لو جہاد‘ پر قدغن لگانے کی کوشش ,اتراکھنڈ میں ’تبدیلیٔ مذہب‘ کا قانون مزید سخت، 10 سال کی سزا کا التزام،

86

نینی تال:16/نومبر(ایجنسیز)اتراکھنڈ حکومت نے آج ہوئی کابینہ میٹنگ میں تبدیلیٔ مذہب اور لو جہاد کے تعلق سے ایک انتہائی اہم قدم اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ کابینہ میٹنگ میں جبراً مذہب تبدیلی پر لگام کسنے کے مقصد سے قانون کو مزید سخت بنانے کے لیے کچھ ترامیم کی گئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اب جبراً مذہب تبدیلی قابل سزا جرم ہوگا اور اس کے تحت سزا کا بھی التزام کیا گیا ہے۔

نئے قانون میں جبراً مذہب تبدیلی کرانے پر 10 سال کی سزا کی سہولت ہے۔ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ مذہبی تبدیلی اور لو جہاد جیسے معاملوں پر قدغن لگ سکے۔بدھ کے روز ہوئی اتراکھنڈ حکومت کی کابینہ میٹنگ میں مجموعی طور پر 29 تجاویز پیش کی گئیں۔

ان تجاویز میں سے ایک جبراً مذہب تبدیلی سے متعلق قانون میں ترمیم بھی ہے۔ اس کے تحت اب اتراکھنڈ میں مذہب تبدیلی قانون اتر پردیش سے بھی زیادہ سخت ہو گیا ہے۔ ریاست میں جبراً مذہب تبدیلی پر 10 سال کی سزا دیئے جانے کی تجویز منظور کر لی گئی ہے۔ جلد ہی یہ بل اسمبلی میں بھی پیش کیا جائے گا۔

مزید تجاویز سے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ کابینہ میٹنگ کے دوران نینی تال ہائی کورٹ ہلدوانی میں منتقل کرنے پر بھی مہر لگ گئی ہے۔ اس بات کا گزشتہ کافی وقت سے مطالبہ چل رہا تھا۔ اس کے علاوہ دھامی کابینہ میٹنگ میں جن اہم ایشوز پر مہر لگائی گئی وہ ہیں ’اپنی سرکار‘ پورٹل کے لیے بحالی تجویز، آبی توانائی پروجیکٹ کے لیے ٹی ایچ ڈی سی اور یو جی وی این ایل کے درمیان مشینیں بنانا، ریاست میں 4جی موبائل کنکٹیویٹی بڑھانے کے لیے موبائل ٹاور کے لیے 2000 اسکوائر گز زمین مفت دیا جانا، فائر بریگیڈ اصول و ضوابط کو منظوری، اور اتراکھنڈ دکان و قیام بل 2022 کی تجویز وغیرہ۔ ان سبھی تجاویز پر کابینہ میٹنگ میں مہر لگ گئی۔