گھر سے باہر جس پہلی چیز پر آپ کی نظر پڑتی ہے وہ ایک بے ڈھنگا سا درخت ہے جس کی شاخیں نیچے دروازوں اور اوپر چھتوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہاں دو گھر ہیں اور دونوں گھروں کی کھڑکیاں ایک دوسرے سے تقریباً جڑی ہوئی ہیں۔ ان گھروں میں سے ایک گھر راشد کے والد محمد رضا علی کا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے اس گھر میں ایک نوجوان لڑکی اپنے شوہر کا شدت سے انتظار کر رہی تھیں۔ اس لڑکی کے لیے یہ بہت تکلیف دہ دن تھے۔ مگر جب شوہر راشد جیل سے رہا ہو کر واپس گھر آئے تو انھوں نے مسکرا کر انھیں خوش آمدید کہا۔

راشد کو اس الزام میں جیل بھیجا گیا تھا کہ انھوں نے زبردستی اُس لڑکی (اپنی بیوی) کا مذہب تبدیل کر کے ان سے شادی کر لی ہے۔ راشد اور ان کی اہلیہ کے کیس کو ’لو جہاد‘ کا معاملہ بنا کر کچھ مقامی انتہا پسند تنظیموں نے ہنگامہ کھڑا کیا اور ان کے شوہر کو گرفتار کر لیا گیا۔

پنکی کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مرضی سے چھ ماہ قبل راشد سے اپنی مرضی سے شادی کی تھی۔

انھوں نے جیل بھیجے گئے اپنے شوہر کی رہائی کے لیے قانونی جنگ بھی لڑی۔ شوہر جیل سے واپس آئے لیکن اب وہ اس گھر میں نہیں رہتیں جہاں بیاہ کر وہ گئیں تھیں۔ اب اس پرانے بوسیدہ مکان میں تالا لگا ہوا ہے اور سامنے ایک عجیب و غریب درخت کھڑا ہے۔

اس علاقے میں کوئی بھی پنکی اور اس گھر کے بارے میں بات نہیں کرتا ہے۔ سب کہتے ہیں کہ یہ بات کرنے کے لیے وقت مناسب نہیں ہے۔

محلے میں خاموشی ہے یہاں اب صرف راشد کے والد رہتے ہیں۔ سڑک کے دوسری طرف دکان پر بیٹھی ایک بوڑھی خاتون کا کہنا ہے کہ راشد کے والد شرابی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’وہ کیا کہے گا؟ وہ چھوٹا موٹا کام کرتا ہے، جو تنخواہ ملتی ہے وہ شراب میں اڑا دیتا ہے اور ہم کیا کہیں ہمیں اس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ ہم انھیں نہیں جانتے۔‘

راشد کے بریلی جیل سے رہا ہونے کے بعد یہ نوجوان جوڑا یہاں سے چلا گیا تھا۔ یہ جوڑا اب اپنی کہانی سنانے کے لیے یہاں موجود نہیں ہے۔

ان کے وکیل ذوالفقار ٹھیکیدار کا کہنا ہے کہ اب یہ معاملہ ختم ہو گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’وہ غریب لوگ ہیں۔ انھیں یہ خوف بھی ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ وہ کسی پر بھی مقدمہ نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس کیس کے بارے میں بات بھی نہیں کرنا چاہتے۔‘

ٹھیکیدار کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس کیس سے متعلق دستاویزات اپنے واٹس ایپ اور ای میل سے ڈیلیٹ کر دی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک پنکی کا معاملہ خبروں میں تھا۔

انھوں نے الزام لگایا تھا کہ شوہر کی گرفتاری کے بعد عارضی طور پر پولیس نے انھیں فلاحی ادارے ناری نکیتن بھیج دیا تھا اور یہی وہ ادارہ ہے جہاں اُن کا پہلا حمل ضائع ہوا تھا۔

پنکی کی جو ویڈیو وائرل ہوئی تھی اس میں بجرنگ دل کے کارکنان تھانے کے اندر ہنگامہ آرائی کرتے اور ان کے خلاف نعرے بازی کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ان سے بار بار شادی کے کاغذات دکھانے کو کہا جا رہا ہے لیکن شادی کے کاغذات دکھانے کے باوجود بجرنگ دل کے کارکن یہ الزام لگاتے رہے کہ راشد نے زبردستی مذہب تبدیل کرا کر پنکی سے شادی کی۔

