قومی ترانہ "بھارت بھاگیہ ودھاتا”کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

2,978

ہندوستان کے قومی ترانے “جن گن من” کے تعلق سے دینی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز ہوا ہے۔ یوں تو پہلے بھی کبھی کبھار لوگ اس ترانے کے مفہوم، اور اس کے پڑھنے کی شرعی حیثیت کے تعلق سے سوال کیا کرتے تھے، لیکن اس سال پندرہ اگست کے موقع پر یوپی کی زعفرانی حکومت نے جب سے اہل مدارس کی حب الوطنی جانچنے کے لیے مدارس میں قومی ترانہ گانے کا سرکیولر جاری کیا ہے، اس بحث نے شدت پکڑلی ہے۔ دو روز سے سوشل میڈیا پر ہندوستان کے ایک موقر سلفی ادارے جامعہ سلفیہ کا فتوی بھی گردش کررہا ہے جس میں اس ترانے کے شرکیہ ہونے کی صراحت کی گئی ہے۔ ذیل میں ہم نے اس ترانہ ہندی کے تعلق سے کچھ تاریخی حقائق کنگھالنے کی کوشش کی ہے۔آزادی کے بعد جب قومی ترانے کے تعلق سے بحث شروع ہوئی تو وندے ماترم کو قومی ترانہ قرار دیے جانے کی پر زور مہم چلائی گئی، لیکن مسلمانوں کے اعتراض کی بناء پر اس کو خارج کردیا گیا۔ علامہ اقبال کا “سارے جہاں سے اچھا” بھی زیر غور آیا لیکن علامہ کے معمار پاکستان اور دو قومی نظریہ کے حامی ہونے کی وجہ سے ان کا ترانہ اپنی ظاہری وباطنی خوبصورتی کے باوجود ملک کا ترانہ نہ بن سکا۔ بالآخر 24 جنوری 1950 کی قانون ساز اسمبلی میں ہندوستان کے پہلے صدر راجندر پرساد نے بیان دیتے ہوے جن گن من کو قومی ترانہ قرار دیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ “اگر ضرورت پڑے تو حکومت اس ترانے میں حذف و اصافہ بھی کرسکتی ہے”۔ اس طرح ملک کو رابندر ناتھ ٹیگور کا تخلیق کردہ قومی ترانہ ملا۔ٹیگور کا یہ ترانہ سب سے پہلے 27 دسمبر 1911 کو انڈین نیشنل کانگریس کے کلکتہ اجلاس میں پڑھا گیا۔ اس وقت برطانوی بادشاہ جارج پنجم ہندوستان کے دورے پر تھا، لہذا اجلاس کی اسی نشست میں بادشاہ کے لیے استقبالیہ تجویز بھی منظور ہوئی۔ 28 دسمبر کو برطانیہ کے اخبار “اسٹیٹس مین” نے یہ خبر لگائی کہ “بادشاہ کے استقبال میں بنگلہ شاعر ٹیگور نے استقبالیہ نظم کہی” برطانوی استعمار کے زیر اثر چلنے والے دیگر اخبارات نے بھی اسی طرح کی رپورٹنگ کی تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ ٹیگور بھی “استعمار حامی” ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں آج بھی خود ہندؤں میں یہ بحث وقتا فوقتاً اٹھتی رہتی ہے۔ ماضی قریب میں کلیان سنگھ اور جسٹس کاٹجو اس موضوع کو ہوا دے چکے ہیں۔اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ برطانوی اخبارات نے اس اجلاس کی رپورٹنگ کرتے ہوے اس دجل وفریب سے کام لیا جس کا ہم آج ہر روز مشاہدہ کرتے ہیں۔ اس لیے کہ بادشاہ کے استقبال میں جو گانا پڑھا گیا تھا وہ ہندی میں رامبوج چودھری نے لکھا تھا، اس کے پہلے شعر کا آغاز “وہ بادشاہ ہمارا” سے ہوتا ہے۔ (امرتا بازار پتریکا، 28 دسمبر1911)اب آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی یہ ترانہ شرکیہ کلمات پر مبنی ہے۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ خود ٹیگور کا مذہبی رجحان کیا تھا۔ اگر ٹیگور مشرک تھا تو یہ ترانہ بھی بے شک مشرکانہ ہے، لیکن ٹیگور کے لٹریچر میں ایسی کوئی بات نہیں ملتی۔ پروفیسر جان واٹسن نے اپنی کتاب “ٹیگور کے مذہبی نظریات’ میں ایک خط نقل کیا ہے جس میں ٹیگور لکھتے ہیں: “نہ میں کسی مذہبی فرقے سے تعلق رکھتا ہوں اور نہی میں کسی خاص عقیدے پر کاربند ہوں، میں اتنا جانتا ہوں کہ جب سے خدا نے مجھے بنایا ہے اس نے اپنے کو میرا بنالیا ہے” جان واٹسن لکھتے ہیں کہ “ٹیگور کا مذہب خدا اور فطرت سے محبت تھی”۔ مورخین نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ ٹیگور بت پرست نہیں تھے۔ البتہ وہ اسی فلسفے سے متاثر تھے جس سے ہمارے بہت سے غالی صوفیاء بھی متاثر رہے ہیں۔ ان کی تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسے خدا کے قائل تھے جو بے نیاز ہو، زمان ومکان سے وراء ہو اور کائنات کا تنہا خالق وہادی ہو۔ البتہ وہ وحدت الوجود کے عقیدے سے سخت متاثر تھے۔ اس عقیدے پر خود ہمارے یہاں صدیوں بحث ہوئی ہے، لیکن اکابر دیوبند نے دونوں جانب کے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوے سکوت کو ترجیح دی ہے۔ٹیگور فلسفیانہ تصوف سے اس قدر متاثر تھے کہ ان کے مذہب اور خدا کے تعلق سے منقول بہت سے اقوال سے ایسا لگتا ہے کہ گویا وہ اسی تصوف سے ماخوذ تھے۔ غالی صوفیاء کے یہاں ایک موضوع حدیث کا بڑا رواج رہا ہے: “كنت كنزا مخفيا…” میں چھپا ہوا خزانہ تھا، میں نے چاہا کہ مجھے جانا جائے لہذا میں نے مخلوق کو پیدا کیا”۔ ٹیگور نے اس سے ملتی جلتی ہی ایک بات کہی ہے کہ: ” خدا نے تخلیق کے ذریعے اپنے کو جانا”۔ ایک دوسرے موقع پر وہ کہتے ہیں کہ “اصل عبادت اس کے سامنے کھڑا ہونا نہیں ہے بلکہ اس کے سامنے سر تسلیم خم کردینا ہے”۔ٹیگور کے ترانہ سے متعلق تنازعہ ان کی زندگی میں ہی شروع ہوگیا تھا، جب لوگوں نے ان پر اعتراض کیا کہ آپ نے یہ ترانہ شاہ جارج پنجم کے لیے لکھا ہے، انھوں نے جواب دیا کہ: “میں صرف اپنی ہی بے عزتی کرتا اگر میں بادشاہ کی تعریف کرتا، یہ میری حماقت ہوتی اگر میں جارج کو – چہارم ہو کہ پنجم- خدائے صمد (کہ جس نے ہمیشہ اپنے طالبوں کی راہنمائی کی ہے) قرار دیتا”۔ اس اقتباس سے اندازہ ہوا کہ نہ تو ٹیگور نے وہ ترانہ شاہ جارج کے لیے لکھا تھا اور نہی بھارت ماتا نامی کسی معبود کے لیے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ٹیگور کا خدا کے بارے میں کیا تصور تھا۔ اب آئیے “امریتا بازار پتریکا” کی 28 دسمبر 1911 کی خبر کا ایک حصہ ملاحظہ کیجیے: “کانگریس کی کارروائی کا آغاز بنگلہ میں لکھی حمد سے ہوا”۔اس پورے پس منظر اور شاعر کے مذہبی رجحانات کو ذہن میں رکھتے ہوے اب آپ ترانہ ہندی کا ترجمہ ملاحظہ کریں:“اے! بھارت کی منزل کا فیصلہ کرنے والے، عوام کے ذہن و دلوں پر حکومت کرنے والے تیری جئے ہو
تیرا نام ہی، پنجاب، سندھ، گجرات، مراٹھا عللاقوں کے دلوں میں بلند ہے
دراوڈ، اتکل اور بنگال میں بھی
تیرا ہی نام وندھیہ اور ہمالہ کی پہاڑیوں میں گونجتا ہے
جمنا اور گنگا کے پانی میں یہی رواں دواں ہے
مذکورہ علاقے تیرا ہی نام گنگناتے ہیں
اور تجھ سے ہی دعائیں مانگتے ہیں
وہ صرف عظیم فتوحات کے نغمے گاتے ہیں
ان لوگوں کی نجات تیرے ہی ہاتھوں ہے
اے! بھارت کی منزل کا فیصلہ کرنے والے، عوام کے ذہن و دلوں پر حکومت کرنے والے
تیری جئے ہو، تیری جئے ہو، تیری جئے ہو”جن حضرات نے اس ترانے کی حرمت پر فتویٰ دیا ہے ایسا لگتا ہے کہ ان کے پیش نظر وہی وحدت الوجود والی بحث ہے جس کے نتیجے میں کتنوں ہی کو مشرک قرار دیا گیا اور کتنے ہی لوگوں کو ظاہر پرست، اور اگر ایسا نہیں ہے بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ٹیگور نے “بھارت ماتا” کی تعریف کی ہے تو یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ٹیگور کے نزدیک ایسے کسی معبود کا وجود نہیں تھا۔میں سمجھتا ہوں کہ ہندوتوا پسند عناصر کو اس ترانے سے اسی لیے چڑ ہے کہ ٹیگور نے ان اشعار کے ذریعے ان کے عقیدے کی ریتیلی عمارت منہدم کردی ہے۔ لیکن یہ بات تعجب خیز ہے کہ ہمارے کچھ علما اس ترانے کو تبدیل کرنے کے لیے آواز اٹھارہے ہیں، یہ حضرات نادانستہ طور پر ان شدت پسند عناصر کے لیے کمک ثابت ہورہے ہیں۔ اگر یہ ترانہ ہندی تبدیل ہوتا ہے تو پھر وندے ماترم کو قومی ترانہ کے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار ہوجائیے۔ صدر جمہوریہ راجندر پرساد نے جس تقریر میں جن گن من کو قومی ترانہ کے طور پر قبول کرنے کا اعلان کیا تھا اسی تقریر میں وندے ماترم کے بارے میں بھی کہا تھا کہ “اس ترانے نے آزادی کی شمع جلائے رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اس لیے اس گانے کو بھی اس کا حق دیا جائے گا” اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ موجودہ قومی ترانہ کی جگہ “سارے جہاں سے اچھا” قبول کرلیا جائے گا یہ اس کی سب سے بڑی بھول ہوگی۔

مفتی یاسر ندیم الواجدی