دوحہ: فلسطین نے قطر سے مغربی کنارے اور غزہ پٹی سے فلسطینیوں کو دوبارہ جوڑنے اور ملک کو متحد کرنے میں ان کی مدد کرنے کی درخواست کی۔فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتیہ نے ، جو ان دنوں قطر کے دارالحکومت کے دورے پر ہیں ، یہ خبر قطر نیوز ایجنسی کو دی۔قاہرہ میں فلسطینی تحریکوں اور گروہوں کے مابین 12 جون کو ہونے والی میٹنگ سے قبل مسٹر اشتیہ دوحہ پہنچے ۔ وہ علاقے کے دورے کے حصے کے طور پر قطر کا دورہ کررہے ہیں ، جس کے دوران انہیں اردن ، کویت اور عمان کا دورہ کرنا ہے تاکہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین جنگ بندی کو مستحکم کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دورے کے پروگرام میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور بحرین شامل نہیں ہیں ، جنہوں نے گذشتہ برس اسرائیل کے ساتھ امن قائم کیا تھا ، جس کے نتیجے میں 2002 میں سبھی عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تنازعہ حل کرنے کے لئے اپنائی گئی عرب امن پہل کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔مسٹر اشتیہ نے کہا ‘‘میں قطر سے فلسطین کے اتحاد کے حصول کی اپنی کوششیں جاری رکھنے اور اس خطے میں مثبت نتائج حاصل کرنے کے مقصد سے دوحہ آیا تھا کیونکہ اس نے یروشلم اور غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف حالیہ جارحیت کو ختم کرنے میں اہم رول ادا کیا تھا’’۔انہوں نے مسئلہ فلسطین کے دو انتہائی حساس امور کیلئے قطر کی مسلسل حمایت کی اور اشارہ کیا ۔
یروشلم کا معاملہ فلسطینیوں کی مدد۔انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھی ‘صدی کے سودے ’ کی حمایت کرنے سے انکار کرنے کے لئے بھی دباؤ ڈلا گیا تھا ۔فلسطینی وزیر اعظم نے یاد کیا کہ گذشتہ برسوں کے دوران قطر نے مختلف پروجیکٹوں ، رہائشی عمارتوں کی تعمیر ، بنیادی ڈھانچے اور فنڈ مختص کرنے کی شکل میں غزہ پٹی کو 1.6 ارب ڈالر سے زیادہ کی مالی امداد فراہم کی ہے ۔


اپنی رائے یہاں لکھیں