فیفا_وڑلڈکپ! کچھ حقائق ، کچھ باتیں بقلم : صادق_مصباحی

1,416

گزشتہ دنوں مغربی ایشیا کے، تیل کی دولت سے مالا مال، امیر ترین ملک "قطر” (جہاں "الجزیرہ میڈیا نیٹورک” کا دفتر ہے) میں فیفا ورلڈ کپ منعقد ہوا۔

اس کی خاص بات یہ رہی کہ پہلی بار مرکو ( ایک افریقی ملک، جو در اصل مراکش ہے) کی ٹیم سیمی فائنل تک پہنچی، فائنل مقابلے میں ارجنٹینا نے فرانس کو شکست دے کر ورلڈکپ ٹرافی پر قبضہ کر لیا ۔

ویسے فٹ بال کا یہ ورلڈکپ اپنے آغاز سے ہی تنازعات سے گھرا رہا، شراب بندی، ڈاکٹر ذاکر نائک کی انٹری، مراکشی کھلاڑیوں اور سپورٹروں کا جشن منانا، میدان میں سجدے کرنا، فاتح ٹیم کے کپتان کو عربی جبہ پہنایا جانا، یہ ساری باتیں میڈیا میں گردش کرتی رہیں۔

ڈاکٹر ذاکر نائک کی آمد کے تعلق سے کچھ لوگوں نے تو یہ تاثر دینے کی کوشش کی گویا یہ کھیل کا میدان نہیں، بلکہ تبلیغ اسلام کا ایک اہم ترین ذریعہ ہے۔

عجیب عجیب دعوے کیے گئے، برسوں پرانے ویڈیوز دکھا کر لوگوں کو گم راہ کرنے کی کوشش کی گئی کہ ڈاکٹر صاحب کی مساعی جمیلہ سے اتنے اتنے لوگوں نے اسلام کا دامن تھام لیا ۔ حالاں کہ بھارتی حکومت نے ڈاکٹر صاحب کے مدعو کیے جانے کے خلاف جب احتجاج کیا تو قطر نے انھیں دعوت دے کر بلانے سے ہی سرے سے انکار کر دیا اور یہ کہا کہ وہ اپنے کاروبار کے لیے آتے جاتے ہیں، ہم نے کسی پروگرام کے لیے انھیں نہیں بلایا ہے ، اور نہ یہاں ایسے کسی پروگرام کا انعقاد ہونا ہے۔

اور اس ورلڈ کپ کی مناسبت سے ایسا کوئی پروگرام سامنے بھی نہیں آیا کہ ڈاکٹر صاحب نے کوئی ایسی تبلیغ فرمائی ہو جس سے متاثر ہو کر کسی نے کلمہ پڑھ لیا ہو! کم از کم میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ۔

اس کے برعکس ورلڈکپ ٹرافی کی نقاب کشائی ایک بھارت رقاصہ / ایکٹریس سے کرائی گئی۔ اب مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ جنھوں نے بہت بڑھا چڑھا کر اس کھیل کے موقع کو تبلیغ کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی تھی وہ یہاں کیا تاویل کریں گے! دیپیکا جی کے درشن سے کون سی تبلیغ ہوئی؟!

اگر کسی عالم کبیر/ اسلامی اسکالر کے ہاتھوں نقاب کشائی کرایا ہوتا تو بات سمجھ میں آتی کہ ان کے دل میں اسلام اور شعائر اسلام کی کتنی قدر ہے! مگر۔۔۔

بتایا جا رہا ہے کہ فاتح ٹیم کے کپتان کو جو جبہ پہنا کر ورلڈکپ ٹرافی دی گئی، اس کی تیاری پر اربوں کا خرچ آیا تھا۔ کچھ لوگ اسے بھی عرب کلچر کا آئینہ دار ماننے لگے، ارے بھئی! کیا ہر عربی اربوں روپے کے جبے پہنتا ہے؟

یہی عرب ہیں جن کے پاس دولت کی ریل پیل ہے، مگر ڈھنگ کی کوئی یونیورسٹی نہیں ۔خیر، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کھیل کو کھیل تک ہی محدود رکھنا اور سمجھنا چاہیے ۔ بے وجہ اور بےجا تاویلات وتعریفات سے بچنا چاہیے۔