مصر میں ایک عدالت نے ٹک ٹاکر حنین حسام کو انسانی سمگلنگ کے الزام میں 10 سال قید کی سزا سنائی ہے اور ان پر تقریباً 13 ہزار امریکی ڈالر جرمانہ عائد کیا ہے۔عدالت نے مودہ الادھم سمیت ان کے تین مزید ساتھیوں کو اسی الزام میں چھ سال قید کی سزا سنائی ہے اور تقریباً 13 ہزار امریکی ڈالر جرمانہ عائد کیا ہے۔
استغاثہ نے ان افراد پر الزام عائد کیا تھا کہ یہ مصر میں خاندان اور معاشرے کے اقدار کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، لڑکیوں کو براہ راست نشریات کے لیے لالچ دے رہے ہیں اور ان کا استحصال کر رہے ہیں، اور انسانی سمگلنگ جیسے سنگین جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

ان الزامات میں یہ بھی شامل تھا کہ ان ملزمان نے ٹک ٹاک کی انتظامیہ سے بینک کے ذریعے پیسے وصول کیے اور اس کے بدلے ایسی ویڈیوز شائع کیں جن سے ’بے حیائی‘ اور ’غیر اخلاقی‘ مواد پھیلا۔ الزام کے تحت ‘ایک واٹس ایپ گروپ کے ممبران کی تعداد بڑھانے کی کوشش کی گئی جس پر لڑکیوں کا استحصال ہو رہا تھا۔’ملزمان پر الزام لگایا گیا کہ ان کی جانب سے ‘نوجوان لڑکیوں کو اکسایا جاتا تھا کہ وہ ’بے حیائی‘ پھیلانے والی ویڈیوز لگائیں۔ انھوں نے قانون سے بچنے، چھپنے اور اپنے فون و اکاؤنٹ منجمد کرنے کی کوشش بھی کی۔’

مصری پولیس نے حنین کو گذشتہ سال اپریل میں گرفتار کیا تھا اور انھیں مصری ذرائع ابلاغ میں ‘ٹک ٹاک گرل’ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔حنین قاہرہ یونیورسٹی میں آثار قدیمہ کے شعبے کی طالب علم ہیں اور شمالی قاہرہ کے استغاثہ نے ان سے تفتیش کی تھی۔ ٹک ٹاک پر انھوں نے اپنی ایک ایسی ویڈیو لگائی تھی جس میں وہ لڑکیوں سے کہہ رہی ہیں کہ انھیں اپنے گھروں سے اپنی ویڈیوز لگانے کے عوض پیسے مل سکتے ہیں۔

قاہرہ یونیورسٹی نے حنین سے تفتیش کے لیے اپنے قانونی ماہرین کے پاس بھیجا تھا۔ یونیورسٹی نے گذشتہ سال اپنے بیان میں کہا تھا کہ ‘یہ رویہ اخلاقیات اور یونیورسٹی کے اقدار و روایات کے خلاف ہے۔’
یونیورسٹی کے صدر محمد عثمان الخشت نے کہا تھا کہ انھیں آخری سمسٹر میں سزا ہو سکتی ہے۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حنین لڑکیوں کو اپنے ساتھ لائیکی نامی ایپ پر کام کرنے کی پیشکش کر رہی ہیں۔ وہ یہ شرط رکھتی ہیں کہ لڑکیوں کی عمر 18 سال سے کم نہ ہو اور ان کی ‘جسامت اچھی ہو۔’

انھوں نے اپنی پیشکش میں یہ بھی کہا تھا کہ پیسوں کے لیے لڑکیوں کو اپنی ویڈیو خود بنا کر لگانا ہوں گی اور ان کے عوض انھیں 36 ڈالر سے 36 ہزار ڈالر تک مل سکتے ہیں۔حنین نے اس ویڈیو میں یہ واضح نہیں کیا تھا کہ لڑکیوں کو کس طرح کی ویڈیوز بنانا ہوں گی۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں چاہتیں کہ لڑکیاں برہنہ حالت میں ہوں۔ ‘ہم ایجنسی میں گالم گلوچ کو برداشت نہیں کرتے اور (اچھی) ساکھ کی بنا پر ہی کام دیا جائے گا۔’ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے موقف میں حنین کا کہنا تھا کہ انھوں نے ‘ایک نئی ایپ کے لیے تین منٹ کے ویڈیو کلپ کی خاطر 20 قابل احترام لڑکیوں کا مطالبہ کیا تھا۔’ تاہم ایپ نے اس ویڈیو کو 10 سیکنڈز تک کر دیا تھا۔وہ کہتی ہیں کہ وہ صرف ایسی ویڈیوز شائع کرتی تھیں جن کی ‘ان کے والدین اجازت دیتے تھے۔’