نئی دہلی۔ لال قلعہ تشدد معاملے کی ضمن میں جس کی وجہہ سے یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کی جانب سے نکالی گئی ٹریکٹر ریالی پرتشدد صورتحال اختیار کرچکی تھی کہ ملزم دیپ سندھو کو دہلی کی ایک عدالت نے ضمانت منظوری کردی ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج نیلوفر عابدہ پروین نے دیپ سندھو کو شخصی مچلکے کے ساتھ 30,000/روپئے کی دو مقامی شوریٹیس پر ضمانت منظور کردی ہے۔

اس کے علاوہ مذکورہ عدالت نے ان شرائط پر ضمانت منظور کی ہے
ائی او کے پاس اپنا پاسپورٹ جمع کرانا ہوگا۔ جو موبائیل فون کا وہ استعمال کررہے ہیں اس کا نمبر درج کرانا ہوگا۔

انہیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جو موبائیل فون وہ استعمال کررہے ہیں وہ ہمیشہ کھلا رہے اور اس کے لوکیشن چلتا رہے اور تمام وقت ائی او کو اس کی تفصیلات سے واقف رکھا جائے۔

ہر ماہ کی پہلی اور 15تاریخ کو ٹیلی فون پر اپنے لوکیشن کی ائی او سے تصدیق کرائی جائے۔ وہ تحقیقات میں پوری ساتھ دیں اور ائی او کو جب بھی ضرورت پڑے وہ ہر لحاظ سے موجود رہیں۔

سنوائی کی ہر تاریخ پر وہ عدالت میں موجود رہیں جو کچھ حالت میں وہ رہیں اس میں تاخیر نہ کریں اور کسی قسم کی تحقیقات میں مداخلت نہ کریں۔

کسی بھی صورت میں وہ شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ یہ ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہ کریں۔ اے ایس جے نے دونوں فریقین کی موجودگی میں پیر کے روز دئے گئے اپنے احکامات میں تبدیلی کے ساتھ اس آرڈر کو سنایا ہے۔

دیپ سندھو کی نمائندگی ایڈوکیک ایچ ایس کھوسا‘ جسپریٹ ایس رائے‘ مندیپ سندھو اور جسدیپ ایس دھلون کے ہمراہ وکیل ابھیشک گپتا کررہے تھے۔

دیپ سندھو کے خلاف کرائم برانچ(سنٹرل دہلی) نے لال قلعہ میں یوم جمہوریہ کے موقع پر پیش ائے تشدد کے ضمن میں ائی پی سی کی دفعات 147‘148‘149‘152‘186‘353‘323‘307‘308‘395‘397‘427‘اور 188کے علاوہ آرمس ایکٹ1995کے تحت 25‘27‘54اور59اور پی ڈی پی پی ایکٹ1984کی دفعہ3کے تحت ایک ایف ائی آر درج کیاتھا۔

اس کیس میں سندھو کو تشدد بھڑکانے کے الزام میں ”کلیدی رول ادا کرنے“ والا کے طور پر ملزم بنایاگیاہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں