ اختیار سے نکال لیا جائے اور اسے ارگیولو کی موت کا ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے۔ لیلیٰ خالد کو کچھ مسافروں کی ٹائی کی مدد سے باندھ کر فرش پر لٹا دیا گیا۔ لیلی خالد کی خوش قسمتی تھی کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے اسے گرفتار نہیں کیا بلکہ برطانوی پولیس نے اسے گرفتار کیا۔‘

’جیسے ہی طیارہ لینڈ ہوا پیٹرک ارگیولو کی لاش کو ایمبولینس میں منتقل کیا گیا۔ لیلی خالد اپنی سوانح عمری ’مائی پیپل شیل لیو‘ میں لکھتی ہیں کہ ’میں نے سکیورٹی اہلکاروں سے درخواست کی کہ وہ میرے ہاتھ کھول دیں۔‘

’میں نے پیٹرک کے جسم کے پاس کھڑی ہو کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔ میں نے اس کے زخموں کا جائزہ لیا اور دوستی کے جذبے سے مغلوب ہو کر ہونٹوں کو چوما اور پھر میں رو پڑی۔ یہ میرے لیے بہت افسوس ناک لمحہ تھا کیونکہ میں یہ سوچ رہی تھی کہ اس کی بجائے مجھے مر جانا چاہیے تھا کیونکہ یہ ہماری لڑائی تھی۔ وہ تو ہماری مدد کرنے آیا تھا۔‘

جیل میں اچھا سلوک

لیلیٰ خالد کو لندن کے ایلنگ پولیس سٹیشن لے جایا گیا جہاں اگلے کچھ دنوں تک چیف سپرنٹنڈنٹ ڈیوڈ پریو نے ان سے پوچھ گچھ کی۔ لیلیٰ کے ساتھ جیل میں اچھا سلوک ہوا۔ کچھ خواتین پولیس اہلکار ان کے ساتھ ٹیبل ٹینس بھی کھیلتیں۔

لیلیٰ نے پڑھنے کے لیے کچھ مواد طلب کیا۔ جب انھیں کچھ خواتین کے رسالے پڑھنے کے لیے دیے گئے تو وہ ناراض ہو گئیں اور لینے سے انکار کر دیا۔ پھر انھیں اخبارات دستیاب کرائے گئے۔ لیلیٰ کو نہانے کے لیے سٹیشن چیف کا باتھ روم دیا گیا۔ ان کے لیے صاف کپڑے اور تولیے لائے گئے۔

جب ایک خاتون گارڈ کو ان کے کمرے میں بٹھانے کی کوشش کی گئی تو لیلیٰ نے غصے سے جواب دیا ’میں خود کو نہیں ماروں گی۔ مجھے ابھی اور بھی مہمات میں حصہ لینا ہے۔‘

جب لیلیٰ خالد نے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ وہ کچھ دیر کے لیے کھلی ہوا میں سانس لینا چاہتی ہیں تو انھیں جیل کی اونچی منزل پر لے جایا گیا اور کھڑکیاں کھول دی گئیں تاکہ وہ تازہ ہوا لے سکیں۔ انھیں روزانہ چھ روتھ مین سگریٹ پینے کی اجازت تھی۔ متعدد بار پولیس اہلکاروں نے انھیں چھ سے زیادہ سگریٹ بھی فراہم کیے۔

لیلیٰ کو بچانے کے لیے برطانوی جہاز کا اغوا

لیلیٰ خالد سے پوچھ گچھ کے دوران ڈیوڈ پریو نے انھیں بتایا کہ ای ایل اے آئی کے علاوہ سوئس ایئر، ٹی ڈبلیو اے، پانام اور برطانوی طیارے کو بھی اغوا کیا گیا ہے۔

یہ سنتے ہی لیلیٰ خالد نے کہا کہ برٹش ایئر کے طیارے کو اغوا کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ پریو نے انھیں بتایا کہ نو ستمبر کو بحرین سے لندن آنے والا برٹش ایئر کے طیارے کو اغوا کر کے اُردن کے ڈاوسن فیلڈ لے جایا گیا ہے۔

جب لیلیٰ خالد نے ان سے پوچھا کہ ان کا مطالبہ کیا ہے تو پریو نے جواب دیا کہ وہ آپ کی رہائی چاہتے ہیں۔ 28 ستمبر کو پولیس اہلکاروں نے لیلیٰ کو روتے ہوئے دیکھا۔ اس دن مصری صدر جمال عبد الناصر کی موت کی خبر اخبارات میں شائع ہوئی تھی۔

لیلیٰ خالد کی رہائی

آخر کار برطانوی حکومت نے لیلی خالد کو اپنے 114 مسافروں کے بدلے میں رہا کیا۔ 24 دنوں تک برطانوی جیل میں رہنے کے بعد یکم اکتوبر سنہ 1970 کو رائل ایئرفورس کا ایک طیارہ لیلیٰ خالد کو لے کر قاہرہ کے لیے روانہ ہوا۔

اس سے قبل 12 ستمبر کو اغوا کیے گئے تمام طیاروں کو ڈاسن فیلڈ میں بارود سے اڑا دیا گیا۔

اس واقعے کے بہت سال بعد بی بی سی نے لیلیٰ خالد سے پوچھا کہ آپ نے جو کیا اس پر آپ کو افسوس ہے؟ لیلیٰ خالد کا جواب تھا ’بالکل بھی نہیں۔‘

اُن سے پھر سوال کیا گیا کہ ’آپ کی وجہ سے جہاز میں سوار سینکڑوں مسافر دہشت زدہ ہوئے اور انھیں ذہنی صدمہ پہنچا اور طیارے کا عملہ بھی بُری طرح زخمی ہوا؟‘

لیلیٰ خالد نے جواب دیا: ’میں معافی مانگ سکتی ہوں کہ انھیں صدمہ پہنچا لیکن وہ محفوظ رہے۔ اس کارروائی کا مقصد ان کو تکلیف دینا نہیں تھا۔ لیکن آپ کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ بحیثیت انسان، ہمیں اور ہمارے انسانی حقوق کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے۔‘

77 سالہ لیلیٰ خالد اس وقت عمان میں مقیم ہیں۔ ان کی شادی فیاض راشد ہلال سے ہوئی ہے۔ اُن کے دو بچے بدر اور بشر ہیں۔

انھیں دیکھ کر اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ چیک کفایہ پہنے ہاتھوں میں اے کے-47 لیے یہ خاتون کسی زمانے میں فلسطینی جدوجہد کی سب سے اہم پوسٹر گرل تھیں۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