لاک ڈاؤن کے بغیر جنوبی کوریا نے وائرس پر قابو پانے کے لیے کیا کیا؟

صورت حال پر قابو پانے کے لیے کئی ملکوں کے برعکس جنوبی کوریا نے مکمل لاک ڈاؤن اور شہریوں کی نقل و حرکت پر کڑی پابندیاں نہیں لگائیں، بلکہ اپنی توجہ متاثرہ افراد کی تشخیص اور انہیں محدود کرنے پر مرکوز کی۔

حکام نے شہریوں میں مرض کی تشخیص کے لیے جگہ جگہ چیک پوائنٹ اور خیمے قائم کیے، جہاں جو چاہے جب چاہے کورونا کا مفت ٹیسٹ کرا سکتا ہے۔

♨️Join Our Whatsapp 🪀 Group For Latest News on WhatsApp 🪀 ➡️Click here to Join♨️

ملک میں اب تک قريب تین لاکھ لوگ اپنا ٹیسٹ کرا چکے ہیں اور روزانہ مزید بیس ہزار کے لگ بھگ شہری اپنا ٹیسٹ کرا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جنوبی کوریا نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ’ڈرائیو تھرو‘ ٹیسٹنگ کی سہولت بھی متعارف کرائی، جسے پھر دیگر ملکوں نے بھی اپنایا۔

نتیجہ یہ کہ جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کرانے والوں کی تعداد امریکا اور جرمنی جیسے ملکوں سے کہیں زیادہ ہے۔ جن لوگوں میں کورونا وائرس پایا گیا، انہیں سیدھا قرنطینہ روانہ کر دیا جاتا ہے۔ چاہے انہیں بخار اور نزلے زکام کا علامات ہوں یا نہ ہوں۔ جنوبی کوریا میں ایسے مریضوں کی تعداد تیس فیصد بتائی گئی ہے، جو کہ چین اور جاپان کے اعدادوشمار سے ملتی ہے۔ لیکن یہ معلومات عالمی ادارہ صحت کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق یورپی یونین میں وائرس سے متاثرہ لیکن بظاہر بالکل صحت مند لوگوں کی تعداد ایک یا تین فیصد سے زائد نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  الیکٹرانک سگریٹ سے ہلاکتوں پر امریکہ میں تشویش

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me