لڑکااور لڑکی کا ویڈیو وائرل کرنے کے جرم میں چھ مسلم نوجوانوں کو قید بامشقت کی سزا

1,342

ناندیڑ:29اگست(ورق تازہ نیوز) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اور خصوصی پوکسو کورٹ کے جج رویندر پانڈے نے نو میں سے چھ افراد پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر کھیت میں اپنے مرد دوست سے بات کرنے، اس کی ویڈیو بنانے اور ان کی بدنامی کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کی ہے۔انھیںا س جرم میں ایک سال کی سخت مشقت اور 1000 روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ 12 جون 2015 کو اردھا پور پولس اسٹیشن کی حدود میں ایک 20 سالہ نوجوان اور اس کی گرل فرینڈ ایک کھیت کے قریب اسکوٹی پر بیٹھے تھے کہ اردھا پور کے دس سے 12 نوجوانوں نے انہیں گھیر لیا اور ان کے موبائل فون چھین لیے اور ان کی پٹائی کر دی۔

مار پیٹ کے دوران ان کی ایک ویڈیوبنائی اور ویڈیو کو نوجوانوں نے میڈیا کے ذریعے وائرل کیا اور پھر 15 جون 2015 کو شیخ کلیم شیخ سلیم (30سال)، معیز خان آغا خان (27سال)، شیخ سمیر شیخ نذیر (30سال)، جابر نذیر احمد (20سال) غفار شیخ حمزہ (32)، سید حنیف سید حفیظ (19)، شیخ اویس شیخ عارف (19) اور دو کم عمر لڑکوں سمیت 9 افراد کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ اردھاپور پولیس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 395، 397، 354 اور POCSO ایکٹ کی دفعہ 8 اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 67 کے تحت مقدمہ نمبر 89/2015 درج کیا ہے۔ پولس انسپکٹر ستیش گائیکواڈ نے اس جرم کی تفتیش مکمل کر کے عدالت میں چارج شیٹ پیش کی۔

عدالت میں اس کیس میں 13 گواہوں نے گواہی دی اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر جج رویندر پانڈے نے 6 افراد کو قصوروار ٹھہرایا جن میں شیخ کلیم شیخ سلیم، معیز خان آغا خان، شیخ سمیر شیخ نذیر، جابر نذیر احمد، سید حنیف سید حفیظ ،شیخ اویس شیخ عارف شامل ہیں۔ انہیں ہندوستانی تعزیرات کی دفعہ 354، 34 کے تحت ایک ایک سال سخت مشقت اور ایک ایک ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ مقدمے میں چار دیگر کو بری کر دیا گیا ہے۔ اس تناظر میں بتایا گیا کہ مقدمے کی سماعت کے دوران ایک ملزم کی موت ہو چکی ہے۔ اس کیس میں حکومتی پارٹی کی جانب سے ایڈووکیٹ ایم۔ اے۔ بتولہ (ڈانگے) نے پیروی کی۔ اردھا پور پولیس عملدار وی ایم پٹھان نے پیروی عہدیدار کی ذمہ داری نبھائی