وہ ایک عذاب بن کر نازل ہوئے تھے۔ گذشتہ موسم گرما تک لیبیا کا ایک چھوٹا سے شہر الکانی بھائیوں کی قاتلانہ گرفت میں تھا۔ انھوں نے اپنا اقتدار برقرار رکھنے کے لیے مرد، خواتین اور بچوں کو قتل کیا۔ اب ان کے جرائم آہستہ آہستہ بے نقاب ہو رہے ہیں۔

سات ماہ سے سفید کیمیائی حفاظتی سوٹ میں چند کارکن لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے جنوب مشرق میں تقریباً ایک گھنٹے کی دوری پر ایک چھوٹے زرعی قصبے ترھونا میں آ رہے ہیں۔

انھوں نے سرخی مائل بھوری زمین کے کھیتوں میں سرخ اور سفید ٹیپ والے صاف مستطیلوں کے نشان لگائے ہیں اور ان کھیتوں سے 120 لاشیں نکالی ہیں۔ اگرچہ اس کے ایک بڑے حصے پر کام ابھی باقی ہے۔

وادہ الکیش نامی ایک مزدور کا کہنا ہے کہ ’جب بھی میں کسی نئی قبر کو کھودتا ہوں، میں بہت احتیاط برتنے کی کوشش کرتا ہوں،‘ ’ہمارا عقیدہ ہے کہ اگر کوئی ہڈی ٹوٹ گئی تو اس کی روح کو تکلیف ہو گی۔‘ان میں سے چند لیبیا میں جاری خانہ جنگی کے نویں سال میں گذشتہ موسم گرما کے دوران ترھونا کے آس پاس کی لڑائیوں میں ہلاک ہونے والے نوجوان جنگجوؤں کی لاشیں ہو سکتی ہیں۔ لیکن بہت سے عام شہریوں کی لاشیں بھی ہیں جن میں خواتین اور پانچ سال سے کم عمر کے بچے بھی شامل ہیں۔ چند لاشوں پہ تشدد کے نشانات بھی ہیں۔

یہ قبریں الکانی بھائیوں کی تشکیل کردہ فوج کے ذریعے تقریبا آٹھ سال کے دہشت گردی کی ایک خوفناک میراث ہیں۔
الکانی بھائیوں میں سے تین اب مر چکے ہیں اور دیگر جون 2020 میں لیبیا میں اقوام متحدہ کی منظور قومی حکومت (جی این اے) کی وفادار افواج کے خوف سے فرار ہو گئے ہیں۔ تاہم اب بھی ترہونہ کے بہت سے باشندے ان کے بارے میں بات کرنے سے خوفزدہ ہیں۔ چند کو ابھی بھی الکانیوں کے حامیوں کی طرف سے دور دراز علاقوں سے دھمکیاں آتی ہیں۔

عبد الخالق، محمد، معمر، عبد الرحیم، محسن، علی اور عبد الادھم نامی ان سات بھائیوں کی کہانی بیان کرنا آسان نہیں ہے۔ لیکن جو لوگ انھیں جانتے تھے ان سے بات چیت سے ایک خوفناک کہانی نکلتی ہے کہ کس طرح ایک غریب کنبے نے سنہ 2011میں کرنل معمر قذافی کے خلاف انقلاب کے بعد ہونے والے انتشار کا فائدہ اٹھایا اور بے رحمی سے اپنےعلاقے پر حکمرانی کی۔

وکیل اور کمیونٹی کارکن حمزہ دلعاب جو سنہ 2011 کے انقلاب سے قبل ان بھائیوں سے شادیوں اور جنازوں جیسی تقریبات میں ملے تھے کہتے ہیں، ’وہ سات بھائی پرتشدد اور بے ادب لوگ تھے۔ معاشرے میں ان کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔‘

’اکٹھے وہ لگڑ بگڑوں کے جھنڈ کی طرح تھے۔ وہ گالی گلوج اور جھگڑا کرتے رہتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کو لاٹھیاں بھی مار سکتے تھے۔‘

جب انقلاب آیا تو ترہونا میں زیادہ تر لوگ قذافی کے وفادار تھے۔ شہر کے اہم خاندانوں کے مردوں کو اپنی سکیورٹی فورسز میں اچھی ملازمت ملی تھی۔ حمزہ دلعاب کا کہنا ہے کہ الکانی ان چند افراد میں سے تھے جو انقلابیوں کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ اگرچہ وہ ایسا نظریاتی وجوہات کی بنا پر نہیں بلکہ قذافی کے حامیوں کے ایک خاندان سے 30 سالہ جھگڑے کی وجہ سے کر رہے تھے۔

قذافی کے خاتمے کے بعد کے ہنگامے نے بھائیوں کو ایک مناسب موقع دیا۔

حمزہ دلعب کا کہنا ہے کہ، ’الکانی آہستہ آہستہ اس خاندان کے افراد کو ایک ایک کر کے قتل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔‘

لیکن اس سے انتقام کا ایک سلسلہ شروع ہوا جو سنہ 2012 میں سات بھائیوں میں پانچویں نمبر کے الکانی، علی، کے قتل کا سبب بنا۔

نیدرلینڈ کے کلینجینڈیل انسٹی ٹیوٹ میں لیبیا کے امور کے ماہر جلیل ہارچاؤئی جنھوں نے اس خاندان کی تاریخ پر تحقیق کی ہے، کہتے ہیں، ’علی الکانیوں کا ایک خوبصورت بھائی تھا اور جب وہ ہلاک ہوا تو بھائیوں نے اسے ایک افسانوی حیثیت دے دی۔‘
’ان بھائیوں نے اس کے قتل کا جواب نہ صرف اس کے قاتلوں کو مار کر دیا بلکہ انھوں نے ان کے پورے اہل خانہ کو قتل کر دیا۔‘

الکانیوں نے آہستہ آہستہ شہر کا اقتدار سنبھال لیا اور وہاں موجود فوجی دستوں کو منظم کیا اور ہزاروں جنگجوں پر مشتمل اپنی فوج تشکیل دی۔ لیبیا میں زیادہ تر فوجوں کی طرح اس کو بھی سرکاری فنڈز تک رسائی حاصل تھی اور بدلہ لینے کے بعد باقی بھائیوں نے تھرونا پر اپنا اختیار قائم کر لیا۔

حمزہ دلعاب کا کہنا ہے کہ ’ان کی پالیسی صرف خوف پیدا کرنے کے لیے لوگوں کو دہشت زدہ کرنا تھی۔ وہ اسی وجہ سے قتل کرتے تھے۔ تھرونا میں جو بھی ان کے خلاف کھڑا ہوا وہ مارا گیا۔‘

حنان ابوکلیش 17 اپریل 2017 کو گھر میں تھیں جب الکنیوں کے عسکریت پسندوں کے ہجوم نے حملہ کیا۔

’ان میں سے ایک نے میرے سر پر بندوق تان لی۔‘

وہ کہتی ہیں۔ ’اس نے مجھ سے پوچھا کہ گھر میں کون ہے، اور میں نے کہا، ‘کوئی نہیں۔ لیکن اس نے مجھے والد کے کمرے تک گھسیٹا اور ان سے کہا ہم پہلے آپ کو ماریں گے۔ اور انھوں نے وہی کیا۔ میں نے انہیں روکنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن انھوں نے والد کے سینے میں گولیاں داغ دیں۔ اس دن حنان کے تین بھائی اور دو بھتیجے بھی مارے گئے جن کی عمریں 14 اور 16 سال تھیں۔ دیگر رشتہ داروں کو الکانیوں کی فوج نے بظاہر اغوا کر کے لاپتہ کر دیا۔
اس وقت تک الکانیوں نے تھرونا اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ایک منی اسٹیٹ قائم کر لی تھی، یہاں تک کہ وردی والی پولیس کو بھی کنٹرول کرنے لگے تھے۔

انھوں نے اپنی ایک کاروباری سلطنت بنائی تھی، سیمنٹ فیکٹری اور دیگر مقامی کاروباروں سے ’ٹیکس‘ وصول کرنا شروع کر دیا تھا، شاپنگ مال کی تعمیر کی تھی اور لانڈری سمیت کچھ جائز کاروباری اداروں کو بھی چلانا شروع کر دیا تھا۔

