مذکورہ شخص21سالہ بنگلورو میں ایک انجینئر کاکام کرتا ہے۔ اس نے کہاکہ ان لائن لڑکی سے اس کی ملاقات ہوئی اور وہ دوست بن گئے۔

لکشمی پور کھیری(یوپی) ایک مسلم نوجوان جس نے بنگلوروسے لکشمی پور کھیری ان لائن دوست بننے والی ایک ہندو لڑکی سے ملاقات کے لئے اڑان بھری تھی‘ کے ساتھ مارپیٹ کی گئی‘ پولیس اسٹیشن لے جایاگیا اور رات بھر تحویل میں رکھا گیاہے۔ ایک مقامی تنظیم نے مخالف تبدیلی مذاہب دفعات لڑکے پر عائد کرنے کا دباؤ ڈالا

اور پولیس نے اتوار کے رات احتیاط تحویل میں لڑکے کو لے لیاتھا مگر شخصی ضمانت پر پیر کے روز اس کو رہا کردیاگیاہے۔مذکورہ شخص21سالہ بنگلورو میں ایک انجینئر کاکام کرتا ہے۔

اس نے کہاکہ ان لائن لڑکی سے اس کی ملاقات ہوئی اور وہ دوست بن گئے۔کیونکہ اس کی سالگرہ تھے‘ ملاقات کے لئے وہ سافٹ کھلونوں‘ چاکلیٹس اور میٹھائیوں کے ساتھ روانہ ہوا اور لکشمی پور کھیری میں لڑکی کے گھر کی طرف بڑھ گیا۔

جب وہ وہاں پہنچا اور خود کو لڑکی کے والدین سے متعارف کروایا وہاں سے مشکل کی شروعات ہوئی۔پڑوسی جمع ہوگئے اور کچھ دائیں بازو تنظیموں کے کارکن بھی اس میں شامل ہوگئے۔

لڑکے رپورٹرس کو بتایاکہ”انہوں نے میری پیٹائی شروع کردی‘ان میں سے ایک پولیس کو بلایااورزوردیاکہ ”زبردستی تبدیلی مذہب“ کا یہ ایک معاملہ ہے۔مجھے پولیس اسٹیشن لے جایاگیا اور وہاں پر انہیں فلائٹ ٹکٹ اور تحائف دیکھائے گئے“۔

سنیل کمار ایس ایچ او سردار کوتوالی جہاں پر اسکو تحویل میں رکھا گیاتھا نے کہاکہ”مذکورہ لڑکی کے گھر والوں نے کہاکہ انہیں اس کی طرف سے خطرہ محسوس ہوا۔

مگر انہوں نے کوئی شکایت درج نہیں کرائی جس کی وجہہ سے ایف ائی آر درج نہیں کی گئی۔

سی آر پی سی کی دفعہ 151کے تحت ہم نے اس پر جرمانہ عائد کیا۔ اس کو پیر کے روز سب ڈویثرنل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیاگیا جس نے شخصی ضمانت پر اس کو رہا کرنے کے احکامات جاری کردئے ہیں“

BiP Urdu News Groups

اپنی رائے یہاں لکھیں