لاؤڈاسپیکر تنازعہ ’فالتو ایشو‘، مسجدوں سے ہٹانے کی ضرورت نہیں:نتیش کمار

0 16

پٹنہ :(ایجنسی)ملک بھر میں لاؤڈاسپیکر تنازعہ اس وقت زوروں پر ہے۔ اتر پردیش میں تو سینکڑوں مساجد سے لاؤڈاسپیکر ہٹا دیئے گئے ہیں، ہزاروں عبادت گاہوں میں اس کی آواز کم کی گئی ہے۔ اتر پردیش کے علاوہ دیگر بی جے پی حکمراں ریاستوں میں بھی مسجدوں سے لاؤڈاسپیکر ہٹانے کا مطالبہ جاری ہے۔ بہار میں بھی بی جے پی نے جنتا دل یو کے ساتھ مشترکہ طور پر حکومت بنائی ہوئی ہے، اس لیے کچھ بی جے پی لیڈران نے بہار میں بھی لاؤڈاسپیکر تنازعہ کو طول دے دیا ہے۔ جب اس سلسلے میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے سوال کیا گیا تو انھوں نے اسے ’فالتو ایشو‘ قرار دے دیا۔

ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ بہار میں ان سب چیزوں پر کوئی خطرہ نہیں ہے۔ یعنی مسجدوں سے لاؤڈاسپیکر ہٹائے جانے کا کوئی منصوبہ فی الحال ریاستی حکومت کا نہیں ہے۔لاؤڈاسپیکر سے متعلق پورے ملک میں ہو رہی سیاست کے بارے میں جب نتیش کمار سے ایک نامہ نگار نے سوال کیا تو انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’یہ فالتو کی چیز ہے، جسے جیسے من کرتا ہے وہ ویسے چلتا ہے۔ سب کی اپنی خواہش ہے۔ یہ سب چیزوں پر کہیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘‘ نتیش کا بیان اس لیے کافی اہم ہے کیونکہ ان کی ہی حکومت میں موجود کچھ وزیر اور بی جے پی لیڈران لگاتار لاؤڈاسپیکر ہٹانے کی بات کر رہے ہیں۔

بہار میں لاؤڈاسپیکر تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب نتیش کمار کی حکومت میں وزیر جنک رام نے اس تعلق سے بیان دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملک کے قانون سے بڑا کوئی مذہب نہیں ہے۔ ریاستوں میں بھی قانون ہی چلتا ہے۔ اگر یوپی میں قانون آیا ہے تو اس کا اثر بہار پر بھی پڑے گا۔‘‘ جنک رام نے مزید کہا تھا کہ ’’مرکز اور بہار کے لیڈر اسے نافذ کرنے کے لیے مذاکرہ کریں گے۔‘‘ رام جنک کے علاوہ بھی بی جے پی کے کچھ چھوٹے لیڈروں کی طرف سے لاؤڈاسپیکر کو لے کر اس طرح کی بیان بازی سامنے آئی تھیں۔

واضح رہے کہ یوپی میں لاؤڈاسپیکر سے متعلق کارروائی تیز ہو گئی ہے۔ اس ریاست میں 6 ہزار سے زائد لاؤڈاسپیکر عبادت گاہوں سے ہٹا دیئے گئے ہیں۔ دیگر بی جے پی حکمراں ریاستوں میں بھی اسی طرح کی کارروائی کی تیاریاں چل رہی ہیں۔ بہار میں بھی بی جے پی لیڈران کچھ ایسا ہی چاہتے ہیں، لیکن نتیش کمار کے رخ سے صاف ہے کہ وہ بی جے پی لیڈران کی خواہش پوری نہیں ہونے دیں گے۔