نئی دہلی،14مارچ(یو این آئی) فرقہ وارانہ فتنہ انگیزی کی یہ بدترین کوشش بجائے خود تعزیرات ہند کی دفعات153اے اور295اے کے تحت تحت سنگین جرائم کے زمرے میں آتی ہے ان خیالات کا اظہارقومی اقلیتی کمیشن کے سابق چیرمین اور لا کمیشن آف انڈیا کے سابق رکن پروفیسر طاہر محمود نے کلام پاک سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر کردہ پٹیشن پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان میں سے پہلی دفعہ مذہب کی بنیادپر بدامنی پھیلانے کی کوشش کو جرم قرار دیتی ہے اور دوسری صاف طور پر کہتی ہے کہ ”جو کوئی شخص ہندوستان کے شہریوں کے کسی طبقے کے مذہبی جذبات بھڑکانے کی نیت سے زبانی یا تحریری طور اسکے مذہب کی توہین کرتا ہے یا ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے اسے تین سال تک کی قید اور جرمانے کی سزا دی جائے گی“ ۔

پروفیسر طاہر محمود نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کو ان دفعات کا از خود نوٹس لیتے ہوئے مدّعی کے خلاف تعزیری کاروائی کی متعلقہ حکام کو ہدایت دینی چاہئیے۔انہوں نے مزید بتایا کہ1984 میں مسلمانوں کی مقدس کتاب کے خلاف کلکتہ ہائی کورٹ میں ایک اسی قسم کا کیس دائر کیا گیا تھا جسے عدالت نے خارج کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ ”عدالت کا اس معاملہ کا نوٹس لینا ملکی آئین کے قطعاً خلاف ہوگا اور مدعیان نے عدالت میں یہ معاملہ اٹھا کر قانوناً خود ایک جرم کا ارتکاب کیا ہے“۔پروفیسرمحمود نے کہا ہے کہ یوں تو یہ نظیر بھی عدالت عظمیٰ کے علم میں ہوگی مگر اسے خودہی اس مذموم فتنہ انگیزی کیلئے عدالت کا سہارا لئے جانے کی اجازت ہرگز نہیں دینی چاہئے۔