• 425
    Shares

ممبئی: ملک میں بی جے پی جو انتہاپسندی کی پھیلارہی ہے ہم اس کا جواب سیکولرازم سے دے سکتے ہیں۔ یہ باتیں آج یہاں این سی پی کے ریاستی صدر اور آبی وسائل کے وزیر جینت پاٹل نے لاتور ضلع کے اودگیر نگر پنچایت کے ارکان کی این سی پی میں شمولیت کے موقع پر کہیں۔ یہ کارپوریٹر این سی پی کے دفتر میں اجیت پوار وریاستی وزیر کی موجودگی میں این سی پی میں شامل ہوئے۔

جینت پاٹل نے کہا کہ اقلیتی طبقے کے بہت سے سرکردہ لوگ جذبات سے مغلوب ہوکر ایم آئی ایم میں شامل ہوگئے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ انہیں اندازہ ہوا کہ ایم آئی ایم کا استعمال بی جے پی اپنے اقتدار کی مضبوطی کے لئے کرتی ہے۔ بی جے پی کوفائدہ پہونچانے کے لئے ایم آئی ایم کو آگے بڑھا کر اقلیتی طبقے کے ووٹوں کو منتشر کیا جاتا ہے۔ یہ حقیقت سامنے آتے ہی ایم آئی ایم کے بہت سے لیڈران وکارکنان این سی پی میں شامل ہورہے ہیں۔ این سی پی میں اقلیتی طبقے کی طاقت بڑھ رہی ہے اور اگر اقلیتی طبقے کا تعاون اسی طرح جاری رہا تو اس میں مزید اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا این سی پی میں شامل ہونے والے تمام کارپوریٹرس کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ جو کارپوریٹرس این سی پی میں شامل ہوئے ہیں ان کے مفاد کا تحفظ کیا جائے گا۔

ادگیر نگر پنچایت کے پانچ ایم آئی ایم کارپوریٹر اور کارکن نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے ہاتھوں این سی پی میں شامل ہوئے۔ اس موقع پر ریاستی صدر اور آبی وسائل وزیر جینت پاٹل، اقلیتی وزیر نواب ملک، وزیر مملکت سنجے بنسوڈے، ریاستی جنرل سکریٹری بسوراج پاٹل، اقلیتی سیل کے قومی صدر شبیر ودروہی، یوتھ ونگ کے ریاستی صدر محبوب شیخ، یوتھ ونگ کے ورکنگ صدر سورج چوہان موجود تھے۔ اس موقع پر ایم آئی ایم لاتور کے ضلعی صدر اور کارپوریٹر سید طاہر حسین، کارپوریٹر جرگر شمش الدین،کارپوریٹر شیخ فیاض نصرالدین، کارپوریٹر ہاشمی امروز نور الدین، کارپوریٹر ابراہیم پٹیل (نانا) کے ساتھ شیخ احمد سات سیلانی، محمدرفیع بھائی، سیدانور حسین،شیخ عظیم دائمی، شیخ ابرار اور سید صوفی وغیرہ نے این سی پی میں شمولیت اختیار کی۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