Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

قدرت کے کھیل نیارے

IMG_20190630_195052.JPG

+نقاش نائطی. 966594969485

کرہ ارض، قدرت کے ہاتھوں،صفائی ستھرائی کے لئے کیا بند ہے؟
Is world closed for cleaning and maintenence?

پوری عصری دنیا کے, تمدنی ترقی یافتہ، حضرت انسان کو،لاک ڈاؤن خود ساختہ قید خانہ میں،بند کردئیے جانے اور دوسری تمام مخلوقات کو آزاد گھومنے چھوڑ دئیےجانے کے، ایک خوبصورت امتزاج کا نام ہی غالبا "سقم کرونا” ہے۔ عصری ترقیات کے نام سے پورےعالم کو، 195 مختلف سرحدوں میں بانٹ دئیے جانے اور ایک دوسرے کے حصہ ارض میں جانے کے لئے، پاسپورٹ و ویزا کا لزوم لازم کردئیے جانے کے باوجود، عصری دنیا کے یہ تانا شاہ، عام نظروں سے نہ دیکھے جانےوالے، معمولی کورونا جرثومے کے، بغیر پاسپورٹ ویزہ آئے, اپنے اپنے ملکوں کی سرحدوں کے باہر اسے روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہودییت, مصیہئیت، ہندو مت، بدھ مت، کہ دین اسلام، اس معمولی جرثومہ نے، کسی کے مذہب، دین اور تفکر کے فرق کو نہ جانا اور نہ اس نے دنیا کے سب سے طاقت ور تانا شاہ کے ایٹومک و بیلسٹک میزائل ٹیکنولوجی کے ڈر سے اسے بخشا ہے۔ اپنی عصری تمدنی ترقی یافتگی کے زعم میں، قدرت کے, ان ملکوں کو بخشے معدنیات پر غاصبانہ قبضہ کے لئے، ان ملکوں کے عوام کا قتل عام کر، اپنی شہنشاہیت کا ڈنکا بجانے والے،طاقتور ترین ملک کو،اس معمولی کورونا جرثومہ نے، دنیا کے اور ملکوں سے زیادہ، سب سے زیادہ تاراج کیا ہے۔ کل تک کورونا وائرس سے نہ ڈرنے کا ڈنکے کی چوٹ پر، اعلان کرنے والے،دنیا کے سب سے شکتی سالی سوپر پاور،صاحب امریکہ، آج کورونا سقم 532،879 متاثرین اور اس معمولی جرثومہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد، آج 12 اپریل صبح دس بجے تک 20،577 ہوچکی ہے۔ کل تک اپنی عصری ترقی یافتہ ایٹم بم و میزائل دور مار، لیزر گائیڈیڈ ٹیکنولوجی کے سہارے، افغانی و عراقی مسلمانوں کی جان سے کھیلنے والا صاحب امریکہ، آج قدرت کے بنائے، کھلی انسانی آنکھوں سے تک دکھائی نہ دینے والے، معمولی کورونا جرثومہ کے ہاتھوں، اس کے اپنے امریکی نیشنل ساڑھے بیس ہزار سے بھی زیادہ کے ،لقمہ اجل ہو جانے پر بھی، بے بس تماشاگاہ بنے، کورونا قہر کہرام کو دیکھنے پر مجبور ہے۔

حضرت انسان بھلے ہی دنیوی اعتبار، کتنی ہی سائینسی ترقی کرلے لیکن قدرت کے آگے اسے سرجھکانا ہی پڑتا ہے۔ قدرت چاہے وہ مسیہئوں کا یسوع مسیح ہو یا ھندوؤں کا ایشور بھگوان یا مسلمانوں کو خالق کائینات اللہ جل شانہ ہو، ہم میں سے ہر کسی کو اس پیدا کرنے والے خالق کائنات کی حقانئیت کو تسلیم کرنا ہی پڑتا ہے کل تک دنیا کی تمام مخلوق چرند پرند درند کو بھی قید و بند رکھنے والے حضرت انسان کو، آج قدرت نے،گذشتہ ایک ماہ سے لوک ڈاؤن کے بہانہ جہاں، گھروں، محلوں، گاؤں، شہروں میں مقید سا کردیا ہے وہیں پر جنگلی جانور درندوں تک کو، شہروں کی سنسان سڑکوں پر آزادانہ گھومنے کے مواقع فراہم کئے ہیں ۔ فلکی آلودگی کے ٹیکس کے بہانہ، پس ماندہ ممالک سے دولت لوٹنے والے ممالک، کیا فلکی یا بحر و بر کی آلودگی کو صاف کرپائے ہیں؟ دیکھئے قدرت نے معمولی کورونا جرثومہ کو آگے کر، پورے عالم کے انسانوں،گاڑیوں کو مقفل کر، کس طرح سے اپنی بنائی خوبصورت دنیا کی صفائی ستھرائی کا انتظام کیا ہے؟ جس طرح سے فضائی سمندری آلودگی کو صاف و ستھرا کرنے کا انتظام کیا ہے

کورونا وبا پر کنٹرول حاصل کرلینے کے بعد تو حضرت انسان کو کیا احساس ہوگا؟ کیا حضرت انسان،اشرف المخلوقات انسان رہتے، انسانیت کے احساس کو اپنے میں باقی رکھ پائیگا؟ دوسری تمام مخلوقات کے حقوق کا خیال کیا رکھ پائیگا؟ دولت و ثرورت جمع کرنے کی ہوڑ، جس نے اب تک عالم کی کل دولت کے، نصف سے زیادہ حصہ کو عالم کے سو پونجی پتیوں کی تحویل میں دئیے جانے کا انتظام کیا ہے۔ کرورنا وبا پھیلتے تناظر میں، ان دولت مندوں کے، ان کی بے تحاشا دولت کے باوجود،کورونا سقم سے بچائے نہ جانے کے پس منظر میں تو، دولت کی حرص کیا کم ہو پائے گی؟کورونا سقم، "دولت مندوں کی بیماری” مشہور، کیا اس سے انسانیت سبق لےپائے گی؟ وما علینا الا البلاغ