لڑکیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک، جوتوں کا ہار پہنایا، منہ کالا کر کے گھمایا

781

بیتول: مدھیہ پردیش کے بیتول ضلع کے قبائلی لڑکیوں کے آشرم میں لڑکیوں پر 400 روپے چوری کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں جوتوں کے ہار پہنا کر اور ان کے چہروں پر کالک پوت کر ہاسٹل کے احاطے میں گھمانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

بعد میں گھر والوں کی مخالفت پر ہاسٹل سپرنٹنڈنٹ نے معافی مانگ لی۔ معاملہ ضلع انتظامیہ تک پہنچ گیا ہے اور تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

یہ شرمناک معاملہ دامجی پورہ میں چلائے جانے والے قبائلی بہبود محکمہ کے کستوربا گاندھی گرلز ہاسٹل سے متعلق ہے۔ یہاں ہاسٹل سپرنٹنڈنٹ نے طالبات پر 400 روپے چوری کرنے کا الزام لگایا اور پہلے انہیں جوتوں کے ہار پہنا کر پورے ہاسٹل کے احاطے میں گھمایا اور پھر ان کے بال کھول کر، پاؤڈر، کاجل، لپ اسٹک غلط طریقے سے لگا کر بھوت بن کر رقص کرنے پر مجبور کیا۔

ہاسٹل میں لڑکیوں کے ساتھ بدسلوکی کا معاملہ سامنے آنے پر ’کورکو سماجی تنظیم‘ اور لڑکیوں کے اہل خانہ کلکٹریٹ پہنچے اور جب انہوں نے اس پورے معاملے کی شکایت کلکٹر امان بیر سنگھ بینس سے کی تو انہوں نے واقعہ کو سنگین قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا یقین دلایا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایسا کوئی واقعہ ہوا تو وہ متعلقہ ملازم کو فوری طور پر معطل کر دیں گے۔ انہوں نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ وہیں، کورکو سماجی تنظیم نے انتباہ دیا ہے کہ اگر اس معاملے میں جلد کارروائی نہیں کی گئی تو تنظیم احتجاج کرے گی۔

ٹرائبل گرلز آشرم، دامجی پورہ (بھیم پور) کی سپرنٹنڈنٹ کے خلاف موصول ہونے والی شکایت کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ ٹرائبل گرلز آشرم، دامجی پورہ کی سپرنٹنڈنٹ اور پرائمری ٹیچر سنیتا اوئیکے کو (اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ تحقیقات جاری ہے اور تفتیش متاثر نہ ہو) سپرنٹنڈنٹ کے چارج سے فارغ کر دیا گیا ہے۔