کوئی نہیں جانتا پنکی راشد کہاں گئے؟

کوئی نہیں جانتا کہ راشد اور پنکی اب کہاں ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ڈیرہ دون چلے گئے تھے، جہاں راشد سیلون میں کام کرتا تھا۔ یہیں پر دونوں کی پہلی ملاقات ہوئی تھی لیکن راشد کے والد کہتے ہیں کہ وہ رشتہ داروں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ ان کے پاس پیسہ نہیں تھا اور انھیں ڈر تھا کہ اگر وہ گھر میں رہے تو انھیں قتل کر دیا جائے گا۔

اترپردیش کے مراد آباد شہر میں کانٹھ علاقہ فرقہ وارانہ لحاظ سے ایک حساس مقام ہے۔ یہاں پہلے بھی فسادات ہو چکے ہیں۔

سنہ 2014 میں یہاں ایک مذہبی تنازع پر ’مہا پنچایت‘ بلانے کی اپیل کی گئی تھی۔ اس دوران بی جے پی کارکنوں کے ایک بڑے گروہ کا پولیس سے سامنا ہوا تھا۔ اس سے قبل سنہ 2013 میں ستمبر کے مہینے کے دوران مظفر نگر میں ایک مہا پنچایت ہوئی تھی۔ اس کے بعد مظفر نگر میں فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ ان فسادات میں 60 افراد ہلاک اور 40 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے تھے۔

یہاں وہی پرانا سنڈروم پھیلایا گیا تھا کہ ہندوؤں کی آبادی کم ہو رہی ہے۔ بین المذہبی شادیوں کی مخالفت کے پیچھے یہی سوچ کارفرما ہے۔ اسی وجہ سے کچھ تنظیمیں اس طرح کی شادیوں کی مخالفت کرتی ہیں۔

پنکی ضلع بجنور کی رہائشی ہیں، لاک ڈاؤن کے دوران پنکی نے جولائی میں ڈیرہ دون شہر میں راشد سے شادی کے بعد اپنا نام تبدیل کر کے ’مسکان جہاں‘ رکھ لیا تھا۔ پنکی ڈیرہ دون میں بطور لون ایجنٹ کام کرتی تھیں وہاں سنہ 2019 میں ان کی ملاقات راشد سے ہوئی۔ انھوں نے لاک ڈاؤن کے دوران سنہ 2020 میں شادی کی تھی اور پھر راشد کے ساتھ مراد آباد ان کے گھر آ گئیں۔

یہاں راشد کے والد رہتے ہیں۔ لوگوں نے انھیں اپنی ’شادی کا اندراج کروانے‘ کا مشورہ دیا کیونکہ تب تک یو پی میں تبدیلی مذہب کے خلاف آرڈیننس جاری کر دیا گیا تھا۔ راشد کی والدہ فوت ہو چکی تھیں۔ سنہ 2003 میں ان کے والد محمد رضا نے دوسری شادی کر لی تھی۔ محمد رضا کا کہنا ہے کہ وہ راشد اور ان کی اہلیہ کو ان کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے اور انھیں جائیداد میں حصہ نہیں دیں گے۔

محمد رضا کہتے ہیں ’انھوں نے میری مرضی کے خلاف شادی کی۔ میں کیا کروں؟ جیل جاؤں؟ میں نے ان سے کہا کہ عدالت نہ جاؤ لیکن پنکی شادی کا اندراج کروانے پر اٹل تھی۔ اس نے وکیل کو سات ہزار روپے بھی دیے۔‘

محمد رضا تنہا رہتے ہیں اور خوفزدہ ہیں۔ فون پر گفتگو کے دوران بعض اوقات وہ کہتے ہیں کہ جو ہوا اس سے وہ ڈرتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ ان کی بہو گریجویٹ ہے، اس نے بی اے فائنل کا امتحان پاس کیا ہے۔

