لاتور (محمد مسلم کبیر) گزشتہ دو تین ماہ قبل کورونا مریضوں کے اقرباء کی دوڑ دھوپ،اور طبّی انتظامیہ کی نیند حرام کرنے والے ریمڈیسیویر انجیکشن کا آج لاتور ضلع میں کوئی پرسان حال نہیں ہے۔اب اس کی مانگ بھی نہ ہونے کی وجہ سے انتظامیہ نے اس انجیکشن کے فروخت پر لگائی گئی پابندی کو برخاست کر کے عمومی کر دیا ہے۔یہ بات لاتور ضلع کے سرجن ڈاکٹر ایل ایس دیشمکھ نے کہی۔

لہٰذا دو تین ماہ قبل کورونا مریضوں کے لئے انتہائی لازمی قرار دیا جانے والا ریمڈیسیویر انجیکشن اب ان مریضوں کی گھٹتی تعداد کے مدّ نظر اور ڈاکٹروں کی جانب سے اس کا مطالبہ نہ کئے جانے کی وجہ سے اپنی اہمیت کھو چکا ہے۔ریمڈیسیویر انجیکشن کو کورونا مریضوں کے علاج کے لئے اکسیر گردانا گیا تھا اور یہ باور کیا جا رہا تھا کہ کورونا مریضوں کو

ریمڈیسیویر انجیکشن سے ہی افاقہ پہنچ سکتا ہے اس لئے ان مریضوں کے اقرباء” مرتا کیا نہ کرتا” کے لحاظ سے منہ مانگی قیمت پر اس انجیکشن کو کالا بازاری میں بھی خریدنے پر مجبور تھے۔ اس دوران اس انجیکشن کی مانگ اور اہمیت کے مدّ نظر ایک انجیکشن کو 50 – 50 ہزار روپئے میں بھی کالا بازاری میں خرید کر اپنے مریض کی زندگی بچانے کی تگ و دو کرتے رہے۔ بلکہ کئی میڈیکل اسٹورس میں اس کا غیر قانونی ذخیرہ بھی منظر عام پر آیا تو کئی

سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی اس کی کالا بازاری کرتے ہوئے گرفتار ہوئے ۔ الغرض اس انجیکشن کے خریدنے میں ضرورت مندوں کی ہراسانی ہوئی۔پھر اس کے بعد ضلع انتظامیہ نے اس کالا بازاری پر لگام لگانے کے لئے انجیکشن کی تقسیم کاری کا نظم اپنے پاس رکھ کر ان کی منصفانہ تقسیم کر کے اس کی پریس نوٹ اخباروں کو جاری کی جاتی رہی۔تاہم گزشتہ ایک ہفتے سے ریمڈیسیویر انجیکشن کے مانگ میں کمی ہونے کے باعث اب اس پر سے پابندی ختم کر کے عمومی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔آج کل ضلع کے تقریباً تمام کویڈ سینٹرس سے اس انجیکشن کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا ہے۔چونکہ ریمڈیسیویر انجیکشن کے غیر ضروری استعمال کی وجہ سے کئی کورونا مریضوں کی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے یہ بات عام ہو گئی ہے۔بلکہ اس کے منفی اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔ اسی طرح میوکر میکوسس جیسے مہلک امراض بڑے پیمانے پر پھیل رہا ہے اس لئے ڈاکٹرس اب بڑے محتاط انداز میں مریضوں کا علاج کرتے نظر آ رہے ہیں۔
اس ضمن میں لاتور ضلع سرجن ڈاکٹر ایل ایس دیشمکھ نے کہا کہ سرکاری اسپتال میں عموماً 200 اور خانگی اسپتالوں میں 100 یومیہ ریمڈیسیویر انجیکشن کا ذخیرہ موجود ہے۔چونکہ کورونا مریضوں کی تعداد کم ہے اور نازک مریضوں کی تعداد بھی انتہائی قلیل ہے اس لئے ریمڈیسیویر کی مانگ بھی نہ کے برابر ہے۔ لیکن لاتور ضلع میں اس کا ذخیرہ کافی پیمانے پر موجود ہے۔