• 425
    Shares

فیس بک کی ایک سابق عہدیدار فرانسس ہوگن نے امریکی سینیٹ کو بتایا ہے کہ فیس بک کی مصنوعات بچوں اور جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہیں۔فرانسس ہیوگن نے امریکی سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے بیان میں کہا ہے کہ فیس بک کی انتظامیہ کو معلوم ہے کہ پلیٹ فارم کو کیسے محفوظ بنایا جا سکتا ہے لیکن وہ منافع کی غرض سے ایسا کرنے سے گریزاں ہے۔

فرانسس ہیوگن جو فیس بک کی سوک انٹیگرٹی شعبے میں پروڈکٹ مینیجر کے طور پر کام کر چکی ہے، انھوں نے پہلے خفیہ رہ کر امریکی ذرائع ابلاغ کے ساتھ فیس بک کی اندرونی معلومات شیئر کیں۔ اب وہ منظر عام پر آ چکی ہیں۔ان کا کہنا ہے فیس بک کو معلوم ہو چکا ہے کہ لوگوں کے غصے کو ابھار کر ان کو اپنے پیچ پر زیادہ دیر تک روک سکتے ہیں جس کی وجہ سے ان کےمنافع میں اضافہ ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ جانتے ہوئے کہ منافرت والے مواد کی تشہیر سے معاشروں کو نقصان پہنچ رہا ہے لیکن وہ منافع کمانے کے لیے اس کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

فرانس ہوگن کے انسٹاگرام کے بارے میں الزامات بہت سنگین ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ فیس بک کی اپنی ریسرچ کے مطابق انسٹا گرام پلیٹ فارم نوجوانوں کی ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ انسٹاگرام بھی فیس بک کی ہی ملکیت ہے۔

انھوں نے بتایا کہ فیس بک کی اپنی ریسرچ کے مطابق بیس برس سے کم عمر کی 13 فیصد لڑکیوں نے کہا ہے کہ انسٹاگرام کو استعمال کرنے کی وجہ سے ان میں خود کشی کے رجحانات جنم لیتے ہیں۔فرانسس ہیوگن نے کہا ہے کہ اس بارے بہت ریسرچ موجود ہے کہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز نوجوانوں میں ذہنی دباؤ کی ایک وجہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انسٹا گرام پر جہاں لوگ اپنی تصاویر پوسٹ کرتے ہیں اس سے لوگوں میں اپنی جسامت کے حوالے منفی خیالات جنم لیتے ہیں۔فرانسس ہیوگن نے کمپنی میں کام چھوڑنے سے پہلے کمپنی کی اندرونی دستاویزات کی نقل تیار کیں۔ انھوں نے یہ معلومات وال سٹریٹ جرنل کو مہیا کیں اور پچھلے تین ہفتوں سے وہ ان معلومات کو افشا کر رہی ہیں۔

انھوں نے اپنے انکشافات میں کہا ہے کہ فیس بک کے صارفین کے لیے دہرے معیار ہیں۔ مشہور شخصیات، سیاستدانوں اور فیس بک کے ہائی پروفائل صارفین کےساتھ کمپنی کا برتاؤ مختلف ہے۔انھوں نے فیس بک کے شیئر ہولڈرز کی جانب سے کمپنی پر دائر کیے گئے مقدمے کا بھی انکشاف کیا ہے جس میں فیس بک نے کمیرج اینالٹکا ڈیٹا سکینڈل میں یو ایس ٹریڈ کمیشن کے ساتھ پانچ ارب ڈالر کے عوض سمجھوتہ کیا ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