لکھنؤ کے لولو مال کونماز تنازعہ سے فائدہ!

1,725

لکھنو:23۔جولائی (ایجنسیز) اتر پردیش کے لکھنؤ واقع لولو مال ان دنوں تنازعہ کا شکار ہے۔ لولو مال کے افتتاح کے تین دن بعد ہی وہاں نماز پڑھتے لوگوں کی ویڈیو وائرل ہو گئی تھی، اور اس کے بعد سے ہی یہ مال سرخیوں میں ہے۔ کبھی ہنومان چالیسہ پڑھنے کی کوششوں کو لے کر لولو مال سرخیوں میں رہا تو کبھی ملازمین کے مذہب سے جڑی افواہوں کو لے کر تنازعہ ہوا۔ ان تنازعات سے لولو مال کو معاشی طور پر فائدہ پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ بڑی تعداد میں لوگ مال میں پہنچ رہے ہیں اور خریداری بھی کر رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لکھنؤ کے باشندے اور اتر پردیش کے دیگر علاقوں سے لوگ بڑی تعداد میں لولو مال کا دیدار کرنے پہنچ رہے ہیں۔ مال کے افتتاح کے شروعاتی 10 دن کے اندر ہی تقریباً 10 لاکھ سے زیادہ لوگ مال کا دیدار کر چکے ہیں۔ یعنی ہر دن مال میں اوسطاً ایک لاکھ لوگ پہنچ رہے ہیں جو بڑی تعداد ہے۔ لولو مال میں چھٹیوں کے دن تقریباً 2.5 لاکھ لوگ مال کا دیدار کرنے پہنچے۔

ایک رپورٹ کے مطابق مدھیہ پردیش، راجستھان، بہار اور این سی آر کے کچھ حصوں سے لوگ 2.2 ملین اسکوائر فٹ میں پھیلے اس مال کو دیکھنے آ رہے ہیں۔ اس مال میں ایک بار میں تقریباً 65000 لوگ آ سکتے ہیں۔ لولو مال جہاں واقع ہے وہاں نہ صرف مسافروں بلکہ ای رکشہ، کیب اور آٹو ڈرائیوروں کو بھی اچھا کاروبار مل رہا ہے۔ پہلے شہید پتھ پر پبلک ٹرانسپورٹ کے زیادہ متبادل نہیں تھے، لیکن اب بس خدمات، آٹو، بائک-ٹیکسی خدمات شروع ہو گئی ہیں۔