قطر: پانی کی قلت کا شکار ملک کیسے روزانہ ہر پچ کے لیے دس ہزار لیٹر پانی کی فراہمی یقینی بناتا ہے

377

جب ارجنٹینا اور فرانس کے درمیان اتوار کو ورلڈ کپ فائنل کھیلا جائے گا تو لوسیل سٹیڈیم کی پِچ پر اس ٹورنامنٹ کے آغاز سے اب تک 300 ٹن پانی استعمال ہو چکا ہوگا۔

قطر کے ناقابل رحم صحرائی آب و ہوا میں گھاس کے کھیل کی سطحوں کو قدیم حالت میں رکھنے کے لیے گراؤنڈ کا عملہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے درجنوں مقابلوں اور پریکٹس والے گراؤنڈز پر روزانہ 10,000 لیٹر پانی چھڑک رہا ہے۔

قطر بھی پانی کے شدید کمی والے ممالک میں سے ایک ہے جو اب ایک بہت بڑے ایونٹ کی میزبانی کر رہا ہے۔ اور ایسے میں وہ اپنی پیداوار کو بہتر کرنے اور ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔
صحرائی قوم
ورلڈ کپ کے لیے آٹھ سٹیڈیمز کے عملے کے لیے حالات خراب تر ہو سکتے تھے۔

اگر یہ ٹورنامنٹ اپنے ابتدائی پلان کے مطابق گرمیوں میں کھیلا جاتا تو 136 ٹریننگ پچوں کے ساتھ ان سٹیڈیمز کو روزانہ 50 ہزار لیٹر پانی درکار ہوتا۔ دیگر ممالک کے ساتھ قطر کا موازنہ کرتے ہوئے گراؤنڈ کے عملے کا کہنا ہے کہ یہاں کھیل کے لیے اعلیٰ معیار کی پچ کی تیاری میں کہیں بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔

جب کہ ٹورنامنٹ کے دوران استعمال کے لیے دوحہ کے شمال میں اگائے گئے 425,000 مربع میٹر ایمرجنسی گراس ریزرو (40 پچوں کی مالیت) پر ری سائیکل شدہ پانی کا استعمال کیا گیا ہے۔ میچ اور تربیتی پچوں کو تر رکھنے کے لیے یہ پانی ایک مصنوعی ذریعے سے یقینی بنایا گیا ہے اور یہ طریقہ ہے پانی کی صفائی کا جسے۔۔ ڈی سیلینیشن کا عمل کہا جاتا ہے۔

قطر یونیورسٹی میں میرین سائنسز کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر رادھوان بن حمادو کہتے ہیں کہ ’اگر آپ صرف قدرتی طور پر دستیاب پانی کے وسائل پر انحصار کرتے ہیں تو ایسے میں آپ کے پاس صرف 14,000 لوگ قطر میں رہ سکتے تھے۔

یہ ورلڈ کپ کے سٹیڈیم کی ایک چوتھائی ضرورت بھی پوری نہ کر پاتا۔ قطر کے پاس کوئی دریا نہیں ہے اور سالانہ قطر میں دس سینٹی میٹر سے بھی کم بارش ہوتی ہے۔
بڑھتا ہوا مسئلہ
اس صحرائی ملک میں تقریباً 29 لاکھ لوگ رہ رہے ہیں۔ اور قطر کی اس آبادی کا مطلب یہ ہے کہ پانی کی اضافی ضرورت کو کہیں سے تلاش کرنا پڑے گا۔

برطانیہ کے سینٹر فار انوائرنمنٹ، فشریز اور ایکوا کلچر سائنس کے مشرق وسطیٰ کے پروگرام ڈائریکٹر ڈاکٹر وِل لوکوئن کہتے ہیں کہ ’اس پانی کی ایک بہت بڑی مقدار ڈی سیلینیشن کے عمل سے آتی ہے، اور تقریباً 100 فیصد پانی ذاتی گھریلو استعمال کے لیے آتا ہے۔‘

ڈی سیلینیشن کے عمل کے لیے سمندر سے پانی لیا جاتا ہے۔ اس دوران پانی سے نمکیات اور دیگر گند کو دور کیا جاتا ہے۔ اور پھر اسے پینے اور دھونے کے لیے موزوں بنایا جاتا ہے۔ یوں قطر اس طرح بڑی مقدار میں پانی پیدا کرتا ہے لیکن اگر آبادی بڑھتی ہے اور ملک مزید ترقی کرتے ہوئے ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ منعقد کراتا ہے تو پھر ایسے میں اسے تیزی سے اس سے بھی زیادہ پانی کی ضرورت ہوگی۔

