فکر اسلامی: تم اسے بیگانہ رکھو عالمِ کردارسے

0 87

شبیع الزماں (پونہ)

قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں انسانی تاریخ کے صفحات پر ثبت ہیں۔ان داستانوں کا مطا لعہ بتاتا ہے کہ قومیں گمنامی کے گوشوں سے ابھرتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا پر چھا جاتی ہیں۔ غالب قوموں کی عظمت اور شوکت کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس عروج کو کبھی زوال نہیں ہوگا۔لیکن ان کا فطری وقت ختم ہوتے ہی ہر کمالے را زوالے
(every rise has a fall)
کے ابدی اصول کے تحت انکی بساط لپیٹ دی جاتی ہے۔ جس کے بعد بعض قومیں سو جاتی ہیں،کچھ تاریخ کے دھندلکوں میں کھو جاتی ہیں،بعض قعر ذلت میں ایسی گری کہ پھر کبھی انکو اٹھنا نصیب نہ ہوا۔ اور کچھ تو صفحہ ہستی سے اس طرح مٹ گئی کہ گویا انکا وجود تھا ہی نہیں۔ تاریخ میں انکی حیثیت ایک داستان عبرت کی سی رہ گئی۔

اسلام اور مسلمانوں کو بھی ایسا ہی زبردست غلبہ حاصل ہوا تھا۔مسلمانوں کی طاقتور حکومتیں دنیا میں قائم ہوئیں۔ سائنس ،ٹکنالوجی،علوم و فنون،طب،تاریخ ،ادب، علوم عمرانیات،سیاسی و انتظامی امور، دولت و حشمت میں کوئی قوم انکے ہم پلہ نہیں تھی۔ایک طویل عرصہ تک دنیا پر مسلمانوں کا دبدبہ قائم رہا۔جن فطری اصولوں کے تحت انکو غلبہ حاصل ہوا تھا انھیں بے رحم قوانین کے تحت زوال انکا مقدر بنا۔

اس زوال کے ساتھ ہی اسلامی نشاۃالثانیہ کی کوششیں بھی امت میں شروع ہوگئیں اور مسلمانوں کے اندر احیائی تحریکیں اٹھنا شروع ہوگئی۔جمال الدین افغانی جنہیں احیائی تحریکوں کا باوا آدم کہا جا تا سے لیکر سید ابو الاعلیٰ مودودی جنہوں تحریک اسلا می کو منتہائے کمال تک پہنچا دیا، نے اسلامی تحریکات کو ایک منظم فکر،مربوط طریقہ کار اور مدلل لٹریچر دیا۔یہ تحریکیں اس عزم کے ساتھ اٹھیں کہ؂

آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئنہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہوجائے گی
پھر دلوں کو یاد آجائے گا پیغام سجود
پھر جبیں خاک حرم سے آشنا ہوجائے گی

ان تحریکات کے اٹھنے سے پہلے مسلمانوں میں خلافت کا ٹوٹا پھوٹا ہی سہی لیکن ایک نظام قائم تھا۔ اس لیے ان سے پہلے کی کوششیں تجدیدی اور اصلاحی نوعیت کی تھیں۔ان احیائی تحریکوں کے کام کی نوعیت انقلابی ہے۔

اس دور زوال میں بعض لوگ اس فکر و خیال کے بھی پیدا ہوئے کہ بلا شبہ اسلام ایک برتر مذہب اور اسلامی تہذیب ایک برتر تہذیب ہے لیکن سچائی بہر حال یہی ہے کہ یہ اپنے سے کم تر تہذیب سے شکست کھا گئی ہے۔دن بہ دن گہرا ہوتا انحطاط ،مٹتے عظمت کے نشان، گرتی قدریں ان سب اسباب نے ایک مایوسی کی کیفیت پیدا کردی۔اسی صورت حال کی طرف حالی نے اشارہ کیا تھا ؂

پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
اسلام کا گرکر نہ ابھرنا دیکھے
مانے نہ کبھی مد ہے ہر جذر کے بعد
دریا کا جو ہمارے اترنا دیکھے

