• 425
    Shares

دوحہ : قطر میں پہلی مرتبہ قانون سازی کے انتخابات میں کھڑی تمام 26 خواتین امیدواروں میں سے کسی کا انتخاب نہیں ہوسکا۔غیر ملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق خواتین امیدواروں نے قطری عوام کی جانب سے انتخاب نہ کیے جانے پر افسوس کیا تاہم انہوں نے آئندہ انتخابات میں دوبارہ حصہ لینے کے عزم کا اظہار کیا۔ووٹ 45 نشستوں والی مشاورتی شوریٰ کونسل کے 30 ارکان کے لیے تھا جبکہ قطر کے امیر کونسل کے باقی 15 اراکین کے تقرر کرنے کا حق رہتے ہیں۔خیال رہے کہ مشاورتی شوریٰ کونسل پالیسیوں کے محدود دائرہ کار کی منظوری دے سکتا ہے جو سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کرتا ہے۔دوحہ کے ضلع مرکھیا کی انتخابی امیدوار اور 59 سالہ نرسنگ منیجر عائشہ الجاسم نے کہا کہ ’تمام مردوں کا ہونا قطر کا وڑن نہیں ہے‘۔انہوں نے قطری خواتین پر زور دیا کہ وہ ’جس چیز پر یقین رکھتی ہیں اس کی آواز اٹھانا شروع کریں‘ اور مستقبل میں مضبوط خواتین امیدواروں کو ووٹ دیں۔ایک اور خاتون انتخابی امیدوار جیسم نے کہا کہ ان کا سامنا کچھ ایسے مردوں سے ہوا ہے جن کا خیال تھا کہ خواتین کو انتخابی عمل میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔اپنی انتظامی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے انتخابی مہم میں صحت، نوجوانوں کے روزگار اور ریٹائرمنٹ جیسی پالیسی کو ترجیح دی۔ان کا کہنا تھا کہ ’میں صرف یہ کہتی ہوں کہ میں مضبوط ہوں، میں قابل ہوں، میں اپنے آپ کو ایک مرد کے مقابلے میں فٹ دیکھتی ہوں، اگر آپ مجھے کمزور دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ آپ پر منحصر ہے، لیکن میں کمزور نہیں ہوں‘۔مردوں اور عورتوں کے لیے پولنگ اسٹیشنز میں داخل ہونے والے لیے الگ الگ راستے تھے۔قطر نے حالیہ برس میں خواتین کے حقوق میں اصلاحات متعارف کرائی ہیں جن میں خواتین کو آزادانہ طور پر ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کی اجازت بھی شامل ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں