لکھیم پور تشدد: کلیدی ملزم آشیش مشرا کو الہ آباد ہائی کورٹ سے جھٹکا

170

لکھنؤ: الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے منگل کے روز لکھیم پور تشدد معاملے میں کلیدی ملزم آشیش مشرا کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے ان کی درخواست ضمانت کو نامنظور کر دیا۔ مرکزی وزیر مملکت اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا کو فی الحال جیل میں ہی رہنا پڑے گا۔ میڈیا کا ایک گروپ تصور کر رہا تھا کہ آشیش مشرا کی درخواست ضمانت کچھ شرائط کے ساتھ منظور کی جا سکتی ہے تاہم ایسا نہیں ہوا۔

آشیش مشرا کی درخواست ضمانت پر سماعت کرتے ہوئے عدالت عالیہ نے سخت تبصرہ بھی کیا اور کہا کہ لکھیم پور میں 4 کسانوں کی جان گئی ہے۔ ملزم کی گاڑی وہاں موجود تھی اور یہ سب سے بڑی حقیقت ہے۔ یہ معاملہ سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ آشیش مشرا کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ گوپال چترویدی، جبکہ متاثرین کی جانب سے ایڈوکیٹ کمل جیٹ راکھڑا نے دلائل پیش کئے۔

ریاستی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل (اے اے جی) ونود شاہی ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔ خیال رہے کہ آشیش مشرا کی درخواست ضمانت پر اس سے قبل 15 جولائی کو سماعت ہوئی تھی۔ دونوں فریقین کے دلائل پورے ہونے کے بعد عدالت عالیہ نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

اگرچہ اس معاملے پر آشیش مشرا کے وکلا کی طرف سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایک بار پھر عدالت میں نظرثانی کی درخواست پیش کر سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال 3 اکتوبر کو لکھیم پور کھیری کے تکونیا میں تشدد ہونے والے تشدد کے دوران چار کسانوں سمیت 8 افراد کی موت ہو گئی تھی۔ اس معاملہ میں آشیش کو کلیدی ملزم بنایا گیا تھا اور ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ تاہم متاثرین کی جانب سے ضمانت کے خلاف عرضی داخل کی گئی اور عدالت نے آشیش کو دوبارہ جیل دیا۔