انھوں نے منشیات اور تارکین وطن کے سمگلروں سے، جو صحارا سے بحیرہ روم کے ساحل تک جاتے ہوئے ان کے علاقے سے گزرتے تھے، ’تحفظ‘ دینے کے نام پر فائدہ اٹھایا۔ ساتھ ہی انھوں نے سمگلنگ کے خلاف جنگ لڑنے اور لیبیا میں نظم و ضبط قائم کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔

منی اسٹیٹ کا سربراہ محمد الکانی تھا۔ وہ سلفی نظریے سے منسلک تھا اور بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھا۔ وہ اس خاندان کا واحد فرد تھا جس نے تھوڑی تعلیم حاصل کی تھی اور معمولی تنخواہ والی ملازمت کرتا تھا۔ انقلاب سے پہلے وہ کسی تیل کمپنی میں ڈرائیور کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ ’غنڈہ گردی کرنے والے خاندانوں میں عام طور پر سربراہ خوفناک یا پرکشش بھی نہیں ہوتا۔‘

جلیل ہرچاؤئی کہتے ہیں۔ ’سربراہ عام طور پر وہ شخص ہوتا ہے جو ہر پہلو کی پیچیدگی کو سمجھتا ہو اور محمد کا وہی کردار تھا۔‘

اس کے بعد نمبر تھا عبد الرحیم کا جس کی ذمہ داری ’داخلی سلامتی‘ اور مشتبہ غداروں کو سنبھالنا تھی۔ اس کے بعد پتلے چہرے والا محسن ’وزیر دفاع‘ تھا جو فوج کی سربراہی کرتا تھا۔حمزہ دلعاب کے مطابق ’عبدالرحیم اول نمبر قاتل تھا اور اس کے بعد محسن تھا ۔‘

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اور ترھونا سے بھاگنے والے متعدد افراد نے طرابلس میں پے در پے آنے والی حکومتوں کو ان ہلاکتوں کے بارے میں آگاہ کیا تھا ’لیکن بدقسمتی سے ان حکومتوں نے الکانیوں کے تمام جرائم کو نظرانداز کر دیا کیونکہ الکانیوں کی فوج ان کے لیے کارآمد تھی۔‘

سنہ 2017 میں بھائیوں نے ایک فوجی پریڈ کا انعقاد کیا جس میں بھاری ہتھیاروں اور وردی والی پولیس تھی اور شیر شامل تھے۔ یہ شیر بھائیوں کی ذاتی ملکیت تھے اور یہ افواہ تھی کہ ان شیروں کو قتل کیے جانے والوں کا گوشت کھلایا گیا تھا۔

اس کے بعد 2019 میں الکانیوں نے خانہ جنگی کو پوری طرح تبدیل کر دیا۔ مغربی لیبیا کو کنٹرول کرنے والے جی این اے کے ساتھ اپنے اتحاد کو ترک کر دیا اور اس کے سب سے بڑے دشمن ملک کے مشرقی نصف حصے کے ماسٹر جنرل خلیفہ ہفتار کو دعوت دی کہ وہ اس شہر کو دارالحکومت پر حملہ کرنے کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کریں۔

اچانک ایک معمولی شہر ترھونا بین الاقوامی میدانِ جنگ بن گیا۔ ہفتار کو فرانس، مصر، متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل تھی۔ روس نے بھی شہر میں جنگجو بھیجے۔ ان کے خلاف ترکی نے طرابلس کی حکومت کی حمایت کے لیے ہتھیار بھیجے۔ شاید وہ ترکی کا ڈرون تھا جس کے حملے میں محسن الکانی اور سب سے چھوٹے بھائی 22 سالہ عبد الادیم ستمبر 2019 میں ہلاک ہو گئے۔

ان کی اموات اور طرابلس کو قبضہ کرنے میں ناکامی کے بعد ترھونا میں سب سے زیادہ خونریزی ہوئ۔ جلیل ہرچاؤئی کا کہنا ہے کہ ’قتل کثرت سے ہو رہے تھے کیونکہ کام بن نہیں رہا تھا۔‘

