Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

لاک ڈاون:حجام کی دوکانیں اور بیوٹی پارلر بند ہونے سے عوام پریشان

IMG_20190630_195052.JPG

پاکستان میں لاک ڈاؤن کے سبب حجام کی دکانیں اور بیوٹی پارلرز بند ہیں۔ ایسے میں شہریوں کو جو مشکل درپیش ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کسی کو داڑھی نہ بنانے کا دکھ تو کوئی لمبے ہوتے بالوں سے تنگ آگیا ہے۔ اسی طرح خواتین کو بھی ویکسنگ، تھریڈنگ اور آرائش گیسو کی فکر ہے۔

مگر کچھ ایسے افراد بھی ہیں، جنھوں نے اس مشکل کا حل تلاش کر لیا ہے، اور گھر بیٹھے ہی وہ تمام کام خود کر رہے ہیں جس کے لیے عمومی طور پر اُن کو حجام یا کسی سیلون پر جانا پڑتا ہے۔یہ جاننے کے لیے اُردو نیوز نے بزنس مین عمیر نقاش سے بات کی جنھوں نے اپنے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں اُنھوں نے اپنے بال اور داڑھی خود کاٹ کر دکھائی۔

عمیر نقاش نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے مشکل ہی ہے کہ اگلے کچھ دنوں میں حالات معمول پر آئیں۔ اسی وجہ سے اُنھوں نے یوٹیوب سے سکیھ کر خود اپنے بال اور داڑھی بنائی۔اُنھوں نے مزید بتایا کہ وہ اس کے بعد آن لائن اپنے دوستوں کو سکھانے والے ہیں کہ وہ اپنے بال کیسے کاٹیں۔

عمیر نے بتایا کہ اس سے قبل اُنھوں نے کبھی خود اپنے بال یا داڑھی کاٹنے کی کوشش نہیں کی تھی کیونکہ اُن کو خراب کرنے کا ڈر تھا وہ بھی اپنے ہی ہاتھوں سے۔ دوسری جانب اسی طرح خواتین کے بھی اپنے مسائل ہیں۔ جیسا کہ بال رنگ کرنا، تھریڈنگ، ویکسنگ وغیرہ۔ ایسے میں ہر خاتون پریشان ہے کہ کیسے وہ گھر میں ہی رہ کر اپنا بناؤ سنگھار بغیر بیوٹی پارلر جائے کر سکتی ہے۔ خواتین کے انہی مسائل کو حل کرنے کی ذمہ داری پروفیشنل بیوٹیشن عُروج ریاض نے اُٹھا لی ہے۔ عروج ریاض نے اُردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ آنے والے ایک دو دن میں آن لائن کلاسوں کا آغاز کرنے والی ہیں۔

وہ گھر میں ویکس بنانے سے لے کر سیلون پر کیے جانے والے کام بھی سکھائیں گی۔ عروج نے بتایا کہ وہ کلاسوں کے لیے کسی سے فیس نہیں لے رہیں بالکہ اُن کو یہ خیال سوشل میڈیا پر خواتین کے مسائل دیکھ کر آیا ہے۔

ایک طرف وہ شہری ہیں جو حجام اور بیوٹی پارلرز بند ہونے کے سبب پریشان ہیں تو دوسری جانب وہ افراد ہیں جن کا روز گار ہی اس پیشے سے وابستہ ہے۔

ماجد فاروق حجام کا کام کرتے ہیں، اُردو نیوز سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے بتایا کہ کام بند ہونے کی وجہ سے اُن کو گھر چلانے میں انتہائی مشکل ہیش آ رہی ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ جو لوگ اُن کو جانتے ہیں وہ اُن سے گھر پر آ کر کام کروا رہے ہیں، مگر اس کے باوجود اتنی کمائی پر گزار کرنا مشکل ہے۔

اسی طرح بیوٹی پالرز پر کام کرنے والی خواتین کو بھی یہی ڈر ہے کہ اگر یہ لاک ڈاؤن زیادہ عرصہ رہا تو شاید اُن کو اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑے کیونکہ جب کام ہی نہیں ہو گا تو تنخواہ کہاں سے ملے گی۔