لوک سبھا انتخابات 2019ءمیں 85% نشستوں پر کانگریس و بی جے پی کا راست مقابلہ

0 21

نئی دہلی ، 21 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ملک میں سیاسی ماحول بدل رہا ہے۔ حالیہ پانچ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے اُبھرنے اور بی جے پی کا گراف نیچے گرنے کا رجحان ٹھوس شکل اختیار کرگیا۔ لیکن قطعی فیصلہ ہنوز باقی ہے کہ ان پارٹیوں کی سیاسی قسمتیں کون سی سمت اختیار کریں گی۔ ایک رائے ہے کہ بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے کو مختلف پارٹیوں کے گروپ کا سامنا رہے گا جبکہ متحدہ اپوزیشن کی ابھی کوئی واضح تصویر نہیں اُبھری ہے۔ تاہم، یہ بحث کسی قدر سطحی اور حد سے زیادہ سادہ ہے۔ سچائی یہ ہے کہ ملک کے زیادہ تر حلقوں میں دو پارٹیوں اتحادوں کے درمیان راست مقابلہ ہے۔ کانگریس اور علاقائی پارٹیوں کے درمیان نشستوں پر مفاہمت ہوگی، لیکن سرسری حساب لگائیں تو تقریباً 450 سے زیادہ نشستوں کیلئے راست مسابقت ہوگی۔ دیگر 93 حلقوں میں سہ رخی مقابلہ ہوسکتا ہے۔ ان میں سے 70 نشستیں مغربی بنگال، اوڈیشہ اور دہلی سے ہیں۔ وہ ریاستیں جہاں لوک سبھا نشستوں کیلئے کانگریس اور بی جے پی کے درمیان راست مقابلہ رہے گا، یوں ہیں:راجستھان (25 سیٹیں)، مدھیہ پردیش (29)، چھتیس گڑھ (11)، ہماچل پردیش (4)، اترکھنڈ (5)، گجرات (26)، ہریانہ (10)۔ اس فہرست میں کہا جاسکتا ہے کہ ہریانہ میں چوٹالہ فیملی کی پارٹیاں بھی ہوں گی، اور وہ تیسرے عنصر کا رول ادا کریں گے۔ لیکن یہاں ووٹر کی تقسیم اس قدر شدید ہے کہ کسی تیسرے عنصر کا کوئی نمایاں اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے۔ شاید اسمبلی انتخابات میں یہ پارٹیاں کچھ رول ادا کرسکتی ہیں۔مہاراشٹرا اور ٹاملناڈو کے بشمول کئی ریاستوں میں کانگریس اور بی جے پی اتحادوں میں شامل ہیں، جہاں سے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کیلئے 273 نمائندے منتخب کئے جاتے ہیں۔ مہاراشٹرا میں 48 اور پنجاب میں 13 لوک سبھا نشستیں ہیں۔ اسی طرح کرناٹک (28)، ٹاملناڈو (39)، بہار (40)، جھارکھنڈ (14)، تلنگانہ (17)، آندھرا پردیش (25)، گوا (2)، جموں و کشمیر (6)، آسام (14)، کیرالا (20) ہیں۔ اس زمرے میں مہاراشٹرا کی صورتحال دلچسپ ہے۔ کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ جس طرح شیوسینا کی بی جے پی پر تنقیدیں جاری ہیں، ان کا اتحاد ٹوٹ سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر مقابلہ سہ رخی ہوجائے گا، اور اس سے بی جے پی کو نقصانات ہوسکتے ہیں۔ آندھرا پردیش میں کانگریس۔ ٹی ڈی پی مخلوط کو وائی ایس آر کانگریس کا سامنا ہے، اور تلنگانہ میں انھیں ٹی آر ایس سے راست مقابلہ درپیش ہے۔ یہاں بی جے پی بھی لڑے گی، اور پھر ’ووٹ کٹوا‘ اے آئی ایم آئی ایم بھی ہے۔ یہاں بی جے پی کی کچھ خاص طاقت نہیں ہے۔ اور ووٹ کاٹنے کا اس طرح کے پُرجوش مقابلوں میں کوئی بڑا اثر نہیں پڑتا ہے۔ سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں 80 لوک سبھا سیٹیں ہیں، جہاں علاقائی پارٹیوں کو مخلوط اور بی جے پی این ڈی اے کیساتھ راست ٹکرا¶ درپیش ہے۔ 70 سیٹوں کیلئے سہ رخی مقابلہ ہے جن میں بنگال کی 42، دہلی کی 7، اوڈیشہ کی 21 نشستیں شامل ہیں۔ بنگال کے حالات دلچسپ ہیں۔ یہاں چار مختلف گوشے ہیں: برسراقتدار ٹی ایم سی، بی جے پی، لیفٹ اور کانگریس۔ اگر ٹی ایم سی چند نشستیں کانگریس کو دیتی ہے تو اس کا جوکھم گھٹ جائے گا۔ آیا بائیں بازو کی موجودگی سے ممتا بنرجی کو فائدہ ہوگا یا نقصان ، یہ دیکھنا باقی ہے۔تاہم، یہ یقینی معلوم ہوتا ہے کہ کانگریس کی ممتا بنرجی کے ساتھ رسمی یا غیررسمی طور پر مفاہمت ضرور ہوگی۔ اس کے بعد بقیہ شمال مشرقی ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں میں جہاں 17 نشستیں ہیں، زیادہ تر راست مقابلہ رہے گا: اروناچل پردیش (2)، منی پور (2)، میگھالیہ (2)، ناگالینڈ (1)، تریپورہ (2)، سکم (1)، میزورم (1)، چنڈی گڑھ (1)، انڈمان نکوبار (1)، دادر نگر حویلی (1)، دمن دیوو (1)، لکشادویپ (1)۔ بڑی حد تک دونوں فریقوں کیلئے اتحادوں میں کچھ شبہ نہیں۔ بی جے پی کا نعرہ ہے کہ ”مودی کے آگے کون“ کیونکہ وہ جانتی ہے کہ ریاستی سطح پر کانگریس اور علاقائی پارٹیوں کے درمیان بہت کم ہم آہنگی ہے۔ بہرحال یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ 2019ءمیں ہمیں کم از کم 85 فیصد لوک سبھا نشستوں کیلئے راست مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