’آپ کس طرح یہ یقینی بنائیں گے کہ آپ کی آبادی دشمن کے ساتھ نہیں دے گی؟ لہذا الکانی خاندان فکر مند تھا۔‘لیکن بعض قتل ایسے بھی تھے جو بظاہر الکانیوں نے جنگ جاری رکھنے کے لیے ضروری ساز و سامان حاصل کرنے کے لیے کیے۔

دسمبر 2019 میں ایک دن ترھونا کی ایک خاتون رابعہ جبلہ نے الکانی فوجیوں کے ہاتھوں اپنے ایک رشتے دار طارق کا اپنی ہی دہلیز پر خون ہوتے دیکھا۔ وہ ان کی گاڑی بھی لے گئے۔

دوسرے دن جب انہیں دفن کیا جارہا تھا تو پولیس نے قبرستان پر حملہ کیا اور ان کے شوہر سمیت خاندان کے 10 افراد کو اغوا کر لیا۔ انھوں نے طارق کی گاڑی پر ایک گرینیڈ لانچر لگا رکھا تھا۔ تب انہیں حملے کی وجہ سمجھ آئی: ’ہمارا خاندان کاروں کا کاروبار کرتا تھا۔ لہذا انہوں نے ہمیں لوٹنے اور ان گاڑیوں کو جنگ میں استعمال کرنے کے لیے حملہ کیا تھا۔‘

حکومت کے حامی جنگجوؤں نے بالآخر جون 2020 کے اوائل میں ترھونا پر قبضہ کر لیا اور باقی چار الکانی بھائی اور ان کی فوج ہفتار کی افواج کے ساتھ مشرقی لیبیا فرار ہو گئے۔

رابعہ جبلہ کہتی ہیں، ’ہم اتنے پر امید تھےکہ ہم ساری رات سو نہیں سکے، بچے خوش تھے۔‘’صبح میں اور دوسرے افراد جن کے شوہر، بھائی یا بیٹے اغوا کیے گئے تھے ان کی تلاش میں الکانیوں کے بدنام زمانہ حراستی مراکز پہنچے۔ انہیں ایک 70 مربع سینٹی میٹر کے سائز کا ایک سیل ملا جس میں آپ بمشکل بیٹھ ہی سکتے ہیں۔`

ہر طرف کپڑے بکھرے ہوئے تھے لیکن قید خانہ خالی تھا۔

رابعہ کا کہنا ہے کہ ’اس نے ہماری امید کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔ دیواریں خون میں لپٹی ہوئی تھیں۔ میں اسے مزید برداشت نہیں کر سکی۔ میں پوری طرح ٹوٹ گئی۔‘نیوز ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی کے ڈینیئل ہلٹن جو ان چند غیر ملکی رپورٹرز میں سے ہیں جو الکانیوں کی شکست کے بعد ترھونا گئے۔ انھوں نے مزید کئی خوفناک چیزیں دیکھیں۔ انہوں نے کہا، ’قیدخانے کے اوپر آگ کی راکھ کے ٹیلے تھے۔ یہ وہ آگ تھی جو قیدیوں کو اذیت دینے کے لیے جلائی جاتی تھی تا کہ قید خانے میں تندور جیسی گرمی ہو۔‘

ایک مختلف قیدخانے کے فرش پر انہیں روشن رنگ کے چھوٹے چھوٹے جوتے ملے جو ان بچوں کے تھے جو یا تو ہلاک ہو چکے ہیں ہا لاپتہ ہیں۔

جی این اے گورنمنٹ اتھارٹی برائے گمشدہ افراد کی شناخت والے محکمے کے سربراہ کمال ابوبکر کا کہنا ہے کہ ترھونا سے 350 سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں- حالانکہ چند مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد ایک ہزار کے قریب ہے۔