اس ٹورنامنٹ کے دوران پانی کی کھپت میں دس فیصد اضافہ متوقع ہے کیونکہ تقریباً دس لاکھ سیاح ملک کا دورہ کرتے ہیں۔ اندازے کے مطابق سنہ 2050 تک پانی کو صاف کرنے کی صلاحیت 80 بلین لیٹر یومیہ تک یعنی چار گنا تک بڑھ سکتی ہے۔ لیکن جب کہ قطر کے پاس سمندری پانی کی مؤثر طریقے سے لامحدود فراہمی ہے اور قدرتی گیس کے بڑے ذخائر کی بدولت بہت زیادہ مالی وسائل کی ضرورت ہے اس طرح سے پانی کی بڑی مقدار پیدا کرنے کے لیے اس عمل میں ایک بڑی خرابی ہے۔۔ اس کے لیے ناقابل یقین حد تک زیادہ توانائی کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر لی کوئن کہتے ہیں کہ تمام خلیجی خطوں میں صفائی کے لیے استعمال ہونے والی تمام توانائی کا 99 فیصد ہائیڈرو کاربن ایندھن کی انتہائی سستی فراہمی سے آتا ہے۔ ہائیڈرو کاربن ایندھن، جیسے تیل اور گیس انتہائی آلودگی پھیلاتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی قطر نے اپنے لیے ماحولیاتی اہداف کا تعین کیا ہے۔

اس کا مقصد سنہ 2030 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو 25 فیصد تک کم کرنا ہے اور قطر کی ورلڈ کپ آرگنائزنگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ کاربن نیوٹرل ہوگا۔۔ حالانکہ اس دعوے کو کاربن مارکیٹ واچ جیسے ماحولیاتی گروپوں نے بڑے پیمانے پر متنازع قرار دیا ہے۔

لیکن جو بات ناقابل تردید ہے وہ یہ ہے کہ ملک اپنے کاربن کو کم کرنے کے لیے بہت حقیقی تبدیلیاں کر رہا ہے، اور اس میں پانی کی پیداوار بھی شامل ہے۔

سبز اہداف

ڈاکٹر لوکوئن کے مطابق قطر بہت سے ترقیاتی منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔

قطر پانی کی صفائی (ڈی سیلینیشن) کے لیے شمسی توانائی استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے شمسی پینل استعمال ہو سکتے ہیں جو بجلی پیدا کرتے ہیں جو پھر ریورس اوسموسس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے یا صرف سوج کی حرارت کو براہ راست پانی کو بخارات میں بدلنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

شمسی توانائی کے ساتھ ساتھ نئے، زیادہ توانائی سے مؤثر ڈی سیلینیشن پلانٹس کو آن لائن لانے سے قطر کس طرح ملک کی بڑھتی ہوئی پیاس بجھانے کی امید رکھتا ہے جسے وہ قومی سلامتی کے مسئلے کے طور پر بھی دیکھتا ہے۔

ایک سیاسی تنازع پر اپنے خلیجی پڑوسیوں کی طرف سے حالیہ اقتصادی ناکہ بندی کے بعد قطر کو خوراک کی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔

اس نتیجے کے طور پر اب یہ ڈیری اور زراعت کے شعبے کو تیزی سے ترقی دے رہا ہے، جو اس کی بارانی زمین پر ہوتی ہے۔ لیکن اس سے پہلے سے ہی محدود قدرتی ذخائر کی طلب میں اضافہ ہوگا۔

ڈاکٹر بن حمادو کہتے ہیں کہ ’یہاں قطر میں ایک تہائی آبی وسائل کا زراعت میں استعمال ہوتا ہے جبکہ اس کا ملک کے جی ڈی پی میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ہے۔‘

دیگر اکثر ممالک کے برعکس قطر کی جانب سے اپنے قدرتی وسائل کی خوراک کی پیداوار میں بھاری سرمایہ کاری، برآمدات یا اقتصادی ترقی کے لیے نہیں ہے، بلکہ ایسا وہ ہنگامی صورتحال میں اپنی مقامی آبادی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کر رہا ہے۔

اگرچہ قطر کے توانائی سے متعلق منصوبے خطے سے باہر کے لوگوں کے لیے عجیب لگ سکتے ہیں، ڈاکٹر لی کوئن کہتے ہیں کہ اس کے چیلنجز ایک لحاظ سے دوسرے ممالک کو درپیش چیلنجز سے کچھ مختلف ہیں۔

ان کے مطابق ’بارانی ممالک میں آپ کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے، سرد موسم میں آپ کو خود کو گرم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، اور یوں ہم سب کے پاس الگ الگ نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔‘

ان کے مطابق ’میں خاصا پُر امید ہوں کہ ملک اور خطہ توانائی کی ضرورت کے ان چند طریقوں پر کیسے قابو پا سکے گا کیونکہ آپ پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے