قرآن پاک پرعہدے کا حلف اٹھانے والی آسٹریلوی مسلمان وزیر کون ہیں؟

آسٹریلیا میں ایک مصری نژاد خاتون نے وزارت کے عہدے کا حلف اٹھاتے وقت دائیں ہاتھ میں قرآن پاک اٹھا رکھا تھا۔ حلف برداری کی اس تقریب کو پوری دنیا میں دیکھا گیا اور اس پرملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔نوجوانوں کے امور کی وزارت کا قلم دان سنبھالنے سے قبل حلف برداری کے بعد آسٹریلوی لیبر پارٹی کی رہ نما عینی علی نے وزیراعظم انٹنی البانس سے مصافحہ کیا۔ وزیراعظم نے عینی کو وزارت سنھبالنے پرمبارک باد پیش کی۔آسٹریلیا کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی مسلمان خاتون نے قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کرملک اورعہدے سے وفاداری کا عہد کیا۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ نے عینی علی کے بارے میں مزید تحقیق کی توان کے بارے میں ملنےوالی آن لائن معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ 1967ء کو مصر کےاسکندریہ شہرمیں پیدا ہوئیں۔اس کا خاندان آسٹریلیا ھجرت کرگیا جہاں عینی نے سیاست میں حصہ لیا اور ترقی کرتے ہوئے ایک ایسے ملک میں وزیربن گئیں جہاں مسلمانوں کی آبادی 6 لاکھ بیس ہزار ہے۔ ان میں نصف ملین عرب ہیں اور ان میں سے بھی زیادہ تر لبنانی ہیں۔آسٹریلیا کی نئی وفاقی حکومت کو ملکی تاریخ کی سب سے متنوع حکومت کہا جا رہا ہے جس میں اقلیتوں کے علاوہ مقامی قبائلی فرقوں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

مغربی آسٹریلیا سے رُکن اسمبلی عینی علی پہلے لیبر پارٹی سے بطور کارکن وابستہ رہیں، پھر وہ پارٹی کی یونین کی رکن بنیں اور اب رکن اسمبلی منتخب ہو کر وزیر بن چکی ہیں۔عینی علی دو سال کی تھیں جب اس کا خاندان ترک وطن کرکے آسٹریلیا میں آباد ہوگیا۔ سنہ 2016ء میں انہوں نے اپنی مصری شہریت دوبارہ حاصل کی۔عینی علی” کی سوانح عمری سے معلوم ہوتا ہے کہ نوجوانوں کی وزارت کے لیے اس کا انتخاب اس کے تجربے کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ انہوں نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں جس کا آسٹریلیا میں ریاستی سطح پراعتراف کیا گیا۔سنہ 1990 میں انہوں نے قاہرہ میں امریکی یونیورسٹی سے بیچلر آف آرٹس کے ساتھ گریجویشن کیا۔ آسٹریلیا واپسی کے بعد سنہ 2008 میں اس یونیورسٹی سے بہترین ڈین کا ایوارڈ حاصل کیا۔ آسٹریلیا کی ایڈتھ کوون یونیورسٹی 1994 میں انگریزی ادب میں اور 1996 میں اسی مضمون میں ماسٹرز اور دو سال بعد فلسفے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

ڈاکٹرعینی علی کون ہیں:علی پرتھ کے مضافات میں کووان کی سیٹ سے منتخب ہوئی ہیں۔ یہ سیٹ آسٹریلیا کی پہلی خاتون پارلیمنٹرین ایڈتھ کوون کے نام پر رکھی گئی ہے۔عینی علی مصر میں پیدا ہوئیں۔ جب وہ دو سال کی تھیں تو ان کا خاندان سڈنی کے جنوب مغرب میں چپنگ نورٹن جا کر بس گیا تھا۔سنہ 2020 میں عینی علی نے گھریلو تشدد کے خلاف قومی مہم کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے ساتھ ہونے والے گھریلو تشدد کا ذکر کیا۔اس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے علی نے کہا تھا کہ ’میں نے صبر کیا، میں اس کے ساتھ رہی، اپنے زخموں پر مرہم لگاتی رہی اور اپنا درد چھپاتی رہی، میں خاموش رہی اور بہت دیر تک خاموش رہی، ہر درد، دکھ اور اذیتیں جھیلنے کے بعد اپنے بچوں کے باپ کو چھوڑنا میرے لیے سب سے مشکل فیصلہ تھا۔‘55 سالہ عینی علی سیاست میں آنے سے پہلے پروفیسر اور ماہر تعلیم تھیں۔ انھوں نے ’دہشت گردی‘ پر بھی تحقیق کی ہے اور بچوں کے انتہا پسندی کی طرف مائل ہونے پر ان کی تحقیق قابل ذکر ہے۔عینی علی کی زندگی متاثر کن رہی ہے۔ اپنی زندگی کے ابتدائی حصے میں انھوں نے اپنے بچوں کی پرورش ایک ایسی اکیلی ماں کے طور پر کی جو کم از کم اجرت پر کام کرتی تھی۔

’ویمن آف دی ایئر‘:عینی علی کو سنہ 2016ء میں ویمن آف دی ایئر” کے طور پر منتخب کیا جب پارلیمنٹ کے لیے منتخب ہونے والی پہلی مسلمان خاتون بنی تھیں، وہ یونیورسٹی کی پروفیسر بھی ہیں اور دو بیٹوں کی ماں ہیں۔ انہوں نےسنہ 1988 میں شادی کی تھی۔ انہوں نے اپنی یاداشتوں پر مشتمل کتاب "فائنڈنگ مائی پلیس” سنہ 2018 میں فائنڈنگ مائی پلیس” کے عنوان سے شائع کی تھی۔خاندانی الجھنوں سے گذرنے والی عینی علی نے کچھ عرصہ قبل طلاق لے لی تھی جس کے بعد وہ دو بچوں آدم اور کریم کی پرورش خود کرتی ہیں۔مگر عینی علی اب مطلقہ نہیں بلکہ انہوں نے ایک آسٹریلوی’ڈیوڈ ایلن‘ سے شادی کی۔ وہ ایک سابق پولیس افسر اور ہاکی کے کھلاڑی ہیں۔(بہ شکریہ العربیہ ڈاٹ کام)