پانچ دسمبر کو پنکی اور راشد اپنی شادی کی رجسٹریشن کے لیے تحصیل مراد آباد گئے تھے لیکن وہاں انھیں بجرنگ دل کے کارکنوں نے گھیر لیا اور شادی کے دستاویزات طلب کرنا شروع کر دیے۔ یہ لوگ انھیں تھانے لے گئے۔

راشد کے ایک ہمسائے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’جب پنکی نے پولیس کو بتایا کہ اس نے خود چھ ماہ قبل راشد سے شادی کی تھی اور وہ بالغ ہیں تو پولیس نے انھیں چھوڑ دیا تھا۔‘

پڑوسی نے کہا کہ ’ثبوت کے بغیر پولیس ان کو نہیں روک سکی لیکن بجرنگ دل کے لوگوں نے انھیں تھانے میں بند کرا کے رکھا۔ اس کے لیے وہ بیجنور سے پنکی کی والدہ کو لے کر آئے اور ان سے بیٹی کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی۔ نئے قانون کی وجہ سے پولیس انھیں پکڑ کر رکھ سکی۔

راشد کو عدالتی تحویل میں لیا گیا اور مسکان جہاں کو آٹھ گھنٹوں سے زیادہ تھانے میں رکھا گیا تھا۔ اس کے بعد انھیں چھ دسمبر کی دوپہر دو بجے مراد آباد کے خیراتی ادارے ناری نکیتن بھیج دیا گیا۔

ماں سے بیٹی کے خلاف شکایت درج کروائی گئی

پنکی کی والدہ بالا دیوی کا تعلق ایک پسماندہ ذات سے ہے اور وہ بجنور کے ایک گاؤں میں رہتی ہیں۔ کانٹھ پولیس سٹیشن میں پانچ دسمبر کو دفعہ 154 کے تحت درج کی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ راشد اور اس کے بھائی سلیم نے دھوکہ دیا اور راشد نے پنکی سے اس کا مذہب تبدیل کروا کر شادی کر لی۔

بی بی سی نیوز کے پاس اس ایف آئی آر کی ایک کاپی موجود ہے۔ پنکی کی والدہ نے اس میں کہا ہے کہ راشد یکم دسمبر 2020 کو ان کی بیٹی کو گھر سے لے کر آیا تھا۔ جب اس کی فیملی اپنی بیٹی کو بچانے کے لیے کانٹھ پہنچی تو اسے پتہ چلا کہ راشد مسلمان ہے۔ اہلخانہ کا الزام ہے کہ راشد نے اپنی شناخت ان سے چھپائی تھی۔

پنکی کی والدہ نے اپنی شکایت میں لکھا ہے کہ انھوں نے اپنی بیٹی کو برقعے میں دیکھا اور اسے راشد کے پڑوس سے پکڑ کر لے آئیں۔ آٹھ بجے وہ راشد اور اپنی بیٹی کو تھانے لے گئیں۔

’میری بیٹی خوفزدہ تھی کیونکہ انھوں نے اسے دھمکی دی تھی۔ اسی وجہ سے میں ایف آئی آر کر رہی ہوں۔‘

ایف آئی آر پر پنکی کی والدہ بالا دیوی کے انگوٹھے کا نشان تھا۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ انھوں نے ایف آئی آر ٹائپ کروائی ہے۔ لہذا بالا دیوی کا نام بھی ٹائپ کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں راشد اور اس کے بھائی سلیم پر الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس نے ان دونوں کے خلاف اترپردیش تبدیلی مذہب کی غیرقانونی روک تھام آرڈیننس 2020 کی شق (3) اور سیکشن 5 (1) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

فون پر گفتگو کے دوران بالا دیوی کچھ مختلف باتیں کر رہی تھیں۔ انھوں نے کہا ’یہ ہماری عزت کی بات تھی۔ ہماری لڑکی غائب ہو گئی تھی۔ بجرنگ دل کے لوگوں نے ہماری مدد کی۔‘

لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ انھوں نے ایف آئی آر کیوں کی تو وہ کہتی ہیں کہ انھیں کچھ نہیں معلوم۔ پھر وہ کہتی ہیں کہ ’بجرنگ دل کے کارکنوں نے پنکی کو تلاش کرنے میں میری مدد کی۔‘

