Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

قندھار طیارہ اغوا معاملے میں 19 افراد بری

plane

سیشن عدالت نے نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا

ممبئی: 12 جولائی (یو این آئی)ممبئی سیشن عدالت نے، دسمبر 1999 میں نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو سے دہلی جانے والے انڈین ایئر لائن کے طیارے کو اغوا کرنے کے سلسلے میں ایک مقدمہ میں عبد اللطیف آدم مومن سمیت 19 افراد کو رہا کرنے کے لئے نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔اس میں محکمہ پاسپورٹ کے کچھ عہدیدار شامل ہیں۔ قندھار طیارہ اغوا معاملے میں ان سب پر الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے اغوا کاروں کو جعلی پاسپورٹ حاصل کرنے میں مدد کے لئے دستاویزات فراہم کیے تھے ۔

ممبئی کا رہائشی مومن ، جس نے اس اغوا میں کلیدی کردار ادا کیا تھا ، پنجاب کی ایک جیل میں عمر قید کی سزا بھگت رہا ہے۔ پولیس کا الزام ہے کہ تمام ملزمان نے مومن کے ذریعے اغوا کاروں کو اغوا کرنے والےمنصوبے کو انجام دینے میں مدد فراہم کی۔ 2012 میں، مجسٹریٹ عدالت نے پاسپورٹ کیس میں 19 ملزموں کو بری کردیا تھا جس کے بعد حکومت نے اس فیصلے کو سیشن عدالت میں چیلنج کیا تھا۔حکومت نے اپیل میں کہا کہ اس معاملے میں مومن کے پاسپورٹ ایجنٹ پر بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔یہ الزام لگایا گیا تھا کہ یہ پاسپورٹ بغیر کسی درست دستاویز کے 2500 روپے رشوت لے کر بنا تھا۔ ان سب پر جعلسازی ، دھوکہ دہی ، ملی بھگت اور پاسپورٹ ایکٹ کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ملزمان سے متعدد سامان قبضے میں لے لیا گیا۔

نچلی عدالت نے فیصلہ دیا کہ استغاثہ اغوا کاروں اور ملزمان کے مابین تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ملزمان میں محکمہ پاسپورٹ کے عہدیدار ، ڈاک مین ، موٹر ٹریننگ اسکول عملہ اور پاسپورٹ ایجنٹ شامل ہیں۔ اس کے خلاف 28 افراد کا جواب درج کیا گیا۔ تاہم ، ان کی گواہی سے واضح ہوا کہ ان سب کے تار اغوا کاروں سے جڑے ہوئے نہیں ہیں۔ عیاں رہے کہ 24 دسمبر 1999 میں نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو سے دہلی جانے والے انڈین ایئر لائن کے طیارے کو اغوا کر لیا گیا تھا، جس میں 189 مسافر سوار تھے۔ اغوا کاروں نے طیارے کو افغانستان کے ہوائی اڈے قندھار میں اتار لیا تھا۔ اس وقت بھارت کو اغوا کاروں( ہائی جیکرز) کے مطالبے پر مولانا مسعود اظہر، احمد عمر سعید اور مشتاق زرگر کو رہا کرنا پڑا تھا۔
دسمبر 1999 کو نیپال سے چار مسلح افراد نے 189 مسافروں سے بھرے انڈین ایئر لائن کے اس طیارے کو اغوا کرنے کے بعد امرتسر، لاہور اور دبئی سے ہوتے ہوئے اسے بالآخر افغانستان کے شہر قندہار میں اتارا تھا جہاں یہ اگلے آٹھ دن کھڑا رہاتھا۔ اس وقت کے بھارتی وزیر خارجہ جسونت سنگھ ایک طیارے میں دہلی سے مولانا مسعود اظہر سمیت دو دیگر عسکریت پسندوں کو جیلوں سے نکال کر کے قندہار لے گئے تھے اور ان کے بدلے مسافروں کو آزاد کرا کر دوسرے طیارے میں واپس بھارت لوٹے تھے۔