قطر: ماہی گیروں کی چھوٹی سی بستی دنیا کی امیر ریاست کیسے بنی؟

1,867

تصویر کا کیپشن جب قطر نے اپنا ’کالا سونا‘ دریافت کیا تو اس کا ابھی تک ایک قوم کے طور پر وجود نہیں تھایہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے جب قطر کا دارالحکومت دوحہ جو اس وقت فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے تیار ہے ایک جدید اور امیر ملک کے تصور سے بہت دور تھا۔ایک صدی قبل، سنہ 1922 میں 30 لاکھ باشندوں اور 12 ہزار کلومیٹر سے بھی کم رقبے پر مشتمل یہ چھوٹی خلیجی ریاست عملی طور پر غیر آباد سرزمین تھی۔

یوں کہہ لیں کہ یہ ماہی گیروں اور موتی جمع کرنے والوں کی ایک عاجز سی بستی تھی جہاں کے باشندوں کی اکثریت جزیرہ نما عرب کے وسیع صحراؤں سے آنے والے خانہ بدوش مسافروں پر مشتمل تھی۔

آج قطر کے نوے سال سے زیادہ عمر کے چند ہی باشندے سنہ 1930 اور سنہ 1940 کی دہائیوں میں پیش آنے والی خوفناک معاشی مشکلات کو یاد کر سکتے ہیں، جب جاپانیوں نے موتیوں کی فارمنگ ایجاد کی اور بڑے پیمانے پر اس کی پیداوار یقینی بنا کر قطری معیشت کو تباہ کر دیا۔

اس دہائی میں قطر نے اپنے 30 فیصد باشندوں کو کھو دیا جو بیرونِ ملک معاشی مواقع تلاش کرنے چلے گئے تھے۔ دس سال بعد سنہ 1950 میں اقوامِ متحدہ کے مطابق یہاں 24 ہزار سے بھی کم باشندے رہ گئے تھے۔

تاہم اس وقت قطری معیشت ایک انقلابی موڑ کے دہانے پر تھی۔ یہ کہنا درست ہو گا کہ اسے صحیح معنوں میں ایک معجزے نے بچایا۔وہ معجزہ یہاں دنیا میں تیل کے سب سے بڑے ذخائر میں سے ایک کی دریافت تھی۔

سنہ 1950 کے بعد سے دراصل قطری خزانہ تیزی سے مالا مال ہونا شروع ہوا اور یہ اس کے باشندوں کے لیے دنیا کے چند امیر ترین شہریوں میں شامل ہونے کا نقطہ آغاز بھی ثابت ہوا۔

اب جبکہ قطر اپنی فلک بوس عمارتوں، پرتعیش مصنوعی جزیروں اور جدید ترین سٹیڈیمز کے باعث دنیا بھر میں نمایاں ہو گیا ہے تو بی بی سی کی جانب سے ان تین تبدیلیوں کا تجزیہ کیا گیا ہے جنھوں نے اس ملک کو کرہ ارض کے امیر ترین ممالک میں سے ایک میں تبدیل کیا ہے۔

جب قطر نے اپنا ’کالا سونا‘ دریافت کیا تو اس کا ابھی تک ایک قوم کے طور پر وجود نہیں تھا اور یہ انگریزوں کے ہاتھ میں تھا، جنھوں نے سنہ 1916 میں اس علاقے کا کنٹرول سنبھالا تھا۔

کئی سالوں کی تلاش کے بعد پہلے ذخائر سنہ 1939 میں ملک کے مغربی ساحل پر اور دوحہ سے تقریباً 80 کلومیٹر دور دخان میں دریافت ہوئے۔ تاہم اس تلاش سے فائدہ اٹھانے میں مزید چند سال لگے۔

بی بی سی منڈو میں ماہر تجزیہ کار کرسٹیان کوٹس الریچسن بتاتے ہیں کہ ’یہ دریافت دوسری عالمی جنگ کے آغاز میں ہوئی، جس کی وجہ سے سنہ 1949 تک تیل کی برآمد تعطل کا شکار رہی اور فوری طور پر اس دریافت سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔‘

تیل کی برآمد نے قطر میں بہت سے معاشی مواقع کھولے جس کے باعث یہ ملک تیزی سے تبدیل اور جدید ہونے لگا۔

تیل کی بڑھتی ہوئی صنعت کی کشش نے تارکین وطن اور سرمایہ کاروں کو قطر کی طرف متوجہ کیا اور یوں اس کی آبادی میں اضافہ ہونے لگا۔

اگر سنہ 1950 میں یہاں 25 ہزار سے کم باشندے تھے تو سنہ 1970 تک یہ آبادی بڑھ کر ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔

ایک سال بعد، برطانوی راج کے خاتمے کے بعد قطر کو ایک آزاد ریاست کے طور پر مستحکم کر دیا گیا۔

تاہم اس دوران ایک نئے دور کا آغاز بھی ہوا جس کے باعث ایک ’دوسری دریافت‘ سامنے آئی جس نے مزید دولت پیدا کی۔

