سعودی عرب میں انکم ٹیکس کسی بھی قیمت پر لاگو نہیں ہوگا l تیل آمدنی شہریوں کی ضروریات پورا کرنے کے لیے ناکافی
سعودی حکومت بائیڈن انتظامیہ سے 90%معاملات پر متفق، ویژن 2030 ء کے پانچ سال کی تکمیل پر ولیعہد محمد بن سلمان کا انٹرویو
ریاض: سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب کی ترقی اور وسیع تراصلاحات کے پروگرام ’ویژن 2030 ‘ کے پانچ سال پورے ہونے پر ایک انٹرویو میں کہا کہ مملکت کا آئین ہمیشہ کیلئے قرآن ہے۔ قرآن کریم سے اجتہاد اور فکری رہنمائی کا حصول جاری رکھیںگے۔ اُن کا کہنا تھا کہ سعودی عرب شخصی اور سماجی شعبوں میں قرآن پاک کی واضح تعلیمات پر سختی کیساتھ عمل پیرا ہے۔ سعودی عرب کا دستور کل بھی قرآن کریم تھا اورہمیشہ قرآن کریم ہی ہمارا دستور ہوگا۔ ہم اسلام کے اعتدال پسندانہ نہج اور فکر پر عمل پیرا ہیں۔ انتہا پسندی کی بیخ کنی سے دنیاوی مفادات کے حصول میں مدد ملے گی۔شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح سعودی عرب بھی دہشت گردی اور انتہا پسندی کا نشانہ رہا ہے۔ اس فکری انتہا پسندی کے نتیجے میں مملکت کی ترقی کا سفرمتاثر ہوا۔ جو شخص بھی دہشت گردانہ نظریات پرچلے گا وہ مجرم ہوگا ۔ان کا کہنا تھا کہ دینی فتاویٰ زمان ومکان کے بدلنے سے بدل جاتے ہیں۔ کسی شخص کو سزا صرف قرآن کی کسی واضح نص کے مطابق ہی دی جائیگی۔انھوں نے کہاکہ سعودی عرب میں انکم ٹیکس کسی بھی قیمت پر لاگو نہیں ہوگا جبکہ آرامکو کے شیئر فروخت کرنے کیلیے عالمی کمپنی سے بات جاری ہے۔ ہم کوئی بیرونی دباو قبول نہیں کرتے اور نہ کسی کو اپنے اندرونی امور میں مداخلت کی اجازت دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں انکم ٹیکس کسی بھی قیمت پر لاگو نہیں ہوگا، ان کے ملک میں بیروزگاری کی شرح 14 فیصد تھی جو کم ہو کر سال رواں کے دوران 11 فیصد تک آ جائے گی جبکہ وبا کے باوجود مختلف شعبوں میں کامیابی کے اعداد و شمار بہترین ہیں۔سعودی ولیعہد نے کہا کہ تیل نے سعودی عرب کو بے شک فائدہ پہنچایا تاہم سعودی عرب تیل کی دریافت سے پہلے سے موجود ہے جبکہ سعودی ویژن 2030 زیادہ طاقتور معیشت اور سعودی عوام کو زیادہ بہتر زندگی فراہم کرنے کے لیے لایا گیا ہے، جو نشانہ کے قریب ہیں۔انھوں نے سعودی ویژن 2030ء کے پانچ سال پورے ہونے کے موقع پر اس پروگرام کے تحت حاصل ہونے والی کامیابیوں کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی۔دوسری جانب سعودی ولیعہد کا کہنا تھا کہ پندرہ فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس عارضی ہے، ویلیو ایڈڈ ٹیکس اس بات کی علامت ہے کہ سرکاری سبسڈی ایسے افراد کی جیبوں میں نہ جائے جو اس کے مستحق نہیں۔ انہو ں نے کہا کہ 2020 کے دوران ہم نے بہت سارے ریکارڈ توڑے اور اب ہم زیادہ بڑی کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں ۔محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ میرا مفاد یہ ہے کہ وطن عزیز سعودی عرب ترقی کرے اور ہمارے عوام زندگی کے مختلف شعبوں میں مستقبل والے پروگراموں کی کارکردگی سے مطمئن ہوں۔انھوں نے مزید کہاکہ سعودی عرب کو تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی بڑھتی ہوئی ملکی آبادی کی ضروریات کوپورا کرنے کیلئے ناکافی ہوتی جارہی تھی،اس کمی کو پورا کرنے کیلئے سعودی معیشت کو متنوع بنانے کی غرض سے ویژن 2030ء پیش کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’’تیل کی دریافت کے وقت ہماری آبادی 20 سے 30 لاکھ نفوس پر مشتمل تھی۔اب سعودی شہریوں کی تعداد دو کروڑ کے لگ بھگ ہے۔اس لیے ہم 1960ء سے 1990ء کے عشروں کے دوران میں جس طرز زندگی کے عادی اور دلدادہ ہوچکے ہیں،اس کی ضروریات کو صرف تیل کی آمدنی سے پورا نہیں کیا جاسکتا‘‘۔انھوں نے کہاکہ مملکت صدر جو بائیڈن کے زیر قیادت امریکہ کی موجودہ انتظامیہ سے 90 فیصد معاملات پر متفق ہے اور باقی 10 فیصد اختلافی مسائل پراتفاق رائے کیلئے ہم مل جل کر کام کررہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’’ہر خاندان کی طرح، جیسے بھائیوں میں تمام معاملات پر 100 فیصد اتفاق رائے نہیں ہوتا بالکل اسی طرح حکومتوں میں ہوتا ہے مگر ہم صدر بائیڈن کی پالیسی سے 90 فیصد متفق ہیں۔‘‘شہزادہ محمد بن سلمان نے ڈیڑھ گھنٹے پر محیط اس طویل انٹرویو کے آخری حصے میں سعودی عرب کی خارجہ پالیسی اور یمنی بحران کے مستقبل کے بارے میں اظہار خیال کیا ۔


اپنی رائے یہاں لکھیں