حکومت اقلیتی طلباء کے ساتھ سونتیلا سلوک نہ کرے۔۔۔۔
پری میٹرک اسکالرشپ میں مظلومانہ شرائط کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ۔۔
لاتور(محمدمسلم کبیر)مہاراشٹر میں پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم (21-2020) کے لئے لاکھوں کی تعداد میں نئےاور تجدیدشدہ درخواستیں حسب سابق،آن لائین ترسیل کئے ہیں،تاہم بلاک/ضلع تعلیمی دفاتر نے ان تمام درخواستوں کی ازسرنو تصدیق کرنے کے لئے ریاست کے تمام اسکولس کےنوڈل آفیسر کو بھیج دیا ہے۔ریاست مہاراشٹر کے نوڈل آفیسر نے اپنے تازہ خطوط مورخہ 18 اور 21 جنوری 2021 کے حوالہ سے ،نئے اور تجدید شدہ درخواستیں مجاز اتھارٹی سے انکم سرٹیفکیٹ کے ثبوت کا مطالبہ کرتے ہوئے تمام درخواستوں کی دوبارہ تصدیق کی ہدایت کی ہے۔جس سے تمام تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء ،اولیائے طلباء، اسکولس کے اساتذہ میں تشویش کا ماحول ہے۔چونکہ اس طرح کی شرط"چار آنے کی مرغی اور بارہ آنے کا مصالحہ"والی بات ہورہی ہے۔آج لاتور ضلع کے اقلیتی اسکالرشپ درخواست گذاروں کی آن لائن کردہ درخواستوں کی جانچ کے لیگ ریاستی شعبہ تعلیمات کی جانب سے مقررہ ایک تفتیشج وفد لاتور پہنچا۔اس کی اطلاع ملنے کے بعد معروف آر۔ٹی۔آئی کارکن رضاء اللہ خاں اور لاتور ضلع اقلیتی ہیڈماسٹر یونین کے معتمد ریاض صدیقی کی قیادت میں ایک وفد تفتیشی ٹیم کے ذمہ داروں سے ملاقات کرکے ایک محضرہ پیش کیا۔جو ملک کے وزیر اقلیتی بہبود مختار عباس نقوی سے مخاطب کرکے دیا ہے۔جس میں مذکورہ انکم سرٹیفکیٹ پیش کرنے کی شرط ختم کی جائے۔اس کے بجائے ، از خود حلف نامے کو انکم پروف کے طور پر غور کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے، جو دیگر طبقات کے اسکالرشپس اسکیم اور پردھان منتری آواس یوجنا کے کے لئے انکم پروف کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔ مزید یہ بھی عرض کیا گیا ہے کہ پی ایم اے وائی اسکیم کے تحت ای ڈبلیو ایس کے لئے آمدنی کی حد 3 لاکھ روپے ہےاور ایس سی کے لئے پری میٹرک اسکالرشپ کے لئے یہ 2.5 لاکھ روپے ہے۔ لہذا،مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقلیتوں کے لئے پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے لئے آمدنی کی حد 3 لاکھ روپے تک بڑھایا جائے۔اس سے قبل 2006 میں اس اسکیم کو متعارف کراتے ہوئے ، اسکالرشپس برائے ایس سی زمرے کے طلباء کے لئے ڈے سکالر کے لئے 1000 روپیہ تھی۔ لیکن اب اس میں اضافہ کرتے ہوئے پریمیٹریک اسکالرشپس کے تحت ایس سی امیدواروں کے لئے اسکالرشپس کی رقم -/2250 ڈے اسکالر کے لئے اور ہوسٹیلر کے لئے -/5250 روپئے ہے۔ اس بنیاد پر مطالبہ کیا کہاقلیتی طلباء کو بھی ایس سی طبقات کی طرح اضافہ کیا جائے اور تمام درخواست دہندگان کو ایس سی زمرے کی طرح وظائف سے نوازا جائے۔"سب کے کا ساتھ – سب کا وکاس" اس نعرے کے تحت ان منصفانہ مطالبات کو منظور کرنے کی درخواست کی گئی۔
اس وفد میں محترمہ شاہین باجی، قاضی فضل سر، شیخ وحیدسر، اور دیگر ہیڈماسٹرس موجود تھے۔