لو جہاد کے الزام میں گرفتار شیخ شریف ،شیخ عمران کی ضمانت منظور

3

جمعیۃ علماء کی کامیاب پیروی کے نتیجہ میں دھولیہ خصوصی عدالت کا اہم فیصلہ
1؍ دسمبر 2021 ( پریس ریلیز ) مارچ -2021 ڈونڈائچہ تعلقہ سندھ کھیڑا ضلع دھولیہ سے تعلق رکھنے والے دومسلم نوجوان شیخ شریف ولد شیخ سلیم ، شیخ عمران ولد شیخ سلیم جنہیں ایک غیر مسلم لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، لو جہاد اور پولیس پر جان لیوا حملہ کرنے کے الزام میں پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ دونوں نو جوان گِذشتہ کئی مہینوں سے قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے تھے۔ جمعیۃ علماء کی کا میاب پیروی اور قانونی مدد، جمعیۃ کے وکیل کے دلائل کو سننے بعد دھولیہ کی سیشن خصوصی عدالت سے ان کی ضمانت منظور ہو گئی ہے اور جیل سے رہائی عمل میں آ چکی ہے، خصوصی عدالت کے اس فیصلہ سے ملز مین اور ان کے اہل خانہ کو کافی راحت حاصل ہوئی ہے، جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے لیگل سکریٹری سینر کریمنل لائر ایڈوکیٹ تہور پٹھان خان صاحب کی رہنمائی میں اس کیس کی پیروی ایڈوکیٹ ندیم مختار انصاری دھولیہ کررہے تھے، اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمہ میں ملزمین کی قانونی امداد کرنے وا لی تنظیم جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے۔

واضح رہے کہ 31؍ مارچ 2021 ڈونڈائچہ تعلقہ سندھ کھیڑا ضلع دھولیہ میں ایک نا بالغ غیر مسلم لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کے جھوٹے الزام کا بہانا بناتے ہوئے شر پسند فرقہ پرستوں نے مذکورہ بالا دو نوںمسلم نوجوانوں کو زدوکوب کیا تھا۔ جب یہ نوجوان اپنی فریاد دینے دوندائچا پولیس اسٹیشن گئے تو پولیس نے مسلم نوجوان کی فریاد لینے کے بجائے، لڑکی کے اہل خانہ کی جھوٹی فریاد لکھ کر دونوں زخمی نوجوانوں کو بےجا گرفتار کرکے ان پر CR No 47/2021 کے تحت POCSO دفعہ 11، 12، 18 سمیت آئی پی سی سیکشن 354، 323، 504، 506 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا ۔ اورلو جہاد کے الزام میں پولیس افسران نے دونوں مسلم نوجوانوں کی بے رحمی سے پٹائی کی، جس پر ملزمین کے اہل خانہ اور رشتہ داروں نے احتجاج کیا، پولیس نے یہ سمجھا کہ پولیس کی مار سےملزم مر چکا ہے، اس لئے پولیس نے احتجاج کرنے والوں پر لاٹھی چارج اور فائرنگ کر دی تھی۔ جس میں کئی نوجوان زخمی ہوئے اور ایک جھوٹی کہانی بناتے ہوئے پولیس نے ملز مین اور اُنکے اہل خانہ اور دیگر نو جوانوں پر پولیس اسٹیشن پر حملہ کرنے ملزموں کو چھڑا کر لے جانے، پولیس والوں کو جان سے مارنے کی کوشش کرنے جیسے 20 سنگین الزامات کے تحت گناہ رجسٹر نمبر 48/2021 درج کر دیا تھا ۔الحمد اللہ ماہ اگست میں ہی جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی کے نتیجہ میں ممبئی ہائی کورٹ کے اورنگ آباد بنچ سے ملزمین مسلم خواتین رخسانہ بی سلیم شیخ ،شفاء بی عمران شیخ کی گرفتاری از قبل ضمانت منظور ہو چکی ہے۔ لیکن لو جہاد اور پولیس پر جان لیوا حملے کے الزام میں ملزم نوجوان شیخ شریف ولد شیخ سلیم ، شیخ عمران ولد شیخ سلیم کی آج ضمانت پر رہائی عمل میں آئی ہے۔

جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دونوں ملزمین کی ضمانت پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ لیگل سیل کی نگرانی میں ہماری ضلع یونٹ جمعیۃ علماء ضلع دھولیہ دیکھ رہی تھی اور عدالت میں پیروی کر رہی تھی ۔جمعیۃ علماء کے ضلعی صدر مفتی سید محمد قاسم جیلانی و شہری صدر مفتی مسعود قاسمی ،ضلع جنرل سکریٹری عبد الاحد اسعدی ، ایڈوکیٹ ندیم مختار انصاری اور جمعیۃعلماء دھولیہ کے جملہ ارکان مبار کبادی کے مستحق ہیں کہ انصاف کی اس جنگ میں مظلوموں کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی، اور ان کو انصاف دلانے کے جدو جہد کرتے رہے۔ بالآخر ان کی کوششیں رنگ لائیں اور ملزمین کی دھولیہ خصوصی عدالت سے ضمانت منظور ہوئی اور انہیں اور ان کے گھر والوں کو راحت حاصل ہوئی ہے ۔واضح ہو کے انشاءاللہ جلد ہی ان ملزمین کو پولیس کی جا نب سے زد و کوب کئے جانے کے معاملے میں پولیس افسران کے خلاف مقدمہ داخل کیا جائیگا، اور ہی کورٹ میں ہرجانہ کے لئے پٹیشن بھی داخل کی جائیگی، اُسی طرح پولیس نے ملزم کی ماں کے ساتھ بد تمیزی کی تھی اس معاملے میں بھی قانونی کارروائی کی جائیگی۔