ممبئی:(ایجنسیز)جہاں مہاراشٹر کے ایم پی-ایم ایل اے جوڑا نونیت رانا اور روی رانا بامبے ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست کر رہے ہیں، وہیں ممبئی کے ایک این سی پی لیڈر نے کہا ہے کہ وہ دہلی میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر ہنومان چالیسہ پڑھنا چاہتی ہیں۔ رانا جوڑے کو ممبئی پولیس نے گزشتہ شب اس وقت گرفتار کیا تھا جب انہوں نے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی رہائش گاہ ماتوشری کے سامنے ہنومان چالیسہ پڑھنے کا اعلان کیا تھا۔ جوڑے کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور عدالت کے حکم پر دونوں کو 14 دن کے لیے عدالتی حرا ت میں بھیج دیا گیا ہے۔ شیو سینا کا کہنا ہے کہ رانا جوڑے نے بی جے پی کے کہنے پر چلیسہ تنازعہ کھڑا کیا ہے۔

دریں اثنا، ممبئی کی این سی پی رہنما فہمیدہ حسن خان نے کہا ہے کہ وہ دہلی میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر نماز پڑھنا چاہتی ہیں، ہنومان چالیسہ، ناموکر منتر (جین منتر)، گرو گرنتھ صاحب (سکھوں کا صحیفہ) اور دیگر مذہبی گرنتھوں کو پڑھنا چاہتی ہیں۔ فہمیدہ خان نے اس سلسلے میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر ان سے اجازت طلب کی ہے۔ اپنے خط میں فہمیدہ نے کہا ہے کہ اگر مذہبی گرنتھوں (صحیفوں) کے پڑھنے سے ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی کو کم کیا جا سکتا ہے تو وہ ضرور ایسا کرنا چاہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس سلسلے میں وزیر داخلہ سے اجازت طلب کی ہے۔ اگر ہندوتوا اور جین مت وغیرہ کو فروغ دینے سے ملک میں مہنگائی، بے روزگاری اور بھوک جیسے مسائل کم ہوتے ہیں تو وہ ضرور ایسا کرے گی۔فہمیدہ خان کی اس تجویز کو بی جے پی کی چالیسہ سیاست کے جواب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ فہمیدہ خان کی تجویز کی بالواسطہ حمایت کرتے ہوئے شیو سینا کے ترجمان سامنا نے لکھا ہے کہ بی جے پی دراصل مہاراشٹر میں مہا وکاس اگھاڑی حکومت کو گرانے کی کوشش کر رہی ہے اور ہنومان چالیسہ تنازعہ صرف بی جے پی کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔ سامنا نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ ’’حالیہ دنوں میں ہندوتوا کے نام پر بی جے پی نے جو ہنگامہ کھڑا کیا ہے اسے درست نہیں کہا جا سکتا…

اس سارے تنازع کے پیچھے بی جے پی کا ہاتھ ہے۔ وہ ان ایم پی- ایم ایل اے کا استعمال کرکے ممبئی کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں۔ بی جے پی کے کہنے پر پیدا ہونے والے تنازعہ سے شیو سینک ناراض ہیں اور اسی وجہ سے ایم پی جوڑے کو گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔نونیت رانا اور روی رانا کے سیاسی تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے سامنا نے کہا کہ اس جوڑے کے نظریاتی اتحاد پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ سامنا نے کہا ہے کہ ’’جب پارلیمنٹ میں رکن پارلیمنٹ بھگوان رام کے نام پر حلف لے رہے تھے تو نونیت رانا نے اس کی مخالفت کی تھی۔ یہ حیرت کی بات ہے کہ آج بی جے پی اس جوڑے کے آگے پیچھے ناچ رہی ہے، کیونکہ اس نے ہندوتوا سے متعلق دیگر مسائل کو اٹھایا ہے۔ سامنا نے کہا ہے،نونیت رانا نے فرضی دستاویزات کی بنیاد پر امراوتی سے لوک سبھا الیکشن لڑا تھا۔ نونیت کور رانا اور اس کے والد ہربھجن سنگھ کنڈلیس نے جعلی دستاویزات کا استعمال کرکے ذات کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا ہے۔