لیبیا میں فیس بک پر زچگی کے لئے بڑے آپریشن کی لائیو اسٹریمنگ

506

لیبیا کے ایک اسپتال میں بڑے آپریشن [ سی سیکشن] کے ذریعے زچگی کے عمل کی’فیس بک‘ پر لائیو اسٹریمنگ کے بعد عوامی حلقوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے ذریعے آپریشن کے عمل کو طبی عملے نے زچہ کی رضامندی سے نشر کیا۔جنوبی لیبیا کے علاقے مزدہ کے ایک سرکاری اسپتال میں سوموار کی شب ایک خاتون کو لایا گیا جس کے ہاں بچے کی ولادت ہونے والی تھی۔ خاتون کو بے ہوش کرنے کے بعد بچے کی ولادت کے لیے ان کا بڑا آپریشن کیا گیا۔ میجر سرجری کے ذریعے بچے کی ولادت کے عمل کو فیس بک پر براہ راست دکھا کر عوامی غیض وغضب کو دعوت دی گئی۔

فیس بک پر نشر کردہ سرجری کا منظر ہزاروں لوگوں نے دیکھا۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر اس واقعے پر سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ سماجی کارکنوں اور عوامی حلقوں نے اسے طب کے مقدس پیشے کے اصولوں اور اخلاقیات، مریض کے تقدس، انسانی اور طبی اقدار کی پامالی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ عوامی حلقوں کی طرف سے سرجری کا عمل سوشل میڈیا پر براہ راست دکھانے پر اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لیبیا میں انسانی حقوق کی قومی کمیٹی کے سربراہ احمد حمزہ نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال انتظامیہ کی جانب سے زچگی کے عمل کی براہ راست نشریات اخلاقی اور قانونی لحاظ سے قطعاً جائز عمل نہیں، چاہے اس میں زچہ کی رضامندی ہی شامل کیوں نہ ہو۔ انہوں نے وزارت صحت سے مطالبہ کیا کہ وہ انتظامی سطح پر اس کی تحقیقات کر ذمہ دار افراد کو کٹہرے میں لائے۔

 

خاتون سماجی کارکن ملاک یوسف نے کہا کہ اسپتال کے اندر جو کچھ ہوا وہ ایک "اخلاقی جرم اور غیر ذمہ دارانہ رویہ” ہے۔ انہوں نے بھی ذمہ اروں کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب اسپتال انتظامیہ نے ایک بیان میں اس بات کی کہ ویڈیو کو ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔ اسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ویڈیو خاتون کے لواحقین اور اس کی اپنی تحریری اجازت سے بنائی گئی تھی جس کا مقصد خاندان میں ننھے مہمان کے دنیا میں آنے کا منظر براہ راست دکھانا تھا۔