• 425
    Shares

لکھیم پور کھیری:09اکتوبر(یواین آئی) اترپردیش کے ضلع لکھیم پور کھیری کے تکونیا میں گذشتہ اتوار کو پیش آئے تشدد کے معاملے میں پولیس کی کرائم برانچ ٹیم نے مملکتی وزیر برائے داخلی امور اجئے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشر ا عرف مونو کو چھ گھنٹوں کی لمبی پوچھ گچھ کے بعد گرفتار کرلیا۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ آشیش ہفتہ کی صبح 10:35بجے کرائم برانچ کے افسران کے سامنے پیش ہوا تھا۔ وہ اسکوٹی سے پولیس لائن پہنچا اور میڈیا اہلکار سے بچتے ہوئے پیچھے کےگیٹ سے پولیس لائن میں حاضر ہوگیا۔ کرائم برانچ کے افسران نے صبح گیارہ بجے سے اس سے پوچھ گچھ شروع کی۔

انہوں نے بتایا کہ آشیش اپنے ساتھ لائے شواہد میں یہ صاف نہیں کرسکا کہ وہ واقعہ کے وقت کہا ں تھا۔ ساتھ لائے ویڈیو میں تکونیا میں پیش آئے تشدد کے وقت اس کے دنگل میں ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ آشیش کی صفائی اور شواہد سے افسران مطمئن نہیں ہوئے جس کے بعد سے آئی پی سی کی دفعہ 302کے تحت گرفتارکرلیا گیا۔ اسے پولیس لائن سے میڈیکل کے لئے لے جایا گیا ہے جس کے بعد اسے ریماند مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق ملزم کو جیل بھی لے جایا جاسکتا ہے جہاں مجسٹریٹ موجود رہیں گے۔ اس درمیاں ضلع میں احتیاط کے طور پر پولیس کی مستعدی کو بڑھا دیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ کرائم برانچ نے مجسٹریٹ کی موجودگی میں ملزم کے سامنے 40سوالوں کی فہرست رکھی تھی۔پوچھ گچھ کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کرائی گئی ہے۔ملزم واقعہ کے ویڈیو کی کئی پین ڈرائیو ساتھ لے کر آیا تھا جس میں دکھایا گیا تھا کہ واقعہ کے وقت وہ وہاں موجود نہیں تھا۔

پوچھ گچھ کے دوران آشیش سے ایک تحریری بیان اس کے وکیل کی موجودگی میں لیا گیا۔ آشیش کے وکیل ودھیش کمار نے کہا کہ ان کا موکل نوٹس کا احترام کرتا ہے اور جانچ میں ہر طرح کے تعاون کے لئے تیار ہے۔ پوچھ گچھ کے دوران ڈی آئی جی اور ایس پی رینک کے افسران موجود رہے۔وہیں جمعہ کی رات لکھنؤ پولیس نے چھاپہ مار کر آشیش کے دوست انکت داس کےگھر سے ایس یو وی برآمد کی جو واقعہ کے دن وہاں موجود تھی۔ حالانکہ پولیس انکت کو گرفتار نہیں کرسکی لیکن اس کے ڈرائیور کو حراست میں لیا ہے۔پولیس نے تشدد کے معاملے میں آشیش کے خلاف آئی پی سی کی دفعات 302 ،120بی، 304اے، 147 ،148 ، 149 ،179 اور 338 کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