!-- Auto Size ads-1 -->

شکیل رشید
ایک گھر کا بنانا آسان نہیں ہے۔میں یہ بات اپنے تجربات کی بنیاد پر کررہا ہوں، کہ ہنوز کوئی کمرہ میرے پاس ایسا نہیں ہے جسے میں اپنا مکمل گھر کہہ سکوں۔ والدہ مرحومہ نے ایک گھر بڑی مشکل سے، پیسے جوڑ جوڑ کر بنایا، وہ بھی وطن میں ہے، ممبئی میں میرے کسی کام نہیں آسکتا۔ لیکن اس میں رہوں نہ رہوں، اسے کسی حد تک اپنا گھر کہہ سکتا ہوں۔ اس سے ایک لگائو ہے۔ یہ لگائو اس لیے ہے کہ اس کے بنانے میں جو مشکلات پیش آئیں، وہ دیکھی اور جھیلی ہوئی ہیں۔ ایک دفعہ خبر آئی کہ گھر کے کسی کمرے میں آگ لگ گئی ہے، میں تڑپ اُٹھا تھا۔

اور یہ معاملہ صرف میرا نہیں ہے، اس ملک میں نہ جانے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے تنکے جوڑ جوڑ کر اپنے آشیانے بنائے ہیں، تکلیفیں، مشکلات اور پریشانیاں جھیلی ہیں۔ ان لوگوں میں مدھیہ پردیش کے کھرگون کے وہ مسلمان بھی ہیں جن کے گھروں کو بلڈوزر سے ڈھادیاگیا ہے اور گجرات واترپردیش کے وہ مسلمان بھی ہیں جن کے گھر وں پر بڑی ہی بے حسی کے ساتھ بلڈوزر چڑھادئے گئے ہیں۔ جنہوں نے بلڈوزر چلوائے، وہ آج کے دور کے حکمراں ہیں، یوگی آدتیہ ناتھ، شیوراج چوہان، نروتم مشرا، بھوپیندر بھائی پٹیل اور وزیر اعظم نریندر مودی ومرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ ۔ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ زمین ان کی ملکیت ہے اور وہ جب چاہیں جیسے چاہیں ، ویسے اس زمین کا استعمال کرسکتے ہیں، اور اس زمین پر رہنے والے غریبوں، مجبوروں وبے کسوں کی زندگیوں سےکھیل سکتے ہیں۔ یہ کھیل ہی تو ہے، انتہائی ظالمانہ اور بے رحمانہ کھیل کہ بسے بسائے گھروں پر بلڈوزر چلوادئے جائیں۔ قدیم دور میں لوگوں کو ہاتھیوں کے پیروں تلے روندوادیاجاتا تھا، گھوڑوں کے سموں سے جسموں کو گودوایا جاتا تھا یہ بادشاہوں کی تفریح کا کھیل تھا، آج یہ کھیل مسلمانوں کے ساتھ کھیلا جارہا ہے، بس ہاتھیوں اور گھوڑوں کی جگہ بلڈوزروں نے لے لی ہے۔ یہ کھیل کھیلنے والے اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ وہ بادشاہ، جو یہ ظالمانہ کھیل کھیلا کرتے تھے باقی نہیں رہے، ہاں! مگر غریب عوام آج بھی باقی ہیں اور ہمیشہ باقی رہیں گے۔

ایم پی میں جب وزیر داخلہ نروتم مشرا سے کوئی پوچھتا ہے کہ انہوں نے کیوں ایسا کیا؟ تو بڑی ہی نخوت اور گھمنڈ سے وہ کہتے ہیں کہ ’پتھر چلانے والوں کے گھر پتھر میں بدل دیں گے‘۔ کیا آج کوئی یہ تصور کرسکتا ہے کہ مسلمان اپنے گھروں سے رام نومی کے یا کسی او رموقع کے جلوس پر، پتھرائو کریں گے؟ یہ ناممکن ہے لیکن جھوٹ بولا جارہا ہے او رجھوٹ بولتے ہوئے کوئی شرم انہیں نہیں آتی۔ دوسرا سوال یہ کہ کیوںکر بغیر کسی نوٹس کے، کسی تحقیق کے اور تفتیش کے کسی کے گھر منہدم کروائے جاسکتے ہیں؟ تو جواب ہوتا ہے کہ یہ فسادی ہیں۔ آئین نے تو اس ملک میں فسادیوں کے کیا قاتلوں کے گھروں کو بھی منہدم کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ اجازت ہوتی تو گاندھی کے قاتل گوڈسے کا گھر پہلے ڈھایاجاتا۔ گجرات میں ۲۰۰۲ کے مسلم کش فسادات کے مجرموں کے مکانوں پر پہلے بلڈوزر چلائے جاتے۔ مگر کسی کے بھی مکان کو ڈھانا نہ تو قانوناً درست ہے اور نہ ہی ایسا کسی بھی حکومت نے کیا ہے۔ یہ جرم ہے اور آج اس جرم میں سارے ہندوستان کی فاشسٹ طاقتیں ملوث ہیں۔ مسلمانوں کے گھر پہلے فسادی لوٹتے ، توڑتے اور تباہ وبرباد کرتے تھے اب یہ کام بی جے پی حکومتیں کرنے لگی ہیں۔ ابھی ابھی ایم پی کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کا بیان پڑھا کہ جو گھر تباہ ہوئے ہیں حکومت ان کے بنوانے میں تعاون کرے گی اور اس کے پیسے فسادیوں سے وصولے گی۔ یہ مکانات جنہیں بنوانے کی بات کی جارہی ہے ، مسلمانوں کے نہیں ان کے ہیں جو اصلی فسادی ہیں۔ اور پیسے جن سے وصولےجائیں گے وہ مسلمان ہیں یعنی مظلوم۔۔تو اب اس ملک میں لفظوں کے معنی تبدیل کردئیے گئے ہیں، مسلمان کا مطلب فسادی اور فسادی کا مطلب مظلوم ہوگیا ہے۔