اسی شکست خوردہ ذہنیت میں حالات کے نشیب و فراز ،امت مسلمہ کی گرتی ساکھ ،مسلم ممالک کی ابتر حالت،احیائی تحریکوں کا اپنے مقاصد میں کامیابی سے بڑھتا فاصلہ،امت مسلمہ کی روز بہ روز بگڑتی تہذیبی اور اخلاقی صورت حال اور موجودہ قوموں اور تہذیبوں کا زبر دست غلبہ دیکھ کر ایک عجیب قسم کی فکر یہ بھی پیدا ہوئی کہ دین سرے سے کوئی غلبہ ہی نہیں چاہتا۔اسکے مزاج اور فطرت میں کوئی انقلابی پیغام ہی نہیں ہے۔یہ کسی اجتماعی قانون کے نفاذ کے لیے کسی عملی جدوجہد کا تقاضا کرتا ہی نہیں۔اسکی تعلیمات میں اس طرح کی اجتماعی جدوجہد کے متعلق کوئی احکامات سرے سے ہیں ہی نہیں ، بلکہ خلافت جیسی اصطلاح بھی قرآ نی اصطلاح نہیں ہے۔ اسکی تعلیمات میں اجتماعی نظم سے متعلق کوئی احکامات نہیں ہیں بلکہ ارباب حل وعقد کو دی گئی چند نصیحتیں اور اخلاقی اصول ہیں۔دین کا نفاذ، اس کے حدود کی اقامت اور اسلامی نظام کا قیام اس طرح کا کوئی مطالبہ مسلمانوں سے ہے ہی نہیں۔انکی ذمہ داری صرف وعظ نصیحت،تقریر و تذکیر اور تبلیغ و تلقین ہے۔دوسرے مذاہب کی طرح اسلام بھی صرف انسان کی ذات، اسکے اخلاق اور تزکیہ سے متعلق احکامات کا مجموعہ ہے۔معاشرہ،سماج اور حکومت اس کے مخاطب ہیں ہی نہیں۔اسکا اصل مخاطب صرف فرد کی ذات ہے۔

اس طرح کی خیالات اس زمانے میں بھی اٹھتے رہے ہیں جب مسلمان دنیا پر غالب تھے لیکن اس طرح کے عجیب خیالات عروج کے زمانے میں کوئی خاص اثر نہیں چھوڑ پائے لیکن زوال کے دور میں اور بالخصوص جبکہ ان افکار کو ایک مربوط فکر کی صورت میں پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے مرعوب ذہنوں کا متاثر ہونا لازمی ہے۔موجودہ زمانے میں اس فکر کوسب سے پہلے مولانا وحید الدین خان صاحب نے پیش کیا تھا اور اب اسی فکر کو نئے اسلوب میں جاوید احمد غامدی صاحب بیان کر رہے ہیں۔وحید الدین کے بالمقابل غامدی صاحب کی آواز نے لوگوں کے بڑے طبقہ کو متاثر کیا، وحید الدین خان صاحب اپنی بات رکھنے کے لیے استخراجی منطق کا استعمال کرتے تھے اسکے بالمقابل غامدی صاحب راست قرآن سے استدلال کرتے ہیں۔ اور دوسری بڑی وجہ وحید الدین خان صاحب کو صرف تحریر پر عبور تھا لیکن غامدی صاحب تحریر کے ساتھ گفتگو میں بھی عبور رکھتے ہیں بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انکا اصل استدلال انکی گفتگو میں ہی ہے۔

تحریکات اسلامی کے لٹریچر میں غیر مسلموں کے اسلام اور اسلامی نظام پر کئے گئے اعتراضات کے جوابات ہیں لیکن خود مسلمانوں کے ذریعہ اٹھائے گئے سوالات کے بہت باضابطہ جوابات موجود نہیں ہے۔ ضرورت ہے ان افکار کے بھی مدلل جوابات لکھے جائیں؂

تم اسے بیگانہ رکھو عالمِ کردار سے
تا بساطِ زندگی میں اس کے سب مہرے ہوں مات!
خیر اسی میں ہے قیامت تک رہے مومن غلام
چھوڑ کر اوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات
ہے وہی شعر و تصوف اس کے حق میں خوب تر
جو چھپا دے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات!
ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتسابِ کائنات!
مست رکھو ذکر و فکرِ صبحگاہی میں اسے
پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے​
(ابلیس کی مجلس شوریٰ: علامہ اقبال)