نئی دہلی ۔ سپریم کورٹ نے منگل کو ہدایت دی کہ 6 ماہ کی قرض کے التواء کی مدت کے دوران قرض لینے والوں سے کوئی سود مرکب یا بطور پنالٹی اضافی سود وصول نہ کیا جائے۔ یہ سہولت گزشتہ سال کورونا وباء کے درمیان فراہم کی گئی تھی ۔ چنانچہ اب تک وصول شدہ رقم کو واپس کیا جائے گا یا اکاؤنٹ میں محسوب کیا جائے گا یا کچھ دیگر طریقہ سے اس کا حساب کرلیا جائے گا۔ تاہم فاضل عدالت نے مرکز اور ریزرو بینک آف انڈیا کے اس فیصلے میں مداخلت سے انکار کیا کہ لون موراٹوریم کو گزشتہ سال 31 اگست سے آگے تک بڑھا دیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ یہ پالیسی فیصلہ ہے اس لئے وہ مداخلت نہیں کریں گے۔ جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس آر سبھاش ریڈی اور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ نے کہا کہ کورونا وبا کے سبب حکومت کو بھی شدید نقصان ہوا ہے۔ جسٹس شاہ نے فیصلہ سنایا کہ لون موراٹوریم کو مزید نہیں بڑھایا جاسکتا اور نہ ہی اس دوران سود کو پوری طرح سے معاف کیا جا سکتا ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں