قدیم عبادت گاہوں پر دعویٰ سے روکنے والے ’پلیسز آف وَرشپ ایکٹ‘ رد کرنے کے مطالبہ پر سپریم کورٹ نے مرکز سے جواب طلب کیا

296

پلیسز آف ورشپ ایکٹ، 1991‘ (جو کہ قدیم عبادت گاہوں پر دعویٰ سے روکتا ہے) کے خلاف داخل عرضیوں پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے دو ہفتہ میں جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اس قانون کے خلاف داخل عرضیوں کے علاوہ جمعیۃ علماء ہند نے اس قانون کی حمایت میں عرضی داخل کی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اس سلسلے میں بھی نوٹس جاری کیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا ادے امیش للت کی صدارت والی بنچ نے کہا ہے کہ 11 اکتوبر کو معاملے پر سماعت ہوگی اور یہ معاملہ 3 ججوں کی بنچ کے سامنے پیش ہوگا۔

واضح رہے کہ 1991 کا پلیسز آف ورشپ ایکٹ سبھی مذہبی مقامات کی حالت 15 اگست 1947 ولای بنائے رکھنے کی بات کہتا ہے۔ اسے چیلنج دینے والی کئی عرضیاں سپریم کورٹ میں داخل ہوئی ہیں۔

ان عرضیوں میں اس قانون کو بنیادی اور آئینی حقوق کے خلاف بتایا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ قانون ہندو، جین، سکھ اور بودھ طبقہ کو اپنا حق مانگنے سے محروم کرتا ہے۔