رواں برس جنوری میں جب امریکی کے دارالحکومت میں کیپیٹل ہل کی عمارت پر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے دھاوا بولا تھا اور اس کے بعد ہنگامے شروع ہوئے تھے تو فیس بک نے صدر ٹرمپ کا اکاؤنٹ بلاک کرتے ہوئے ان پر پابندی عائد کر دی تھی۔لارا ٹرمپ نے، جنھوں نے حال ہی میں فوکس نیوز کے ساتھ کام شروع کیا ہے،ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کا انٹرویو لے رہی ہیں اور ان سے مختلف امور پر بات کر رہی ہیں۔

پھر بعد میں انھوں نے ایک ای میل کا سکرین شارٹ پوسٹ کیا جو انھیں فیس بک کی جانب سے موصول ہوئی تھی۔ ای میل میں ان کے لیے فیس بک کی طرف سے وارننگ تھی۔ای میل میں لکھا ہے:’فیس بک اور انسٹا گرام اکاؤنٹس پر ڈونلڈ ٹرمپ پر پابندی کی وجہ سے ان کی آواز میں اگر کچھ بھی پوسٹ کیا جاتا ہے تو اسے نہ صرف ہٹا دیا جائے گا بلکہ اس کی وجہ سے اکاؤنٹ پر مزید پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔‘

لارا ٹرمپ نے، جن کی شادی ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے ایرک سے ہوئی ہے، اس انٹرویو کو اپنے آن لائن شو دی رائٹ ویو کے ویڈیو پلیٹ فارم پر پوسٹ کیا تھا اور اسے اپنے فیس بک پیج سے لِنک کر دیا۔ .’انھوں نے اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ’واہ، ہم اورویل 1984 سے ایک قدم قریب ہیں۔‘

طویل عرصے سے ٹرمپ کے حامی اور فوکس نیوز کے میزبان سئین ہینٹی نے اپنی ٹوئیٹ میں اس اقدام کو ’سنسر شپ کی انتہا’ قرار دیا ہے۔فیس بک نے صدر ٹرمپ کا اکاؤنٹ کیپیٹل ہل پر حملے کے ایک روز بعد سات جنوری کو معطل کر دیا تھا۔ اس اقدام کا نئے نگرانی بورڈ کی جانب سے جائزہ لیا جا رہا ہے جسے اس طرح کے متنازعہ اقدام پر حتمی فیصلہ کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

فیس بک کے چیف مارک زکربرگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اکاؤنٹ کی معطلی کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا ’ہمیں یقین ہے کہ اُس وقت صدر ٹرمپ کو مسلسل اپنی سروس کو استعمال کرنے کی اجازت دیے رکھنے میں بہت خطرات تھے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ پر ٹوئٹر اور یو ٹیوب کی طرف سے بھی پابندی عائد ہے۔