ہُبلی (کرناٹک): سوشل میڈیا پر اتوار کی اولین ساعتوں میں ایک قابل اعتراض پوسٹ پر تشدد کے واقعات کے بعد ہبلی شہر میں امتناعی احکامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے شہر میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک قابل اعتراض تصویر سامنے آنے کے بعد تشدد آدھی رات کو شروع ہوا تھا۔

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی نے اس معاملہ پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں بدامنی پھیلانے والے اور قانون اپنے ہاتھ میں لینے والے عناصر کو بخشا نہیں جائے گا۔

اس پوسٹ کی مخالفت کرتے ہوئے مسلم طبقہ کے سینکڑوں لوگ قدیمی ہبلی پولیس اسٹیشن کے سامنے جمع ہوئے اور کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اسی دوران پتھراؤ شروع ہو گیا، دو گروپوں میں ہونے والے پتھراؤ کی وجہ سے صورتحال تشویشناک ہو گئی۔ واقعے میں پولیس کی 4 گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور تصادم میں پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد زخمی ہو گئے۔ تشدد کے واقعے کو ظاہر کرنے والی کئی سی سی ٹی وی فوٹیج وائرل ہو گئیں، جس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی۔

پرتشدد ہجوم نے گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا۔ پولیس نے پرتشدد ہجوم پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کے گولے بھی داغے۔قابل اعتراض پوسٹ کرنے والے نوجوان کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ہبلی دھارواڑ پولس کمشنر لابھو رام نے بتایا کہ اس واقعہ میں پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج قبضہ میں لے لی ہے اور معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی نے اس معاملہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، ’’پولیس پہلے سے ہی کارروائی کر رہی ہے۔ پولیس قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ ہم تشدد بھڑکانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کریں گے۔ اس معاملہ کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔ اسے نظم و نسق کے مسئلہ کے تناظر میں دیکھنا ہوگا، تبھی اس طرح کے واقعات پر قدغن لگے گی۔‘‘