پنکی کو کچھ دن ناری نکیتن میں رکھا گیا اور پھر مقامی سرکاری ہسپتال لے جایا گیا۔ پنکی کو 15 دسمبر کو راشد کے اہلخانہ کے ساتھ دوبارہ ملایا گیا تھا۔ انھوں نے الزام لگایا کہ ناری نکیتن میں ان پر تشدد کیا گیا۔ جب انھوں نے خون بہنے کی شکایت کی تو انھیں نہ تو مناسب طور پر دوائی دی گئی اور نہ ہی علاج کرایا گیا۔ اسی وجہ سے ان کا حمل ضائع ہو گیا۔

لیکن پولیس اور ناری نکیتن کی انتظامیہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

راشد کی رہائی کے بعد اس جوڑے نے کہا کہ وہ اس معاملے کو مزید آگے نہیں بڑھانا چاہتے ہیں۔ ان کا ارادہ کسی کے خلاف مقدمہ درج کرنا نہیں۔

راشد کے وکیل ٹھیکیدار نے کہا ’وہ اتنے طاقتور نہیں کہ بجرنگ دل کے خلاف مقدمہ درج کریں۔ ہم نے راشد کے والد کی وجہ سے یہ کیس واپس لے لیا۔ وہ اس کے حق میں نہیں تھے۔‘

مراد آباد کی تحصیل کانٹھ میں 54 فیصد آبادی ہندو ہے اور تقریبا 44 فیصد مسلمان ہیں۔ راشد کا گھر پتر گنج کی پچھلی گلیوں میں ہے۔ راشد اور پنکی ستمبر 2020 میں گھر واپس آئے تھے۔ لاک ڈاؤن کے دوران راشد کی ملازمت چھوٹ گئی۔ انھوں نے اپنے والدین کو بتایا کہ انھوں نے جولائی میں پنکی سے شادی کی تھی۔ پڑوسیوں کا کہنا تھا کہ کنبے نے شادی کو تسلیم کر لیا تھا۔

ہندو لڑکیوں کو بچانے کا دعویٰ

مونو وشنوئی خود کو کانٹھا میں بجرنگ دل کا منتظم بتاتے ہیں۔ وہ گلے میں گیروے رنگ کا گمچھا ڈال کر گھومتے ہیں۔ اس علاقے میں ہر کوئی انھیں جانتا ہے۔ نوجوان وکیل ان کے آنے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ان سے مصافحہ کرتے ہیں، لوگ ان کو سلام پیش کرتے ہیں۔

ایک مقامی رپورٹر ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتی ہیں اور وہی منو کے فون پر کال کا جواب دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’پہلے میں ہندو ہوں، پھر رپورٹر۔ منو ہندو مذہب کو بچانے کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں۔‘

وشنوئی نے ہی پنکی اور راشد کی رپورٹ پولیس کو دی لیکن مونو کا کہنا ہے کہ دونوں کے خلاف ہنگامہ آرائی میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ ہم نے پوچھا ’ویڈیو میں آپ کے حامی پولیس سٹیشن میں لڑکی سے دستاویزات دکھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کیا آپ کو اس طرح کی دستاویزات طلب کرنے کا کوئی قانونی حق ہے؟‘

وہ کہتے ہیں ’بچی ہمیں غلط دستاویز دکھا رہی تھی۔ اس وقت ہمارے کارکنان نے اس سے کچھ سوال پوچھے تو اس میں کیا حرج ہے۔‘

35 برس کے مونو وشنوئی سات سال قبل بجرنگ دل میں شامل ہوئے تھے۔ مارکیٹ میں ان کی ایک دکان ہے۔ مونو کا کہنا ہے کہ وہ آر ایس ایس کی مقامی قیادت سے بہت متاثر ہیں اور انھوں نے اپنی برادری کی خدمت کرنےکا عہد کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم ہندو معاشرے کی خواتین کو بچانا چاہتے ہیں۔ ہمارا کام ان خواتین کو ’لو جہاد‘ سے بچانا ہے۔‘

’یہ سب ایک طویل عرصے سے یہاں جاری ہے لیکن ہمارے اپنے لوگوں کا ایک نیٹ ورک موجود ہے جو ہمیں ایسے معاملات کے بارے میں بتاتا رہتا ہے اور پھر ہم مداخلت کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’ہم نے ایسی شادیوں کو روک دیا ہے۔ ہم آپ کو یہ نہیں بتائیں گے کہ ہمارے کام کا طریقہ کیا ہے لیکن ہمارا اپنا ایک نظام ہے اور لوگ ہمیں ایسی شادیوں کے بارے میں معلومات دیتے ہیں۔ اس بنا پر ہم پولیس سے کارروائی کرنے کو کہتے ہیں۔‘

حالانکہ وشنوئی کہتے ہیں کہ پنکی کے بارے میں ان کے لوگوں نے انھیں خبر نہیں دی بلکہ ان کی ماں ہی مدد کے لیے آئی تھیں لیکن راشد کے پڑوسی کا کہنا ہے کہ ’بجرنگ دل کے لوگوں نے ہی پنکی کی ماں سے اپنی ہی بیٹی کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی تھی۔ پنکی کے دستاویز اور نکاح نامے سے ان کے گھر کا پتہ معلوم ہوا۔ اگر پنکی کی ماں کو اعتراض ہوتا تو وہ پہلے ہی رپورٹ درج کروا دیتیں۔‘

پڑوسی کا کہنا ہے کہ بجرنگ دل والے اپنی کار میں بیٹھا کر پنکی کی ماں کو لائے تھے اور انھوں نے ہی ان سے راشد کے خلاف شکایت درج کروائی۔ پولیس نے بھی بجرنگ دل والوں کے دباؤ میں آ کر کیس درج کیا۔

پولیس خاموشی اختیار کرتی رہی

پولیس سٹیشن کی عمارت میں دوپہر کے وقت بلرام سنگھ اپنے دیگر پولیس افسروں کے ساتھ بیٹھے دھوپ کا لطف اٹھا رہے تھے۔

سوال کرنے پر انھوں نے کہا کہ انھیں اس معاملے کی کوئی معلومات نہیں لیکن متعدد رپورٹس میں ان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پنکی اپنی شادی کو جائز ثابت کرنے کے حق میں کوئی دستاویز پیش نہیں کرسکیں۔

وہ کہتے ہیں ’مجھے اس کیس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم اور بجرنگ دل کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔‘

ہم نے کانٹھ پولیس سٹیشن کے انچارج اجے کمار گوتم سے ملنے کی کوشش کی تو ان کا کہنا تھا ’میں یہاں آپ کے سوالات کے جواب دینے کے لیے نہیں بیٹھا ہوں۔ پوری دنیا کا ٹھیکہ لے رکھا ہے کیا۔‘

ہم نے پوچھا کہ ’ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ بجرنگ دل کے کارکن لڑکی کے خلاف ہنگامہ آرائی کر رہے ہیں تو آپ نے انھیں گرفتار کیوں نہیں کیا جواب میں انھوں نے کہا کہ لڑکی کی ماں نے شکایت درج کروائی تھی اور ہم قانون کے حساب سے کام کر رہے ہیں۔ اب آپ جا سکتے ہیں۔‘

مراد آباد کے اے ایس پی (دیہی) ودیاساگر مشرا کا کہنا ہے کہ انھیں میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں کیونکہ پولیس ابھی بھی اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

اب ہم اس گلی میں کھڑے ہیں جہاں چند ماہ قبل تک پنکی اور راشد رہتے تھے۔ گھر کے سامنے جھکی ہوئی شاخوں والا درخت اب بھی خاموشی سے کھڑا ہے۔ گھر میں تالا لگا ہوا ہے۔

جو بھی ہوا اسے تسلیم کرنے کو کوئی تیار نہیں۔ ہر ایک اسے فراموش کر کے اپنی زندگی میں مصروف ہے۔ صرف وہ نہیں بھولے جن کے ساتھ یہ سب کچھ ہوا تھا اور یہاں کا آشیانہ چھوڑ کر وہ کہیں دور چلے گئے ہیں۔

ان کا جانا اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کو بھول کر زندگی میں آگے بڑھنا نہیں بلکہ وہ زندگی بسر کرنے کی کوشش میں یہاں سے دور کہیں اور چلے گئے ہیں۔(بہ شکریہ بی بی سی اردو )