اتر پردیش واقع آگرہ میں ایک لڑکی کا اغوا کیے جانے کا معاملہ خوب سرخیاں بنا تھا، اب اس سلسلے میں آگرہ کی پولس نے بے حد حیران کرنے والا انکشاف کیا ہے۔ آگرہ کے آئی جی اے ستیش گنیش نے آج بتایا کہ آگرہ کی جس لڑکی کو اغوا کرنے کا الزام مسلم نوجوان پر عائد کیا گیا تھا، اور برقع پہنا کر اغوا کیے جانے کی باتیں کہی جا رہی تھیں، وہ جھوٹ ثابت ہوا ہے۔ پولس نے لڑکی کو دہلی کے تلک نگر سے برآمد کر لیا ہے۔ لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کوچنگ کرنے کے لیے گھر سے نکلی تھی۔ اس میں اس کی مدد دویانشو اور رنکو نام کے لڑکوں نے کی تھی۔ مہتاب نامی نوجوان تو اس پوری کہانی میں کہیں شامل ہی نہیں تھا۔

اس سے قبل آگرہ میں لڑکی مدھو (بدلا ہوا نام) کے اغوا کو لے کر اس کے والد نے مہتاب پر کیس درج کرایا تھا۔ اس میں ’لو جہاد‘ جیسے تمام الزامات عائد کیے گئے تھے۔ اس معاملے کو لے کر گزشتہ ایک ہفتہ سے وشو ہندو پریشد کے ذریعہ ہنگامہ اور مظاہرہ کیا جا رہا تھا۔ ہندو تنظیموں کے ہنگامے اور بڑھتے میڈیا دباؤ کے سبب آگرہ پولس نے 6 بچوں کے والد مہتاب کی بیوی اور اس کی بھابھی کو جیل بھیج دیا تھا۔ اتنا ہی نہیں، اس معاملہ کو جاٹ بنام مسلم بنا کر کشیدگی پیدا کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی تھی۔

دراصل یہ واقعہ آگرہ میں ایک اسپتال کے باہر پیش آیا تھا، جس میں کچھ لوگوں کے ذریعہ ایک لڑکی کو برقع پہنا کر لے جانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ لڑکی کے اہل خانہ کے مطابق تاج گنج علاقہ باشندہ لڑکی 23 فروری کو نیو آگرہ واقع ایک اسپتال میں دوا لینے گئی تھی۔ تبھی اغوا کر لی گئی تھی۔ لڑکی کے گھر والوں نے میرٹھ کے مہتاب رانا کے خلاف اس سلسلے میں مقدمہ درج کرایا تھا۔

اس مقدمہ کے بعد علاقے میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ راحت کی بات یہ ہے کہ پولس نے اب لڑکی کو برآمد کر لیا ہے اور اس نے واضح کر دیا ہے کہ اس کا اغوا نہیں ہوا تھا بلکہ وہ اپنی مرضی سے دہلی گئی تھی۔ وہاں وہ ’پیئنگ گیسٹ‘ کے طور پر رہ رہی تھی۔ آگرہ پہنچنے کے بعد لڑکی نے بتایا کہ وہ دویانشو نام کے نوجوان کے ساتھ رضامندی سے دہلی گئی تھی۔ اسے پڑھائی کرنی تھی اس لیے ایسا قدم اٹھایا۔

لڑکی کو دہلی لے جانے میں دِویانشو کی مدد کرنے والے رنکو نے پولس کو بتایا کہ پورا منوبہ دِویانشو نے ہی بنایا تھا اور وہ اسی کے کہنے پر اس منصوبے میں شامل ہوا تھا۔ لڑکی نے پولس کو بتایا کہ اس کے گھر والے اسے پڑھا نہیں رہے تھے، لیکن وہ آگے پڑھنا چاہتی تھی اس لیے دوستوں کے ساتھ گھر سے بھاگی۔ بتایا جاتا ہے کہ دویانشو چوہان گوالیر کا رہنے والا ہے اور اس سے لڑکی کی دوستی ایک شادی کی تقریب میں ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے بعد فون پر بات چیت شروع ہو گئی۔ اسی دوران لڑکی نے دویانشو کو اپنی پڑھائی کے بارے میں بتایا اور دِویانشو پڑھائی میں اس کی مدد کرنے لگا۔ لڑکی نے مزید بتایا کہ وہ نیٹ کی تیاری کرنا چاہتی تھی اور دویانشو نے اس کی کوچنگ کے خرچ اٹھانے کی بات کہی تھی۔

 

حالانکہ پولس نے اب پورے معاملے کا انکشاف کر دیا ہے، لیکن اس سے پہلے ہی دباؤ کے سبب آگرہ پولس نے مہتاب کی بیوی اور بھابھی کو جیل بھیج چکی ہے۔ آگرہ کے سماجی کارکن اور سماجوادی پارٹی لیڈر ندیم منصوری کا اس پورے معاملے میں کہنا ہے کہ ’’یہ نہایت ہی قابل اعتراض ہے کہ بغیر جانچ کے ایک بے قصور فیملی کو جیل بھیج دیا گیا۔ حالانکہ پولس نے اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا ہے، مگر کوئی بے قصور جیل میں کیوں ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہندو تنظیموں کے دباؤ میں آ کر پولس کو بے گناہوں کو جیل نہیں بھیجنا چاہیے تھا۔ اس معاملے کو فرقہ وارانہ بنا کر پیش کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔ مہتاب کے اہل خانہ کو جلد آزاد کیا جانا چاہیے۔‘‘