• 425
    Shares

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک آڈیو پیغام میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شیعہ برادری کی مسجد پر ہونے والے اس حملے میں 46 کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں۔اپنے پیغام میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اسی علاقے میں ’ان فسادیوں‘ کے ایک ٹھکانے کو اسلامی امارت کی فورسز نے ختم کر دیا ہے۔‘

 

قندوز میں شیعہ برادری کی مسجد میں ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے۔شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کا پیغام ان کے ٹیلی گرام چینلز پر دیا گیا ہے۔اس سے قبل عینی شاہدین اور ہسپتال ذرائع نے حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 55 کے قریب بتائی تھی۔دوسری جانب پاکستان نے قندوز میں مسجد پر خودکش حملے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس حملے کی مذمت کی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان حکومت اور عوام اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم ہلاک شدگان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہیں اور زخمی ہونے والوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہیں۔‘

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس سے قبل ٹوئٹر پر اس دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آج دوپہر میں ہمارے شیعہ ہم وطنوں کی مسجد میں دھماکہ ہوا ہے جو صوبہ قندوز کے دارالحکومت کے علاقے بندر ضلع خان آباد میں ہوا ہے۔‘

انہوں نے اس دھماکے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد تو نہیں بتائی تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اس دھماکے میں ہمارے کئی ہم وطن شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔‘

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