,ممبئی۵ جولائی (یو این آئی )مہاراشٹر کے مانسون اجلاس کے پہلا روز ہی قربانی کی اجازت کیلئے سماجوادی پارٹی نے ودھان بھون سراپا احتجاج کرتے ہوئے ریاست میں قربانی کی اجازت کا پر زور مطالبہ کیا ہے۔ یہاں سماجوادی پارٹی نے جو احتجاجی مظاہرہ کیا اس میں قربانی ہمارا بنیادی ادھیکار حق ہے قربانی کی اجازت نہ دئیے جانے کی مذمت کی جاتی ہے اس قسم کا بینر پوسٹر لے کر سیڑھیوں پر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی اور رکن اسمبلی رئیس شیخ نے سراپا احتجاج کرتے ہوئے سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جس طرح سے گنیش اتسو و دیگر تہواروں کو اجازت فراہم کرتی ہے اسی طر ز پر عید الاضحی پر بھی بلا روک ٹوک قربانی کی اجازت فراہم کرے جانوروں کی ترسیل پولیس اور انتظامیہ کے ذریعہ جانوروں کی پکڑ دھکڑ اور جانوروں کے تاجروں بیوپاریوں کی ہراسائی پر روک لگایا جائے

انہوں نے کہا کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں منظم طریقے سے منڈیوں کو اجازت دی جائے اور جانوروں کی گاڑیوں پکڑنے یا جانوروں کی ضبطی پر فوری طور پابندی عائد کی جائے جس طرح کورونا میں گنپتی اور دیگر تہواروں میں جلوس نکالا جاتا ہے کورونا کی گائڈ لائن کی دھجیاں اڑائی جاتی ہے قانون کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں لیکن ہم خاموش رہتے ہیں اور سرکار و پولیس بھی اسے نظر انداز کرتی ہے اسی طرح مسلمانوں کے اس اہم مذہبی فریضہ کی ادائیگی کیلئے سرکار جانوروں کی ترسیل بلا روک ٹوک لانے کی اجازت دے جانوروں کی پکڑ دھکڑ کی وجہ سے بکروں کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی ہے اور مسلمانوں کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اسلئے ہمارا مطالبہ ہے کہ قربانی کو اجازت دی جائے۔

https://fb.watch/v/1bIkx4Aaz/

ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ علامتی قربانی کیا ہوتی ہے یہ سمجھ سے بالاتر ہے مسلمانوں کے لئے قربانی واجب ہے اور ہر صاحب استطاعت جو قربانی کی استطاعت رکھتا ہے اسے قربانی کرنا لازمی ہے انہوں نے کہا کہ قربانی کے پیش نظر شہر ہی نہیں بلکہ دیگر صوبوں سے بکروں کی آمدروفتت ہوتی ہے اور سرحدی علاقوں پر پولیس کے معرفت ایک بکرے پر فی کس ایک ہزار روپئے وصول کئے جانے کی شکایت بھی موصول ہو رہی ہے جبکہ کئی مرتبہ تو جانوروں کی ضبطی بھی ہورہی ہے جس سے مسلمانوں میں اضطراب اور بے چینی پائی جارہی ہے مسلمانوں کو بھی سر اٹھانے کر جینے کا حق حاصل ہے اس لئے ہم اپنا حق مانگتے ہیں قربانی کے معاملہ میں سرکار نے جو گائڈ لائن نکالی ہے وہ مبہم ہے ا

اعظمی نے مزید کہا کہ ریاستی سرکار کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے اور ادیتہ ٹھاکرے کے پاس مسلم نمائندوں سے ملنے کا وقت تک نہیں ہے جبکہ اس سے قبل قربانی سے قبل وزیر اعلی جو بھی گائڈ لائن نکالتے تھے مسلمانوں سے بات چیت کے بعد ہی جاری کئے جاتے تھے لیکن اس سرکار میں تو مسلمانوں کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سرکار اس سمت میں ضروری کارروائی کرتے ہوئے قربانی کی اجازت فراہم کرے۔