پہلے الٰہ آباد یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر سنگیتا شریواستو نے بوقت فجر لاؤڈاسپیکر سے اذان دیے جانے پر نیند میں خلل پڑنے اور سرد ہونے کی شکایت کرتے ہوئے انتظامیہ کو خط لکھا تھا، پھر بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) کے طالب علم کرونیش پانڈے نے لاؤڈاسپیکر سے اذان کے سبب پڑھائی میں دقت کی بات کہی، اور اب یوگی حکومت میں وزیر آنند سوروپ نے ضلع مجسٹریٹ کو خط لکھ کر کہا ہے کہ اذان سے انھیں پریشانی ہو رہی ہے۔ 23 مارچ کو لکھے گئے خط میں انھوں نے مساجد پر لگے لاؤڈاسپیکر پر پابندی لگانے کے لیے ضلع مجسٹریٹ کو خط لکھا ہے۔

اپنے خط میں آنند سوروپ نے لکھا ہے کہ مساجد میں نماز کے لیے اذان، دن بھر لاؤڈاسپیکر کے ذریعہ مذہبی اعلانات، مسجد تعمیر کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کی گزارشات کو بہت تیز آواز میں نشر کیا جاتا ہے۔ اس سے طلبا و طالبات کو پڑھنے لکھنے اور بچوں، بوڑھوں و بیمار لوگوں کی صحت پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ عوام کو بہت زیادہ صوتی آلودگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ضلع مجسٹریٹ کو لکھے گئے اس خط میں وہ آگے لکھتے ہیں کہ میرے اسمبلی حلقہ میں واقع مدینہ مسجد قاضی پورہ، تھانہ-کوتوالی، بلیا کے نزدیک کئی تعلیمی ادارے موجود ہیں۔

ان میں سینٹ جوزف، مہرشی ودیا مندر، ستیش چندر مہاودیالیہ وغیرہ میں پڑھائی کرنے والے طلبا کو لاؤڈاسپیکر کی تیز آواز کے سبب پڑھنے میں خلل پیدا ہو رہا ہے۔ مسجد میں پانچوں وقت نماز کی اذان اور سارا دن دیگر اطلاعات نشر کی جا رہی ہیں، جس سے ہونے والے شور کے سبب یوگا، پوجا پاٹھ اور سرکاری کاموں میں بھی پریشانی ہو رہی ہے۔یوگی کے وزیر نے اس سلسلے میں عدالت کی جانب سے جاری ایک حکم کا حوالہ دیتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ سے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں عدالت کے ذریعہ دی گئی ہدایات اور حکومت کے ذریعہ جاری احکامات پر عمل کو یقینی بناتے ہوئے مسجدوں میں لگے لاؤڈاسپیکروں کو ہٹوانے کی تکلیف اٹھائیں تاکہ عام لوگوں کے ساتھ ہی بزرگوں کی صحت پر ہونے والے منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