قدرتی گیس کی دریافت

روس اور ایران کے بعد عملی طور پر قطر کے پاس دنیا کا سب سے بڑا گیس کا ذخیرہ ہے

جب سنہ 1971 میں ’ایکسپلورر‘ انجینئرز نے قطر کے شمال مشرقی ساحل پر نارتھ فیلڈ میں قدرتی گیس کے وسیع ذخائر کو دریافت کیا تو چند لوگوں نے اس کی اہمیت کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔

یہ سمجھنے میں 14 سال اور درجنوں مشقیں لگیں کہ نارتھ فیلڈ دنیا کا سب سے بڑا ’نان ایسوسی ایٹڈ‘ قدرتی گیس فیلڈ تھا، جس میں دنیا کے معلوم گیس ذخائر کا تقریباً 10 فیصد حصہ موجود ہے۔

روس اور ایران کے بعد عملی طور پر قطر کے پاس دنیا کا سب سے بڑا گیس کا ذخیرہ ہے اور ظاہر ہے یہ دونوں ممالک آبادی اور رقبے کے لحاظ سے قطر سے بہت بڑے ہیں۔

نارتھ فیلڈ تقریباً چھ ہزار کلومیٹر کے رقبے پر محیط ہے، جو پورے قطر کے نصف کے برابر ہے۔

قطر گیس وہ کمپنی ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ مائع قدرتی گیس پیدا کرتی ہے۔ اس صنعت کی ترقی کو قطری اقتصادی ترقی میں ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔

تاہم تیل کی طرح گیس کی برآمدات سے ہونے والا منافع آنے میں وقت لگا۔

کوٹس کہتے ہیں کہ ’ایک طویل عرصے سے مطالبہ اتنا بڑا نہیں تھا اور اسے تیار کرنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی، حالانکہ 80 کی دہائی میں سب کچھ بدلنا شروع ہوا، جب انفراسٹرکچر کئی مراحل میں بننا شروع ہوا، اسے ملک کے اندر تقسیم کیا گیا اور 90 کی دہائی میں، اسے برآمد کرنے اور اسے معیشت کا عظیم انجن بنانے کے لیے تیار کیا گیا۔‘

حماد بن خلیفہ الثانی نے اپنے والد کو ملک کے امیر کے عہدے سے اس وقت معزول کر دیا تھا جب وہ سوئٹزرلینڈ کے دورے پر تھے

21ویں صدی کی آمد کے ساتھ ہی قطری اقتصادی ترقی میں تیزی دیکھنے کو ملی۔ صرف 2003 اور 2004 کے درمیان جی ڈی پی تین اعشاریہ سات فیصد کی شرح سے بڑھ کر 19.2 فیصد پر چلا گیا۔

دو سال بعد سنہ 2006 میں معیشت میں 26.2 فیصد اضافہ ہوا۔دہرے ہندسے کی جی ڈی پی نمو کئی سالوں سے قطر کی مضبوطی کی علامت رہی ہے اور یہ ایک ایسا رجحان ہے جس کی وضاحت صرف گیس کی قیمت سے نہیں کی جا سکتی۔

محمد سیدی جو قطر یونیورسٹی میں پروفیسر ہونے کے علاوہ پائیدار معاشیات کے ماہر نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ ’یہ اس سیاسی تبدیلی کے بعد ممکن ہوا جس میں موجودہ امیر تمیم بن حمد الثانی کے والد حماد بن خلیفہ الثانی نے سنہ 1995 میں متنازع طریقے سے اقتدار سنبھالا تھا۔‘

حماد بن خلیفہ الثانی نے اپنے والد کو ملک کے امیر کے عہدے سے اس وقت معزول کر دیا تھا جب وہ سوئٹزرلینڈ کے دورے پر تھے۔

الثانی وہ خاندان ہے جس نے قطر پر پچھلی ڈیڑھ صدی سے حکومت کی ہے اور اقتدار پر اس طرح سے قابض ہونا کوئی نئی بات نہیں تھی۔

تاہم محلاتی سازشوں کو اگر ایک طرف رکھیں تو تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ یہ عمل دراصل اس ماضی اور مستقبل کے درمیان ایک لکیر کھینچنے جیسا تھا۔

ہسپانوی انسٹیٹیوٹ آف فارن ٹریڈ (آئی سی ای ایکس) کے مطابق ’اس کے بڑے ذخائر کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے نکالنے، لکویفیکشن اور ڈسٹری بیوشن انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری میں کئی گنا اضافہ ہوا اور اس کے باعث برآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔‘

سنہ 1996 میں قدرتی گیس سے بھرا ایک کارگو جاپان کے لیے روانہ ہوا۔ یہ قطری گیس کی پہلی بڑی برآمد اور اربوں ڈالر کی صنعت کا آغاز تھا جس نے قطریوں کو عالمی دولت کے عروج پر پہنچا دیا۔ سنہ 2021 میں قطر میں فی کس جی ڈی پی 61,276 ڈالر تھی۔ اگر ہم قوت خرید کو بھی مدنظر رکھیں تو عالمی بینک کے مطابق یہ 93,521 امریکی ڈالر تک پہنچ جاتی ہے جو کہ دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

اس کی آبادی کی تعداد کم ہونا اس حوالے سے بہت زیادہ فرق ڈالتا ہے۔ اس وقت ملک میں قطریوں کی تعداد صرف تین سے ساڑھے تین لاکھ کے لگ بھگ ہے جو ملک کی کل تیس لاکھ آبادی کا صرف 10 فیصد ہے۔ ان افراد میں زیادہ تعداد غیر ملکیوں کی ہے۔

کوٹس کہتے ہیں کہ ’کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ آبادی جنھیں ریاست کے یہ عظیم فوائد ملنے ہیں، وہ بہت کم ہے۔ یہی وجہ تھی کہ فی کس جی ڈی پی اتنی تیزی سے بڑھنے لگا۔‘

قطری ریاست، اعلیٰ اجرتوں کی ضمانت دینے کے علاوہ، مضبوط تعلیمی اور صحت کا نظام بھی فراہم کرتی ہے۔

قطر کی معیشت کو درپیش چیلنج

تاہم، حالیہ برسوں میں قطر کی شاندار اقتصادی ترقی کو دھچکا لگا ہے اور اسے سست روی کا سامنا رہا ہے۔

اس سے مستقبل کے چیلنجز کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور اس کی معیشت کا فوسل فیول پر انحصار آئندہ پر دنیا بھر ماحولیاتی تبدیلی کے باعث نظریں جمی ہوئی ہیں۔

محمد سیدی کہتے ہیں کہ ’سنہ 2013 اور 2014 میں تیل کی قیمتوں میں کمی آئی اور اقتصادی تنوع بحث کا بنیادی موضوع بن گیا۔‘

اس میں دوحہ کے ساتھ سفارتی تنازع کے بعد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی طرف سے سنہ 2017 اور 2021 کے درمیان مسلط کردہ پابندی کا بھی عمل دخل ہے جس نے قطری معیشت کی لچک کو چیلنج کیا۔

کوٹس کا کہنا ہے کہ ’قطر نے ابھی تک گیس یا تیل کی برآمدات پر منحصر معیشت میں جدت نہیں لائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نجی شعبے کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہائیڈرو کاربن پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے دنیا بھر میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔‘

اس کوشش کی ایک اچھی مثال قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کی لندن یا نیویارک جیسے شہروں میں متعدد مشہور جائیدادوں میں موجودگی ہے۔

کوٹس نے مزید کہا کہ ’یا یہ بھی کہ وہ کس طرح سیاحت کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں اور دوحہ کو میٹنگز، کانفرنسز اور تقریبات کے مرکز میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، خاص طور پر اب ورلڈ کپ کے ساتھ۔‘

قطر کی جانب سے فٹبال ورلڈکپ میں دو لاکھ ملین امریکی ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری اس کی معیشت کی وسعت کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ تاریخ کا سب سے مہنگا ورلڈ کپ ہے، جس میں آٹھ اسٹیڈیم، ایک نیا ہوائی اڈہ اور ایک نئی میٹرو لائن بنائی گئی ہے، جس میں صرف چند ایک کے نام شامل ہیں۔

دنیا کے اکثر ممالک اس ورلڈکپ کی تیاری پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تعمیرات میں شامل بہت سے کارکنوں کے حالات کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے جن میں اکثریت کا تعلق نیپال، انڈیا اور بنگلہ دیش جیسے ممالک سے ہے۔

اس کے علاوہ قطر اور فیفا کے خلاف بدعنوانی اور رشوت ستانی کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ جب اسے 2010 میں ایونٹ کے انعقاد کی ذمہ داری سونپی گئی تھی تو یہ عمل شفافیت پر مبنی نہیں تھا۔

یہ اور خواتین کے حقوق اور ایل جی بی ٹی کمیونٹی کے بارے میں سوالات نے ایک ایسے ملک میں جسے قدامت پسند اور سخت گیر کہا جاتا ہے، بہت سے لوگوں کے لیے یہ ایونٹ دراصل ’لوگوں کے ذہنوں میں ملک کی شبیہ کو بہتر بنا کر پیش کرنے‘ کا آلہ کار ہے۔

ان مذمتوں کے علاوہ، یہ واضح ہے کہ یہ اس چھوٹے سے ملک کے لیے ورلڈ کپ سے کہیں زیادہ ہے جو ریکارڈ وقت میں امیر ہوا اور جو اب ایک جدید اور ترقی پسند ملک کے طور پر خود کو ایک اہم جیو پولیٹیکل کھلاڑی دکھانے کی کوشش کر رہا ہے۔