”لوجہاد“ پرقانو ن ٗمہاراشٹرحکومت مناسب فیصلہ کرے گی : فڑنویس

83

ناگپور: مہاراشٹرا حکومت ”لوجہاد“ پر دیگر ریاستوں کی جانب سے وضع کردہ قوانین کا مطالعہ کرکے ہی مناسب فیصلہ کرے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر دیویندر فڑنویس نے یہ بات کہی۔منگل کو مہاراشٹرا مقننہ کامپلکس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پھڈنویس نے کہا کہ شردھا والکر کیس سے متعلق ایوان میں یہ ”احساس“ ہے کہ ریاست میں ”لوجہاد“ کے معاملے بڑے پیمانے پر دیکھے گئے۔

پھڈنویس نے جو داخلہ کا قلمدان بھی رکھتے ہیں نے کہا کہ ہم نے (ایوان کو) تیقن دیا کہ دیگر ریاستوں کے لو جہاد قوانین کا ہم مطالعہ کریں گے۔ اس کی بنیاد پر ہماری حکومت مناسب فیصلہ کرے گی تا کہ کوئی خاتون یا لڑکی کسی سازش کا شکار نہ ہو۔“ اسمبلی میں انہوں نے کہا کہ ”لوجہاد“ پر سخت قانون سازی کا مطالبہ ہے۔

ریاستی حکومت‘ بین مذہبی شادیوں کے خلاف نہیں ہے۔ مگر حالیہ عرصہ میں اسے احساس ہوا کہ یہ سازش کا حصہ ہے۔ بعض اضلاع میں اس طرح کی شادیاں بڑی تعدادمیں ہورہی ہیں۔“ بی جے پی کے ارکان اسمبلی اتل بھتکھالکر اور آشیش شیلار نے شردھا والکر کے قتل کا مسئلہ ایوان زیریں میں اٹھایا۔ڈپٹی چیف منسٹر دیویندر پھڈنویس نے کہا کہ حکومت پرانی پنشن اسکیم بحال نہیں کرے گی کیوں کہ اس سے سرکاری خزانے پر1.10لاکھ کروڑ روپئے کا بوجھ عائد ہوگا اور ریاست دیوالہ ہوجائے گی۔

ریاستی اسمبلی میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پھڈنویس نے کہا کہ پرانی پنشن قسم 2005میں بند کردی گئی تھی۔ انہوں نے ریاست کے مفاد میں پرانی پنشن اسکیم کو بند کرنے کا فیصلہ لینے پر اس وقت کی کانگریس۔ این سی پی حکومت کی ستائش بھی کی۔