دینی مدارس کو دہشت گردی کا اڈہ بتانے ، ام المومنین حضرت عائشہؓ او رکاتب وحی حضرت امیر معاویہؓ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے گھپلوں اور گھوٹالوں میں ملوث درخواست گزار نے اپنے دعوئوں کے حق میں جہالت پر مبنی دلائل بھی پیش کیے

نئی دہلی۔۱۱؍ مارچ:حضرت عائشہؓ، کاتب وحی حضرت امیر معایہ ؓاور دیگر مقدس اسلامی شخصیات کی شان میں گستاخی کرنے والا، مدارس اسلامیہ کو دہشت گردی کا اڈہ بتانے والا ، گستاخ ملعون اور دریدہ دہن وسیم رضوی نے نعوذباللہ اب قرآن میں تحریف کےلیے سپریم کورٹ میں آج عرضی دائر کی ہے۔ قرآن جس کے بارے میں اللہ پاک کا ارشاد ہے کہ انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون ۔(سورۃ الحجر) ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔جس کی تفسیر علمائے حق نے یوں کی ہے کہ ’’یہ پہلی وہ آسمانی کتاب ہے، جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود لیا، گویا اس کی حفاظت کے لیے یہ وعدہ الٰہی ہے اور قرآن کا اعلان ہے: ”إِنَّّّ اللَّہَ لَاْ یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ“(سورة آل عمران)یقیناً اللہ کبھی بھی وعدہ خلافی نہیں کرتے۔ بس اللہ نے اپنا یہ وعدہ سچ کر دکھایا۔ اور کتاب اللہ کی حفاظت کا حیرت انگیز انتظام کیا۔ اس طور پر کہ اس کے الفاظ بھی محفوظ، اس کے معانی بھی محفوظ، اس کا رسم الخط بھی محفوظ، اس کی عملی صورت بھی محفوظ، اس کی زبان بھی محفوظ، اس کا ماحول بھی محفوظ، جس عظیم ہستی پر اس کا نزول ہوا اس کی سیرت بھی محفوظ، اور اس کے اولین مخاطبین کی سیَرْ بھی یعنی زندگیاں بھی محفوظ۔غرضیکہ اللہ رب ا لعزتنے اس کی حفاظت کے لیے جتنے اسباب و وسائل اور طریقے ہوسکتے تھے، سب اختیار کئے، اور یوں یہ مقدس اور پاکیزہ کتاب ہر لحاظ اور ہر جانب سے مکمل محفوظ ہوگئی۔ الحمدللہ آج چودہ سو انتیس سال گذرنے کے بعد بھی اس میں رتی برابر بھی تغیر و تبدل نہ ہوسکا، لاکھ کوششیں کی گئیں، مگر کوئی ایک کوشش بھی کامیاب اور کارگر ثابت نہ ہوسکی، اور نہ قیامت تک ہوسکتی ہےــ‘‘۔ مسلمانوں کے تمام مکتبہ فکر کا یہ عقیدہ کامل ہے کہ قرآن میں نہ کبھی تبدیلی ہوئی ہے او رنہ ہوگی، من و عن ۱۴؍ سو سالوں سے جس طرح نازل ہوئی آج تک محفوظ ہے اورقیامت تک محفوظ رہے گی۔ گستاخ صحابہ معلون ومردود گھوٹالوں اور جرائم میں ملوث وسیم رضوی نے سپریم کورٹ میں جو عرضی دائر کی ہے اس کے مطابق (نعوذباللہ )قرآن مقدس کی ۲۶؍ آیتوں سے ملک کے اتحاد واتفاق اور بھائی چارگی کو خطرہ ہے، اس نے ۲۶؍آیتوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے ملعون نے کہا ہے کہ یہ ۲۶؍آیتیں بعد میں جوڑی گئی ہیں۔ ملعون نے میڈیا میں عرضداشت کے تعلق سے کہا ہے کہ ’’تاریخ گواہ ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے وصال کے بعد پہلے خلیفہ ابوبکر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے ان چار لوگوں کو پیغمبر حضرت محمد پر نازل اللہ پاککی طرف سے نازل آیات قرآنی کو کتابی شکل میں جمع کرنے کو کہا، تب تک حضرت محمدﷺ کے زبان سے نکلے ہوئے ان آیات کو نسل در نسل زبانی یاد کرتے رہے۔ پہلے خلیفہ نے ان چار لوگوں کو ذمہ داری دی جو حضرت کے ساتھ رہے تھے، صحیح بخاری کے مطابق ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابو زید(رضی اللہ تعالیٰ عہنم) کو یہ ذمہ داری دی گئی، اس وقت تین دیگر لوگوں نے اتفاق رائے سے حفظ قرآن کی آیتوں کو لکھنے کی ذمہ داری زید بن ثابت کو دے دی، قرآن پاک لکھ دیاگیا، اور اسے پیغمبر محمدﷺ کی چوتھی بیوی اور دوسرے خلیفہ حضرت عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی بیٹی حفصہؓ کے ہاتھوں میں سونپ دیاگیا۔ پھر تیسرے خلیفہ حضرت عثمان (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے زمانے میں الگ الگ لوگوں کے لکھے ہوئے تقریباً تین سو قرآن شریف رائج تھے، تب انہوں نے قرآن پاک کی اصل کاپی کے کاتب حضرت زید بن ثابت سے کہاکہ حضرت حفصہ سے مانگ کر اصل کتاب کی نقل اپنے ساتھیوں عبداللہ بن زبیر، زید بن العاص، عبدالرحمان بن حارث بن ہشام (رضی اللہ تعالیٰ عنہم) کے تعاون سے تیار کریں، اسی وقت اسلام کو (نعوذباللہ ) تلوار کے زور پر پھیلانے کی مہم چل رہی تھی۔ ملعون وسیم رضوی نے دلیل دی ہے کہ یہ ۲۶؍ آیتیں بعد میں جوڑی گئی ہیں، ان آیتوں میں انسانیت کے بنیادی اصولوں سے انحراف اور مذہب کے نام پر نفرت، نفرت کی بنیاد پر تشدد، قتل، خون خرابہ پھیلانے والے ہیں۔ ملعون نے مزید کہاکہ تیسرے خلیفہ کے وقت جب اسلام کو اور مضبوطی سے پھیلانے کی مہم چلی تب اسلامی دنیا میں کئی قرآن شریف رائج تھے، صحیح بخاری کے مطابق ایسے دور میں تیسرے خلیفہ حضرت عثمان(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے پرانے قرآن شریفکی نقل لکھوائی باقی قرآن شریف کے سبھی نسخوں کو کالعدم قرار دیا۔ اس قرآن کے نسخے ہی آج تک پڑھے سنے اور سمجھے جارہے ہیں۔ ملعون رضوی نے کہاکہ جب پورے قرآن پاک میں اللہ نے بھائی چارے، محبت، خلوص، انصاف، مساوات، معافی وغیرہ کیباتیں کہیں تو ان ۲۶؍ آیتوں میں قتل وغارت گری، نفرت اور شدت پسندی کو بڑھاوا دینے والی باتیں کیسے کہہ سکتے ہیں؟ ان ہی آیتوں کا حوالہ دے کر مسلم نوجوانوں کا برین واش کیاجارہا ہے، ان کو جہاد کے نام پر بھڑکایا، بہکایا اور اکسایا جارہا ہے، ان ہی کی وجہ سے ملک کے اتحاد اور سالمیت پر خطرہ ہے۔عرضی دا ئر کرنے سے پہلے رضوی نے احتیاطاً اصل سوال اور عرضداشت کے تعلق سے ملک بھر کی ۵۶ رجسٹرڈ اسلامی تنظیموں ، جماعتوں، اداروں اور دینی مدارس کو بھیجا ہے اور اپنا رخ صاف کرنے کو کہا ہے۔ لیکن کسی بھی جگہ سے اب تک کوئی جواب نہیں آیا ہے، اگلے ہفتے اس عرضداشت پر شاید پہلی شنوائی ہوجائے۔

بشکریہ ممبئی اردو نیوز