!-- Auto Size ads-1 -->

نئی دہلی :(ایجنسیز)قطب مینار کو لے کر پہلے سے ہی یہ تنازعہ جاری ہے کہ اس کی تعمیر مندر توڑ کر ہوئی تھی اور یہاں پوجا کی اجازت دینے کا مطالبہ بھی لگاتار ہو رہا ہے۔ اب اس قطب مینار کو لے کر ایک نیا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ قطب مینار دراصل سَن ٹاور یعنی شمسی ٹاور ہے جس کی تعمیر قطب الدین ایبک نے نہیں بلکہ راجہ وکرمادتیہ نے کروائی تھی۔ یہ دعویٰ اے ایس آئی (آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا) کے سابق ریجنل ڈائریکٹر دھرمویر شرما نے کیا ہے۔

دھرمویر شرما کا کہنا ہے کہ اے ایس آئی کی طرف سے کئی بار قطب مینار کا سروے کیا گیا ہے۔ سورج کی سمت دیکھنے کے ساتھ ہی ماہر آثار قدیمہ 27 نکشتروں (ستاروں) کا مطالعہ کر سکیں اس لیے شمسی ٹاور کی تعمیر کرائی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ثبوت بھی موجود ہیں۔ دھرمویر شرما کا کہنا ہے کہ ’’قطب مینار قطب الدین ایبک نے نہیں بلکہ پانچویں صدی میں راجہ وکرمادتیہ نے بنوایا تھا۔ قطب مینار میں 25 انچ کا جھکاؤ ہے۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ یہ سورج کا جائزہ لینے کے لیے بنائی گئی تھی۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ اس علاقے کو وِشنو پد پہاڑی کی شکل میں جانا جاتا تھا جہاں اس وقت کے باقیات ہیں جب چوہان، تومر، پرتیہار حکمراں تھے۔

سابق اے ایس آئی ریجنل ڈائریکٹر دھرمویر شرما کا کہنا ہے کہ قطب مینار احاطہ میں 27 ایسے ڈھانچے ہیں جنھیں 27 قیمتی جواہرات سے تراشا گیا ہے۔ جسے قطب مینار کے نام سے جانا جاتا ہے وہ ایک آزاد ڈھانچہ ہے۔ قطب مینار کا دروازہ بھی شمال کی طرف ہے اور یہ ستاروں کو دیکھنے کے لیے ہے۔