دوحہ۔ اقوام متحدہ میں طالبان کے نامزد سفیر سہیل شاہین نے عالمی برادری کو یقین دلایاہے کہ یہ تاخیر تکنیکی وجوہات کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ انہوں نے امریکہ کے ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسکولوں میں لڑکیوں پر پابندی لگانے کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، یہ صرف لڑکیوں کے اسکول یونیفارم کے بارے میں فیصلہ کرنے کا ایک تکنیکی مسئلہ ہے۔ دوسری طرف افغانستان میں گذشتہ ہفتہ طالبان حکومت کی جانب سے لڑکیوں کے اسکینڈری اسکول کھولے جانے کے چند گھنٹے بعد پھر سے بند کرنے کے خلاف کابل میں تقریباً 24 کے قریب لڑکیوں اور خواتین نے احتجاج کیا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہفتہ کو احتجاج میں خواتین مظاہرین نے اسکولوں کو کھولو کے نعرہ لگائے۔ 23 مارچ کو پورے افغانستان میں ہزاروں پرجوش لڑکیاں ہائی اسکولوں میں پہنچی تھیں۔ وزارت تعلیم نے اس تاریخ کو دوبارہ کلاسز کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔

تاہم پہلے دن کلاسز کے آغاز کے چند ہی گھنٹے بعد وزارت تعلیم نے پالیسی میں تبدیلی کا اعلان کردیا۔ اس کے بعد نوجوان طالبات یہ کہنے پر مجبور ہوگئیں کہ انہیں دھوکہ دیا گیا ہے ۔