اب تک اجتماعی قبروں میں پائی جانے والی لاشوں میں سے بہت کم افراد کی شناخت ہوئی ہے کیونکہ ڈی این اے سے شناخت کا کام کا ابھی شروع ہوا ہے۔ لیکن ڈاکٹر ابوبکر کا کہنا ہے کہ سنہ 2011 میں تنازع کے آغاز سے اب تک لیبیا میں پائے جانے والی دیگر اجتماعی قبروں کے مقابلے میں ترھونا سب سے زیادہ افسوس ناک ہے۔

’یہ پہلا موقع ہے جب ہمیں اجتماعی قبروں میں خواتین اور بچے ملے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں ایک ایسی لاش بھی ملی ہے جس کے ساتھ طبی سامان تھا، ایک آکسیجن ماسک اور نسوں میں ڈالنے والی ٹیوب۔ اس زیرِ علاج شخص کو ہسپتال سے لا کر زندہ دفن کر دیا گیا تھا۔`طرابلس میں حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان ہلاکتوں کے ذمہ داروں تک پہنچنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے، حالانکہ ہیومن رائٹس واچ کے لیبیا کے سینئر ریسرچر کے مطابق سنہ 2015 میں حکومت تشکیل ہونے کے بعد بہت سی تحقیقات کا اعلان ہوا ہے لیکن ابھی تک ایک بھی مکمل نہیں ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’حکام کو اجتماعی قبروں کی دریافت پر کارروائی کرنی چاہیے۔ لاشوں کی نشاندہی کرکے ناانصافی کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے مناسب اقدامات ہونے چاہییں۔`

حنان صلاح نے بتایا کہ جی این اے نے، جو کئی برسوں سے الکانیوں کے ساتھ وابستہ تھا، ’ممکنہ طور پر ان میں سے کچھ انتہائی سنگین الزامات کو نظرانداز کر دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ جی این اے کی سینئر قیادت جس میں نہ صرف فوجی افسران بلکہ عہدیدار بھی ہیں انتہائی سنگین خلاف ورزیوں کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔‘حکومت نے ان الزامات سے متعلق بی بی سی کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

تاہم انٹرنیشنل کرمنل کورٹ نے ترھونا قتل عام کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے اور محمد الکانی کو امریکی حکومت کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ لیکن جب تک وہ جنرل ہفتار کے تحفظ میں ہیں انہیں یا ان کے باقی بھائیوں کا جلد انصاف کا سامنا کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

ترھونا میں اب بدلہ لینے کے بھی مطالبے کیے جا رہے ہیں اور قبر کشائی کرنے والے نوجوان وادہ الکیش مستقبل کے بارے میں خوفزدہ ہیں۔ ’تھرونا کے لوگ ابھی ایک فوج سے ازاد ہو کر دوسری فوج کے گرفت میں آئے ہیں۔ حکومت تو صرف چہرہ ہے، زمینی حقیقت تو یہ ہے کہ کنٹرول فوج کا ہے اور وہ صرف اپنی من مانی کرتے ہیں جو لوگوں کو خوفزدہ کر رہا ہے۔”وادہ کہتے ہیں کہ انھوں نے ایک لاش کی دوبارہ تدفین کے موقع پر اس کے بھائی کی تقریر سنی جو انھیں اس بدقسمت قصبے میں امید کی ایک کرن کی طرح دکھائی دی۔

انہوں نے کہا: ‘میرے بھائی نے کسی مقصد کے لیے اپنی جان نہیں دی۔ میرے بھائی کا مقصد صرف زندہ رہنا تھا اور اپنے بچوں کے لیے زندہ رہنا تھا۔ ہمارا اس جنگ سے کچھ لینا دینا نہیں۔ لہذا اگر کوئی یہ دعوی کرتا ہے کہ لوگوں نے کسی مقصد کے لیے موت کو گلے لگایا ہے تو ایسا کہنے والوں کو نکال باہر کرو۔ کیونکہ یہ صرف ان ہلاکتوں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ہم انتقام کے اس سلسلے کو ختم کرنا چاہتے ہیں، یہ اس ملک کے لیے صرف تباہی کا باعث ہے۔‘

’اور جب میں نے یہ سنا تو میری آنکھیں بھر آئیں۔ یہ ایک طرح سے بہت اچھا احساس تھا۔‘