لاک ڈاون کے مشکل حالات کا سامنا کرنے کےلئے عید کی خریداری نہ کرنے علماء کی اپیل

DSC_2464ناندیڑ:2مئی (ورق تازہ نیوز)ملک میں ان دنوں لمبے عرصے کےلئے لاک ڈاون کیا گیاہے ۔کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے لئے لگائے گئے لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے لوگوں کو شدید معاشی مسائل کا سامنا کرناپڑرہاہے ۔کاروبار بند ہونے سے غریبوں کے علاوہ عام بر سر روزگارر طبقہ طبقہ بھی بے روزگاری کا شکار ہوگیا ہے ۔جس کی وجہ لوگوں کو اپنی بنیادی ضرورتیں پورا کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہے ۔ ایسے میں رمضان کا مبارک مہینہ بھی جاری ہے ۔لوگ اپنے اپنے گھروں میں عبادتیں کررہے ہیں ۔رمضان میں عید کی خریداری کا ایک عام ماحول ہوتاہے ۔تاہم موجودہ لاک ڈاون کے حالات میں عید کی خریداری سے متعلق ناندیڑ کی کل جماعتی تحریک سے وابستہ علماءاکرام نے ایک متفقہ طورپر بیان جاری کیا ہے ۔

جس میں یہ کہا گیا ہے کہ لاک ڈاو¿ن کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ عید کےلئے کپڑے اور دیگر لوازمات کی خریداری میں اپنا پیسہ خرچ نہ کرے بلکہ موجودہ مشکل حالات میں اپنے اوراہل وعیال کی بنیادی کھانے پینے سے متعلق اشیاءکی فراہمی پر صرف کرے ۔اس کے علاوہ جو صاحب استطاعت لوگ ہے ان سے یہ اپیل کی گئی ہے کہ وہ عید کی خریداری میں خرچ ہونے والے پیسوں کو غریبوں کے لئے کھانے پینے کی اشیاءکی فراہمی میں لگائے ۔اس سلسلہ میں آج کل جماعتی تحریک کے ذمہ داران کی ایک اہم پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں تحریک کے صدر مفتی ایوب قاسمی ،مولانا سرور قاسمی ،مولانا آصف ندوی اور مولانا عظیم رضوی موجود تھے ۔اس پریس کانفرنس کے دوران عید کی خریداری کے علاوہ دیگر کئی اہم امور پر بھی گفتگو کی گئی جس کے تحت ناندیڑ میں اچانک کورونا متاثرین کی تعداد میں ہورہے اضافہ پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ۔اچانک سکھ طبقہ کے بیس افراد کورونا سے متاثر پائے جانے پر میڈیا کے چند حلقوں کی جانب سے ایک مخصوص طبقہ پر کی جارہی تنقید کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ۔علماءنے کہا کہ کورونا وائرس مذہب کو دیکھ نہیں بلکہ جو بھی اس کی ضد میں آتاہے اس کو متاثر کرتا چلا جارہاہے ایسے میں میڈیا کے چند فرقہ پرست ذہنیت کے حامل نمائندے کورونا وائر س کے پھیلاو¿ کی بنیاد پر مذہبی اقلیتوں کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں اور انہیں کورونا کے پھیلنے کا ذمہ دار ٹہرانے کی کوشش کررہے ہیں ۔سابق میں تبلیغی جماعت کو نشانہ بنایا گیا اور اب سکھ سماج کو ذمہ دار بتانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

علماءنے کہا کہ ہم لوگ سکھ سما ج کے ساتھ ہے اور ان سے اظہار ہمدردی کرتے ہیں ۔ان میں سے اگر کچھ افراد سے غلطی ہوئی ہے تو اس کےلئے پورے سماج کو تنقید کا نشانہ بنانا کسی بھی صورت میں صحیح نہیں ہے ۔سکھ سماج کے ذمہ داران نے جان بوچھ کر وائرس کو نہیں پھیلایا بلکہ انجانے میں ان کے چند افراد اس مرض کا شکار ہوئے ہیں ۔گردوارہ کے لنگر سے ناندیڑ کے ہزاروں بھوکے لوگوں کو دو وقت کا کھانہ مہیا کیا جارہاتھا یہ ان کی انسانیت کے جذبے سے کی جانے والی کوششیں نا قابل فراموش ہے ۔اب جبکہ ان میں متاثرہ افراد پائے گئے ہیں تو ان کے ساتھ نفرت کرنے کے بجائے ان سے ہمدردی کرنی چاہئے اور اس مرض سے کیسے انہیں بچایا جاسکتا ہے اس کی کوششیں ہونی چاہئے ۔اس سلسلہ میں ضلع انتظامیہ کی جانب سے کی جارہی کوششوں کی بھی ستائش کی گئی ۔کل جماعتی تحریک کے ذمہ داران افطار کی خریداری کے حوالے سے بھی اہم باتیں بتاتے ہوئے لوگوں سے گذارش کی ہے کہ لاک ڈاو¿ن کے موجودہ حالات میں بازار سے ملنے والی اشیاءکے بجائے اپنے اپنے گھروں میں پکوان تیار کرکے افطار ی کا نظم کرنے کی نصیحت کی ہے ۔کیونکہ چند مسلم بستیوں میں یہ دیکھا جارہاہے کہ لوگ افطار کی خریداری کےلئے بازاروں کا رخ کررہے ہیں گلیوں میں پھلوں کی جودکانیں لگ رہی ہے وہاں بھیڑ جمع ہورہی ہے اور سماجی دوری کے حوالے سے جو ہدایات دی گئی ہے اس کی کھلے عام خلاف ورزی ہورہی ہے ۔ اس لئے افطاری باہر خریدنے کے بجائے گھروں میں ہی تیار کرنے کی اپیل کی گئی ۔نمازوں کے حوالے سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ تراویح کی سمیت تمام نمازیں اپنے اپنے گھرو ں میں افراد خانہ کے ساتھ ادا کی جائے ناکہ گھروں میں دوست احباب جمع کرکے مجموعہ کرکے کورونا وائرس کو پھیلنے کا سبب بنے ۔پریس کانفرنس کے دوران کل جماعتی تحریک کی جانب سے غریب اور ضرورت مند خاندانوں میں تقسیم کئے جارہے راشن کٹ کے حوالے سے بھی اہم باتیں بتائی گئی ۔جس میں یہ کہاگیا کہ ا ب تک جملہ ۶ ہزا ر سے زائد راشن کٹ تقسیم ہوچکی ہے اور مزید ۱ ایک ہزار راشن کٹ جلد ہی تقسیم کی جائے گی ۔شہر میں ضرورت مند افراد کی تعداد زیادہ ہے اور وسائل محدود ہونے کی وجہ سے ابھی بھی کئی ضرورت مندوں تک اناج نہیں پہنچایا جاسکا ہے ۔اس کے لئے لوگوں سے اپیل کی جارہی ہے کہ وہ اپنے آس پڑوس کے لوگو ں کا خیال رکھے اور حسب ضرورت ان کی امداد کرے ۔